یو نس نے مجھے ابن شہا ب سے ، خبر دی انھوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سئے روایت کی کہ انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یو نس کی حدیث کے مانند اور سند میں خبر دینے کی صرا حت کرتے ہو ئے روایت کی ۔
حدیث 5517 — صحيح مسلم 37:132
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ " . قَالَ بُسْرٌ ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ بَعْدُ فَعُدْنَاهُ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ - قَالَ - فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلاَنِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الأَوَّلِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ إِلاَّ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ .
لیث نے ہمیں بکیر سے حدیث سنا ئی انھوں نے بسربن سعید سے ، انھوں نے زید بن خالد سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو طلحہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : "" فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کو ئی تصویر ہو ۔ "" بسر نے کہا : پھر اس اس کے بعد حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے ۔ ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو ( دیکھا ) ان کے دروازے پر ایک پردہ تھا جس میں تصویر ( بنی ہو ئی ) تھی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لے پا لک عبید اللہ خولا نی سے کہا : کیا حضرت زید نے پہلےدن ( جب ملا قات ہو ئی تھی ۔ ) ہمیں تصویر ( کی ممانعت ) کے بارے میں خبر ( حدیث ) بیان نہیں کی تھی؟ تو عبید اللہ نے کہا : جب انھوں نے "" کپڑے پربنے ہو ئے نقش کے سوا "" کے الفاظ کہے تھے تو کیا تم نے نہیں سنے تھے؟
مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی کہ انھیں بکیر بن اشج نے حدیث سنا ئی ، انھیں بسر بن سعید نے حدیث سنائی کہ زید بن خالد جہنی نے انھیں حدیث سنائی اور ( اس وقت ) بسر کے ساتھ عبید اللہ خولا نی تھے ۔ ( کہا ) حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں تصویر ہو ۔ بسر نے کہا : پھر حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے ، ہم ان کی عیا دت کے لیے گئے تو ہم نے ان گھر میں ایک پردہ دیکھا جس میں تصویریں تھیں میں نے عبید اللہ خولا نی سے کہا : کیا ( حضرت زید بن خالد نے ) ہمیں تصاویر کے متعلق حدیث بیان نہیں کی تھی ؟ ( عبید اللہ نے ) کہا : انھوں نے ( ساتھ ہی یہ ) کہا تھا : " سوائے کپڑے کے نقش کے " کیا آپ نے نہیں سنا تھا " میں نے کہا : نہیں انھوں نے کہا : کیوں نہیں ! انھوں نے اس کا ذکر کیا تھا ۔
بنو نجار کے آزاد کردہ غلا م ابو حباب سعید بن یسار نے حضرت زید بن خالد جہنی سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے " اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو ، نہ ( اس میں جہاں ) مجسمے ہوں ۔
بنو نجار کے آزاد کردہ غلا م ابو حباب سعید بن یسار نے حضرت زید بن خالد جہنی سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے " اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو ، نہ ( اس میں جہاں ) مجسمے ہوں ۔
اسماعیل بن ابراہیم نے داود سے ، انھوں نے عزرہ سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمان سے ، انھوں نے سعد بن ہشام سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ہمارے ہاں ایک پردہ تھا جس میں پرندے کی تصویر تھی ، جب کوئی شخص اندر آتا یہ تصویر اس کےسامنے آجاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " اس پردے کو ہٹا دو کیونکہ میں جب بھی اندر آتا ہوں ۔ اور اس پردے کو دیکھتا ہوں تو دنیا کو یاد کرتا ہوں ۔ " حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ہمارے پاس ایک چادر تھی ، ہم کہتےتھے کہ اس کے کناروں پر سلا ہوا کپڑا ریشم ہے ، ہم اس چادر کو پہنتے تھے ۔
اسماعیل بن ابراہیم نے داود سے ، انھوں نے عزرہ سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمان سے ، انھوں نے سعد بن ہشام سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ہمارے ہاں ایک پردہ تھا جس میں پرندے کی تصویر تھی ، جب کوئی شخص اندر آتا یہ تصویر اس کےسامنے آجاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " اس پردے کو ہٹا دو کیونکہ میں جب بھی اندر آتا ہوں ۔ اور اس پردے کو دیکھتا ہوں تو دنیا کو یاد کرتا ہوں ۔ " حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ہمارے پاس ایک چادر تھی ، ہم کہتےتھے کہ اس کے کناروں پر سلا ہوا کپڑا ریشم ہے ، ہم اس چادر کو پہنتے تھے ۔
حدیث 5523 — صحيح مسلم 37:136
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ سَتَّرْتُ عَلَى بَابِي دُرْنُوكًا فِيهِ الْخَيْلُ ذَوَاتُ الأَجْنِحَةِ فَأَمَرَنِي فَنَزَعْتُهُ .
ابو اسامہ نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس آئے ، میں نےروئیں دار کپڑا دروازے کا پردہ بنایا ہوا تھا جس پر پروں والے گھوڑوں کی تصویریں تھیں تو آپ نے مجھے ( اتار نے کا ) حکم دیا تو میں نے اس کو اتاردیا ۔