قرآني·Qurani
اردو

المساجد ومواضع الصلاة

409 احادیث · #1161–1569

حدیث 1461 — صحيح مسلم 5:294
وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ كَانَ الْحَجَّاجُ يُؤَخِّرُ الصَّلَوَاتِ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ ‏.‏
معاذ عنبری نے شعبہ سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ حجاج نمازوں میں تاخیر کر دیتا تھا تو ہم نے جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) غندر کی روایت کی طرح ہے ۔
حدیث 1462 — صحيح مسلم 5:295
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَيَّارُ بْنُ سَلاَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُ أَبَا بَرْزَةَ، عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - قُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ فَقَالَ كَأَنَّمَا أَسْمَعُكَ السَّاعَةَ - قَالَ - سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُهُ عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَانَ لاَ يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِهَا - قَالَ يَعْنِي الْعِشَاءَ - إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ وَلاَ يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلاَ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ يَذْهَبُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ - قَالَ - وَالْمَغْرِبَ لاَ أَدْرِي أَىَّ حِينٍ ذَكَرَ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ وَكَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ جَلِيسِهِ الَّذِي يَعْرِفُ فَيَعْرِفُهُ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ ‏.‏
خالد بن حارث نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے سیار بن سلامہ نے خبر دی ، کہا : میں نے سنا کہ میرے والد ، حضرت ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھ رہے تھے ۔ ( شعبہ نے ) کہا : میں نے پوچھا : کیا آپ نے خود انھیں سنا ؟ انھوں نے کہا : ( اسی طرح ) جیسے میں ابھی تمھیں سن رہا ہوں ، کہا : میں نے سنا ، میرے والد ان سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں سوال کر رہے تھے ، انھوں نے بتایا کہ آپ اس ، یعنی عشاء کی نماز کو کچھ ( تقریباً ) آدھی رات تک مؤخر کرنے میں مضائقہ نہ سمجھتے تھے اور اس نماز سے پہلے سونے اور اس کے بات چیت کرنے کو نا پسند فرماتے تھے ۔ شعبہ نے کہا : میں بعد ازاں ( دوبارہ ) ان سے ملاتو میں نے ان سے ( پھر ) پوچھا تو انھوں ( سیار ) نے کہا : آپ ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے وقت پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان نماز پڑھ کر مدینہ کے دور ترین حصے تک پہنچ جاتا اور سورج ( اسی طرح ) زندہ ( روشن اور گرم ) ہوتا تھا اور انھوں نے کہا : مغرب کے لیے میں نہیں جانتا ، انھوں نے کون سا وقت بتایا تھا ۔ ( شعبہ نے ) کہا : میں اس کے بعد ( پھر ) سیار سے ملا اور ان سے پوچھا تو انھوں نے بتایا : ( آپ ﷺ ) صبح کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان سلام پھیرتا اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے انسان کے چہرے کو ، جسے وہ جانتا ہوتا ، دیکھتا تو اسے پہچان لیتا اور آپ اس ( نماز ) میں ساٹھ سے سو تک آیتیں تلاوت فرماتے تھے ۔
حدیث 1463 — صحيح مسلم 5:296
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِ صَلاَةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ وَكَانَ لاَ يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلاَ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ أَوْ ثُلُثِ اللَّيْلِ ‏.‏
معاذ عنبری نے شعبہ سے حدیث بیان کی اور انھوں نے سیار بن سلامہ سے روایت کی کہ میں نے ابو برزہ کو کہتے ہوئے سنا ، رسول اللہ عشاء کی نماز میں کچھ ( یعنی ) آدھی رات تک تا خیر کی پروانہ کرتے تھے اور اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے ۔ شعبہ نے کہا : پھر میں انھیں دوبارہ ملاتو انھوں نے کہا : یا تہائی رات تک ۔
حدیث 1464 — صحيح مسلم 5:297
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ الأَسْلَمِيَّ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَيَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَكَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ مِنَ الْمِائَةِ إِلَى السِّتِّينَ وَكَانَ يَنْصَرِفُ حِينَ يَعْرِفُ بَعْضُنَا وَجْهَ بَعْضٍ ‏.‏
(شعبہ کے بجائے ) حماد بن سلمہ نے ابو منہال ( سیار بن سلامہ ) سے روایت کی ، کہا : میں نے ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےسنا ، کہتے تھےکہ رسول اللہ ﷺ عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کر دیتے تھے اور اس سے پہلے سونے اور بعد میں گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے اور صبح کی نماز میں سو سے لے کر ساٹھ تک آیتیں تلاوت فرماتے اور ایسے وقت میں سلام پھیرتے تھے جب ہم ایک دوسرے کے چہرے کو پہچان سکتے تھے
حدیث 1465 — صحيح مسلم 5:298
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا أَوْ يُمِيتُونَ الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ ‏"‏ صَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّ فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ خَلَفٌ عَنْ وَقْتِهَا ‏.‏
خلف بن ہشام ، ابوربیع زہرانی اور ابو کامل جحدری نے حدیث بیان کی کی ، کہا ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو عمران جونی سے ، انھوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انھوں نے حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا : ’’تمھارا کیا حال ہوگا جب تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے یا نماز کو اس کے وقت سے ختم کردیں گے ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کیگ تو آپ مجھے ( اس کے بارے میں ) کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ’’تم اپنے وقت پر نماز پڑھ لینا اگر تمھیں ان کے ساتھ ( بھی ) نماز مل جائے تو پڑھ لینا ، وہ تمھارے لیے نفل ہو جائے گی ۔ ‘ ‘ خلف نےعن وقتھا ( اس کے وقت سے ) کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
حدیث 1466 — صحيح مسلم 5:299
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلاَةَ فَصَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ صَلَّيْتَ لِوَقْتِهَا كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً وَإِلاَّ كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلاَتَكَ ‏"‏ ‏.‏
جعفر بن سلیمان نے ابو عمران جونس سے اسی سند کے ساتھ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے کہا : ’’ابو ذر! میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو ماردیں گے ( ان کا وقت ختم کردیں گے ) تو تم نماز کو اس کے وقت پر پڑھ لینا ، اگر تم نے نماز وقت پرپڑھ لی تو ( ان کے ساتھ ادا کی گئی دوسری نماز ) تمھارے لیے نفل ہو جائے گی ورنہ تم نے اپنی نماز تو بچا ہی لی ہے
حدیث 1467 — صحيح مسلم 5:300
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الأَطْرَافِ وَأَنْ أُصَلِّيَ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا ‏ "‏ فَإِنْ أَدْرَكْتَ الْقَوْمَ وَقَدْ صَلَّوْا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلاَتَكَ وَإِلاَّ كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے ابو عمران سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میرے خلیل نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں سنوں اور فرمانبرداری کروں ، چاہے کٹے ہوئے بازوں والا غلام ( ہی حکمران ) ہو اور یہ کہ میں نماز وقت پر پڑھوں ( آپ ﷺ نے فرمایا : ) ’’پھر اگر تم لوگوں کو اس حالت میں پاؤ کہ انھوں نے نماز پڑھ لی ہے تو تم اپنی نماز بچا چکے ہو ( وقت پر پہلے پڑھ چکے ہو ) ، اور اگر ( انھوں نے نہیں پڑھی اور تم ان کے ساتھ شریک ہوئے ) تو تمھاری یہ نماز نفل ہو گی ۔ ‘ ‘
حدیث 1468 — صحيح مسلم 5:301
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَضَرَبَ فَخِذِي ‏"‏ كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَالَ مَا تَأْمُرُ قَالَ ‏"‏ صَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ اذْهَبْ لِحَاجَتِكَ فَإِنْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلِّ ‏"‏ ‏.‏
بدیل سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے ابو عالیہ سے سنا ، وہ عبداللہ بن صامت سے اور وہ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کر رہے تھے ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور میری ران پر ہاتھ مارا : ’’تمھارا کیاحال ہو گا جب تم ایسے لوگوں میں اپنی بقیہ زندگی گزار رہے ہو گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کردیں گے ؟ ‘ ‘ ( عبداللہ بن صامت نے ) کہا : انھوں نے کہا : آپ کیا حکم دیتے ہیں ؟فرمایا : ’’تم نماز کواس کے وقت پر ادا کرلینا ، اور اپنی ضرورت کے لیے چلے جانا ، پھر اگر نماز کی اقامت کہی گئی اور تم مسجد میں ہوئے تو ( دوبارہ ) پڑھ لینا ۔ ‘ ‘
حدیث 1469 — صحيح مسلم 5:302
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، قَالَ أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلاَةَ فَجَاءَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا فَجَلَسَ عَلَيْهِ فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ وَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ وَقَالَ إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ وَقَالَ ‏ "‏ صَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكَتْكَ الصَّلاَةُ مَعَهُمْ فَصَلِّ وَلاَ تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلاَ أُصَلِّي ‏"‏ ‏.‏
ایوب نے ابو عالیہ برّاء سے روایت کی ، کہا : ابن زیاد نے نماز میں تاخیر کر دی تو میرے پاس عبداللہ بن صامت تشریف لے آئے ، میں نے ان کے لیے کرسی رکھوا دی ، وہ اس پر بیٹھ گئے ، میں نے ان کے سامنے ابن زیاد کی حرکت کا تذکرہ کیا تواس پر انھوں نے اپنا ( نچلا ) ہونٹ دانتوں میں دبایا اور میری ران پر ہاتھ مار کر کہا : جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے ، اسی طرح میں نے ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا تھا ، انھوں نے بھی اسی طرح میری ران پر ہاتھ مارا تھا جس طرح میں نے تمھاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو آپ ﷺ نے میری ران پر ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمھاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور فرمایا : ’’تم نماز بروقت ادا کرلینا ، پھر اگرتمھیں ان کے ساتھ نماز پڑھنی پڑھ تو ( پھر سے ) نماز پڑھ لینا اور یہ نہ کہنا : میں نے نماز پڑھ لی ہے اس لیے اب نہیں پڑھوں گا ۔ ‘ ‘
حدیث 1470 — صحيح مسلم 5:303
وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ ‏ "‏ كَيْفَ أَنْتُمْ - أَوْ قَالَ كَيْفَ أَنْتَ - إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا فَصَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ إِنْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَلِّ مَعَهُمْ فَإِنَّهَا زِيَادَةُ خَيْرٍ ‏"‏ ‏.‏
ابو نعامہ نے عبداللہ بن صامت سےاور انھوں نے حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : آپ ﷺ نے فرمایا : ’’تم لوگوں کا کیا حال ہو گا ‘ ‘ یا فرمایا : ’’تمھاری کیفیت کیا ہو گی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے ؟ تم وقت پر نماز پڑھ لینا ، پھر اگر ( تمھاری موجودگی میں ) نماز کی اقامت ہو تو تم ان کے ساتھ ( بھی ) پڑھ لینا کیونکہ یہ نیکی میں اضافہ ہے ۔ ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔