ولید نے اوزاعی سے ، انہوں نے ابو عمار ۔ ان کا نام شداد بن عبداللہ ہے ۔ سے ، انھوں نے ابو اسماء سے اور انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ استغفار کرتےاور اس کے بعد کہتے : اللہم انت السلام و منك السلام ، تباركت ذاالجلال والاكرام ’’ اے اللہ ! تو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے ، تو صاحب رفعت و برکت ہے ، اے جلال والے اور عزت بخشنے والے ! ‘ ‘ ولید نے کہا : میں نے اوزاعی سے پوچھا : استغفار کیسے کیا جائے ؟ انھوں نے کہا : استغفر اللہ ، استغفر اللہ کہے ۔
ابو بکر بن ابی شبیہ اور ابن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا ہمیں ابو معاویہ نے عاصم سے حدیث سنائی ، انھوں نے عبداللہ بن حارث سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی ، کہا رسول اللہ ﷺ سلام پھیرنے کے بعد صرف یہ ذکر پڑھنے تک ہی ( قبلہ رخ ) بیٹھتے : اللہم ! انت السلام ومنک السلام تبارکت ذاالجلال والاکرام ’’اے اللہ ! تو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے ، تو صاحب رفعت وبرکت ہے ، اے جلال والے اور عزت بخشنے والے ! ‘ ‘ ابن نمیر کی روایت میں : یا ذالجلال والاکرام ( یا کے اضافے کے ساتھ ) ہے
شعبہ نے عاصم اور خالد سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن حارث سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے اسی کے مانند روایت کی ، مگر وہ ( شعبہ یا کے اضافے کے ساتھ ) یا ذاالجلال والاکرام کہا کرتے تھے ۔
منصور نے مسیّب بن رافع سے ، انھوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ وراد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ( ان کے مطالبے پر ) معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجا کہ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہو کر سلام پھیرتے تو فرماتے : ’’ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، حکومت اور فرمانروائی اسی کی ہے ، وہی شکرو ستائش کا حقدار ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ اے اللہ ! جو کچھ تو کسی کودے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اورجس چیز کو تو روک لے کوئی اسے دے سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فاعدہ نہیں دے سکتی
ابوبکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب اور احمد بن سنان نے ہمیں حدیث بیان کی ، ان سب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سےحدیث سنائی ، انھوں نے مسیب بن رافع سے ، انھون نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ وراد سے ، انھوں نےحضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت بیا ن کی ۔ ابو بکر اور ابو کریب نے اپنی روایت میں : ( وراد نے ) کہا : مغیرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات مجھے لکھوائی اور میں نے یہ بات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھ بھیجی ۔
ابن عون نے ابو سعید سے ، انھوں نے ورّاد سے ۔ جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کےکاتب تھے ۔ روایت کی ، کہا : معاویہ رضی اللہ عنہ نےمغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا ( مسئلہ دریافت کیا ) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( آگے ) منصور اور اعمش کی حدیث کے مطابق ( ہے ۔)
سفیان نے کہا : ہمیں عبدہ بن ابی لبابہ اور عبدالملک بن عمیر نے حدیث سنائی ، انھوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب ورّاد سے سنا ، وہ کہتے تھے : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو ، تو انھوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، جب آپ نماز ختم کر لیتے تو فرماتے : لاإله إلا الله وحده لاشريك له ، له مالملك ولاه الحمد ، وهو علي كل شيء قدير ، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذالجد منك الجد ’’ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا اور یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، حکومت اور فرمانروائی اسی کی ہے ، وہی شکرو ستائش کا حقدار ہے اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ اے اللہ ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی ۔ ‘ ‘
سفیان نے کہا : ہمیں عبدہ بن ابی لبابہ اور عبدالملک بن عمیر نے حدیث سنائی ، انھوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب ورّاد سے سنا ، وہ کہتے تھے : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو ، تو انھوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، جب آپ نماز ختم کر لیتے تو فرماتے : لاإله إلا الله وحده لاشريك له ، له مالملك ولاه الحمد ، وهو علي كل شيء قدير ، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذالجد منك الجد ’’ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا اور یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، حکومت اور فرمانروائی اسی کی ہے ، وہی شکرو ستائش کا حقدار ہے اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ اے اللہ ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی ۔ ‘ ‘
محمد کے والد عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے ابو زبیر سے حدیث سنائی ، کہا : ( عبداللہ ) زبیر رضی اللہ عنہما سلام پھیر کر ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہتے تھے : ’’ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں ، حکومت اور فرمانروائی اسی کی ہے اور وہی شکر و ستائش کا حقدار ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے ۔ گناہوں سے بچنے کی توفیق اور نیکی کرنے کی قوت اللہ ہی سے ( ملتی ) ہے ، اس کے سوا کوئی الہ و معبود نہیں ۔ ہم اس کےسوا کسی کی بندگی نہیں کرتے ، ہر طرح کی نعمت اور سارا فضل و کرم اسی کا ہے ، خوبصورت تعریف کا سزا وار بھی وہی ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، ہم اس کے لیے دین میں اخلاص رکھنے والے ہیں ، چاہے کافر اس کو ( کتنا ہی ) نا پسند کریں ۔ ‘ ‘ اور کہا کہ رسو ل اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد بلند آواز سے لا الہ الا اللہ والے یہ کلمات کہا کرتے تھے ۔