ابراہیم بن سعد نے زہری سے ، انہوں نے قاسم بن محمد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک موٹے سے کپڑے کا پردہ لٹکایا ہوا تھا ، اس پر تصویر تھی تو آپ کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا ۔ پھر آپ نے پردہ کو پکڑا اور پھاڑ دیا ، پھر فرمایا؛ " قیامت کے دن شدید ترین عذاب میں پڑے ہوئے لوگوں میں سے وہ ( بھی ) ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ( جاندار ) اشیاء کے جیسی ( مشابہ ) بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے قاسم بن محمد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ، ( آگے اسی طرح ) جس طرح ابراہیم بن سعد کی حدیث ہے ، البتہ انھوں نے کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ( پردے ) کی طرف لپکے اور اپنے ہاتھ سے اس کو پھاڑ دیا ۔
سفیان بن عینیہ اور معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ان دونوں کی حدیث میں ہے : " لوگوں میں سے شدید ترین عذاب میں پڑے ہوئے ( وہ لوگ ہوں گے ) " انھوں نے " میں سے " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، وہ کہہ رہی تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے اپنے طاق پر موٹا ساکپڑے کا پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں تصویریں تھیں ۔ جب آپ نے اس کے پردے کو دیکھا تو اس کو پھاڑ ڈالاآپ کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ نے فرمایا؛ "" عائشہ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے شدید عذاب کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی مشابہت کریں گے ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ہم نے اس پردے کو کاٹ دیااور اس سے ایک یا دو تکیے بنا لیے ( ایک یا دو کے بارے میں شک راوی کی طرف سے ہے ۔)
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے قاسم سے سنا ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کررہے تھے کہ ان کے پاس ا یک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں ، وہ طاق پر لٹکا ہوا تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف رخ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کو مجھ سے ہٹا دو ۔ " تو میں نے اس کو ہٹا دیا اور اسکے تکیے بنالیے ۔
سعید بن عامر اور ابو عامر عقدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
حدیث 5531 — صحيح مسلم 37:144
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَىَّ وَقَدْ سَتَرْتُ نَمَطًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَنَحَّاهُ فَاتَّخَذْتُ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ .
وکیع نے سفیان سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن قاسم سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، اور میں نے ایک بچھانے والے کپڑے کا پردہ بنایا ہواتھا ، اس میں تصویریں تھیں ، آپ نے اس کو ہٹوادیا اور میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے ۔
حدیث 5532 — صحيح مسلم 37:145
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَزَعَهُ قَالَتْ فَقَطَعْتُهُ وِسَادَتَيْنِ . فَقَالَ رَجُلٌ فِي الْمَجْلِسِ حِينَئِذٍ يُقَالُ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَطَاءٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ أَفَمَا سَمِعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ يَذْكُرُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا قَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ لاَ . قَالَ لَكِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ . يُرِيدُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ .
بکیر نے کہا : عبدالرحمان بن قاسم نے انھیں حدیث بیان کی ، انھیں ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے ایک پردہ لٹکا رکھاتھا جس میں تصاویر تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے تو آپ نے اس پردے کو اتار دیا ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں اس کو کاٹ کر دو تکیے بنالیے ، ( جب یہ حدیث بیان کی جارہی تھی ) تواس مجلس میں ایک شخص نے ، جو ربیعہ بن عطاء کہلاتے تھے ، بنو زہری کے مولیٰ تھے ، کہا : کیا آپ نے ابو محمد ( قاسم بن محمد ) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں ( تکیوں ) کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے؟تو ( عبدالرحمان ) ابن قاسم نے کہا : نہیں ، اس نے کہا : لیکن میں نے یقیناً ( ان سے ) یہ بات سنی تھی ۔ ان کی مراد ( ان کےوالد ) قاسم بن محمد سے تھی ۔
حدیث 5533 — صحيح مسلم 37:146
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرَقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ أَوْ فَعُرِفَتْ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَمَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ " . فَقَالَتِ اشْتَرَيْتُهَا لَكَ تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " . ثُمَّ قَالَ " إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُهُ الْمَلاَئِكَةُ " .
اما مالک رحمۃ اللہ علیہ نے نافع سے ، انھوں نے قاسم بن محمد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ انھوں نے ایک ( چھوٹا سا بیٹھنے کے لئے ) گدا خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( گدے ) کو دیکھا تو آ پ دروازے پر ٹھہر گئے اور اندر داخل نہ ہوئے ، میں نے آپ کے چہر ے پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس کیے ، ( یا کہا : ) آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کی آثار محسوس ہوئے ، تو انھوں ) ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں ( سچے دل سے ) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے توبہ کرتی ہوں ۔ میں نے کیاگناہ کیا ہے؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ گدا کیسا ہے؟ " انھوں نے کہا : میں نے یہ آپ کے لئے خرید اہے ۔ تا کہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان تصویروں ( کےبنانے ) والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائےگا اوران سے کہا جائے گا : تم نے جو ( صورتیں ) تخلیق کی ہیں ، ان کو زندہ کرو ۔ " پھر فرمایا؛ " جس گھر میں تصویریں ہوں ان میں فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔
قتیبہ اور ابن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی ، اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں ثقفی نے خبر دی ، کہا : ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی ، عبدالوارث بن عبدالصمد نےکہا : ہمیں میرے والد نے میرے دادا کے واسطے سے ایوب سے حدیث بیان کی ، ہارون بن سعید ایلی نے کہا : ہمیں ابن وہب نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے اسامہ بن زید نے خبر دی ، ابو بکر اسحاق نے کہا : ہمیں ابو سلمہ خزاعی نے حدیث بیا ن کی ، کہا : ہمیں ماجثون کے بھتیجے عبدالعزیز نے عبیداللہ بن عمر سے خبر دی ، ان سب ( لیث بن سعد ، ایوب ، اسامہ بن زید اور عبیداللہ بن عمر ) نے نافع سے ، انھوں نے قاسم سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ حدیث روایت کی ، ان میں سے بعض کی حدیث بعض کی نسبت زیادہ مکمل ہے اور ( ابو سلمہ خزاعی نے ) ابن ماجثون کے بھتیجے سے روایت کردہ حدیث میں یہ اضافہ کیا : انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے فرمایا : میں نے اس گدے کو لے کر اس کے دو تکیے بنا لیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں ان کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے ۔