یحییٰ بن یحییٰ ، ابو ربیع اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ یحییٰ نے کہا : ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفرانی رنگ ( سے رنگے کپڑے پہننے ) سے منع فرمایا ۔ قتیبہ نے کہا کہ حماد نے کہا : یعنی مردوں کو ( منع فرمایا)
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو زعفرانی رنگ ( پہننے ) سے منع فرمایا ۔
ابوخیثمہ نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : فتح مکہ کے سال یا فتح مکہ کے دن حضرت ابو قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لایاگیا ، وہ آئے اور ان کے سر اور داڑھی کےبال ثغام یا ثغامہ ( کے سفید پھولوں ) کی طرح تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر کی عورتوں کوحکم دیا ، یا ان کے بارے میں ( ان کےگھر کی عورتوں کو ) حکم دیا گیا ، فرمایا : " اس ( سفیدی ) کو کسی چیز ( اور رنگ ) سے بدل د یں ۔
ابن جریج نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : فتح کہ کے دن حضرت ابوقحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لایا گیا ، ان کے سر اورداڑھی کے بال سفیدی میں ثغامہ ( کے سفید پھولوں ) کی طرح تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اس ( سفیدی ) کو کسی چیز سے تبدیل کردو اور سیاہ رنگ سے اجتناب کرو ۔
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہود اوراور نصاریٰ ( بالوں کو ) رنگ نہیں لگا تے تم ان کی مخالفت کرو ( بالوں کو رنگ لگا ؤ ۔)
عبد العزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا کہ وہ ایک خاص گھڑی میں ان کے پاس آئیں گے ، چنانچہ وہ گھڑی آگئی لیکن جبرئیل علیہ السلام نہ آئے ۔ ( اس وقت ) آپ کے دست مبارک میں ایک عصاتھا ۔ آپ نے اسے اپنے ہا تھا سے ( نیچے پھینکا اور فرمایا : " نہ اللہ تعا لیٰ اپنے وعدے کی خلا ف ورزی کرتا ہے نہ رسول ( خلا ف ورزی کرتے ہیں ۔ ) " جبریل امین علیہ السلام بھی وحی لے کر انبیا ء علیہ السلام کی طرف آنے والے اللہ کے رسول تھے ) پھر آپ نے دھیان دیا تو ایک چار پا ئی کے نیچے کتے " کا ایک پلا تھا ۔ آپ نے فرما یا : " عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ! یہ کتا یہاں کب گھسا ؟ " انھوں نے کہا : واللہ !مجھے بالکل پتہ نہیں چلا ۔ آپ نے حکم دیا تو اس ( پلے ) کو نکال دیا گیا ، پھر جبریل علیہ السلام تشریف لے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما یا : " آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا میں آپ کی خاطر بیٹھا رہا لیکن آپ نہیں آئے ۔ " انھوں نے کہا آپ کے گھر میں جو کتا تھا ، مجھے اس نے روک لیا ہم ایسے گھر میں دا خخل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو ۔ نہ ( اس میں جہاں تصویر ہو ۔)
حدیث 5512 — صحيح مسلم 37:127
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَبِي، حَازِمٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ جِبْرِيلَ، وَعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْتِيَهُ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يُطَوِّلْهُ كَتَطْوِيلِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ .
ہمیں وہب نے اسی سند کے ساتھ ابو حازم سے حدیث سنا ئی کہ جبرا ئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ آپ کے پاس آئیں گے پھر حدیث بیان کی اور ابو حازم کے بیٹے کی طرح لمبی تفصیل نہیں بتا ئی ۔
حدیث 5513 — صحيح مسلم 37:128
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي " . قَالَ فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَنَا فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ مَكَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ لَهُ " قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ " . قَالَ أَجَلْ وَلَكِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةٌ . فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ حَتَّى إِنَّهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ .
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے بتا یا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فکر مندی کی حالت میں صبح کی ۔ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آج دن ( کے آغاز ) سے آپ کی حالت معمول کے خلا ف دیکھ رہی ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آج رات مجھ سے ملیں گے لیکن وہ نہیں ملے ۔ بات یہ ہے کہ انھوں نے کبھی مجھ سے وعدہ خلا فی نہیں کی ، " کہا : تو اس روز پورا دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت یہی رہی پھر ان کے دل میں کتے کے ایک پلے کا خیال بیٹھ گیا ۔ جو ہمارے ( ایک بستر کے نیچے بن جا نے والے ) ایک خیمہ ( نما حصے ) میں تھا ۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے نکا ل دیا گیا ، پھر آپ نے اپنے دست مبارک سے پانی لیا اور اس جگہ پر چھڑک دیا ۔ جب شام ہو ئی تو جبرائیل علیہ السلام آ کر آپ سے ملے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھے کل رات ملیں گے؟انھوں نے کہا ہاں بالکل لیکن ہم ایسے گھر میں ادا خل نہیں ہو تے جس میں کتا یا تصویر ہو ۔ پھر جب صبح ہو ئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آوارہ یا بے کا ر ) کتوں کو مارنے دینے کا حکم دیا ، یہاں تک کہ آپ باغ یا کھیت کے چھوٹے کتے کو بھی ( جورکھوالی نہیں کر سکتا ) مارنے کا حکم دے رہے تھے اور باغ کھیت کے بڑے کتے کو چھوڑ رہے تھے ۔ ( ایسے کتے گھروں سے باہر ہی رہتے ہیں اور واقعی رکھوالی کی ضرورت پو ری کرتے ہیں)
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔