قرآني·Qurani
اردو

المساجد ومواضع الصلاة

409 احادیث · #1161–1569

حدیث 1481 — صحيح مسلم 5:314
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَدَ نَاسًا فِي بَعْضِ الصَّلَوَاتِ فَقَالَ ‏ "‏ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلاً يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْهَا فَآمُرَ بِهِمْ فَيُحَرِّقُوا عَلَيْهِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ بُيُوتَهُمْ وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا لَشَهِدَهَا ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي صَلاَةَ الْعِشَاءِ ‏.‏
اعرج نےحضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺنے کچھ لوگوں کو ایک نماز میں غیر حاضر پایا تو فرمایا : ’’میں نے ( یہا ں تک ) سوچا کہ کسی آدمی کو لوگوں کی امامت کرانے کا حکم دو ں ، پھر دوسری طرف سے ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز سے پیچھے رہتےہیں اور ان کے بار ے میں ( اپنے کارندوں کو ) حکم دوں کہ لکڑیوں کے گٹھوں سے آگ بھڑکا کر ان کے گھروں کو ان پر جلا دیں ۔ ان میں سے اگرکسی کو یقین ہو کہ نماز میں حاضری سے اسے فربہ ( گوشت سے بھر ہوئی ) ہڈی ملے گی تو وہ اس میں ضرور حاضر ہو جائے گا ۔ ‘ ‘ آپ ﷺ کی مراد عشاء کی نماز سے تھی ۔
حدیث 1482 — صحيح مسلم 5:315
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَثْقَلَ صَلاَةٍ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلاَةُ الْعِشَاءِ وَصَلاَةُ الْفَجْرِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاَةِ فَتُقَامَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لاَ يَشْهَدُونَ الصَّلاَةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ ‏"‏ ‏.‏
ابو صالح نےحضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’منافقوں کے لیے سب سے بھاری نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے ، اگر ان لوگوں کو پتہ چل جائے ، جو ان میں ( خیرو برکت ) ہے تو چاہے انھیں گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے ، ضرور آئیں ۔ اور میں نے سوچاتھا کہ نماز کی اقامت کا حکم دو ں ، پھر کسی شخص کو کہوں وہ لوگوں کو جماعت کرائے ، پھر میں کچھ اشخاص کو ساتھ لے کر ، جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں ، ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ، پھر ان کے گھروں کو ان پر آگ سے جلا دو ں ۔ ‘ ‘
حدیث 1483 — صحيح مسلم 5:316
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَانِي أَنْ يَسْتَعِدُّوا لِي بِحُزَمٍ مِنْ حَطَبٍ ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ تُحَرَّقُ بُيُوتٌ عَلَى مَنْ فِيهَا ‏"‏ ‏.‏
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، کہا : یہ احادیث ہیں جو ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےہمیں رسول اللہ سے روایت کیں ، پھر انھوں نے متعدد احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ بھی تھی کہ رسول اللہ نے فرمایا : ’’میں نے ارادہ کیا تھا کہ اپنے جوانوں کو حکم دوں کہ وہ میری خاطر لکڑی کے گٹھے تیار کریں ، پھر کسی آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، پھر گھروں کو ان کے ( بے نماز ) باسیوں سمیت جلا دیا جائے ۔ ‘ ‘
حدیث 1484 — صحيح مسلم 5:317
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِنَحْوِهِ ‏.‏
یزید بن اصم نے ابو ہریرہ ﷺ سے اور انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کی طرح حدیث روایت کی ہے
حدیث 1485 — صحيح مسلم 5:318
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، سَمِعَهُ مِنْهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ ‏ "‏ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلاً يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ان لوگوں سے جو جمعے سے پیچھے رہ جاتے ہیں ، فرمایا : ’’میں نے ارادہ کیا کہ کسی آدمی کو حکم دو ں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، پھر ان لوگوں کے گھروں کو ان پر ( اس سمیت ) جلادوں جو جمعے سے پیچھے رہتے ہیں
حدیث 1486 — صحيح مسلم 5:319
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ، - قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ، - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ أَعْمَى فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ ‏.‏ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ فَرَخَّصَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَجِبْ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اکی نابینا آدمی حاضر ہوا اور عرض کی : اے اللہ کےرسول ! میرے پاس کوئی لانے والا نہیں جو ( ہاتھ سے پکڑ کر ) مجھے مسجد میں لے آئے ۔ اس نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ اسے اجازت دی جائے کہ وہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لے ۔ آپ نے اسے اجازت دے دی ، جب وہ واپس ہو ا تو آپ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا : ’’کیا تم نماز کا بلاوا ( اذان ) سنتے ہو؟ ‘ ‘ اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : ’’تو اس پر لبیک کہو ۔ ‘ ‘
حدیث 1487 — صحيح مسلم 5:320
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلاَةِ إِلاَّ مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ أَوْ مَرِيضٌ إِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمْشِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ حَتَّى يَأْتِيَ الصَّلاَةَ - وَقَالَ - إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى وَإِنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى الصَّلاَةَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُؤَذَّنُ فِيهِ ‏.‏
عبد الملک بن عمیر نے ابو احوص سے روایت کی ، کہا : حضرت عبداللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نےکہا : ساتھیوں سمیت میں نےخود کو دیکھا کہ نماز سے کوئی شخص پیچھے نہ رہتا ، سوائے منافق کے ، جس کا نفاق معلوم ہوتا یا سوائے بیمار کے اور ( بسا اوقات ) بیمار بھی دو آدمیوں کے سہائے سے چلتا آ جاتا یہاں تک کہ نماز میں شامل ہو جاتا ۔ انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نےہمیں ہدایت کے طریقوں کی تعلیم دی اور ہدایت کے طریقوں میں سے ایسی مسجد میں نماز پڑھنا بھی ہے جس میں اذان دی جاتی ہو ۔
حدیث 1488 — صحيح مسلم 5:321
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلاَءِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم سُنَنَ الْهُدَى وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً وَيَرْفَعُهُ بِهَا دَرَجَةً وَيَحُطُّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلاَّ مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ ‏.‏
علی بن اقمر نے ابو احوص سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی ، کہا : جو یہ چاہے کہ کل ( قیامت کے دن ) اللہ تعالیٰ سے مسلمان کی حیثیت سے ملے تو وہ جہاں سے ان ( نمازوں ) کے لیے بلایا جائے ، ان نمازوں کی حفاظت کرے ( وہاں مساجد میں جا کر صحیح طرح سے انھیں ادا کرے ) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھائے نبی ﷺ کے لے ہدایت کے طریقے مقرر فرما دیے ہیں اور یہ ( مساجد میں باجماعت نماز یں ) بھی انھی طریقوں میں سے ہیں ۔ کیونکہ اگر تم نمازیں اپنے گھروں میں پڑھو گے ، جیسے یہ جماعت سے پیچھے رہنے والا ، اپنے گھر میں پڑھتا ہےتو تم اپنے نبی کی راہ چھوڑ دو گے اور اگر تم اپنے نبی کی راہ کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے ۔ کوئی آدمی جو پاکیز گی حاصل کرتا ہے ( وضوکرتا ہے ) اور اچھی طرح وضو کرتا ہے ، پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد کا رخ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے ، جو وہ اٹھاتا ہے ، ایک نیکی لکھتا ہے ، اور اس کے سبب اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور اس کا ایک گناہ کم کر دیتا ہے ، اور میں نے دیکھا کہ ہم میں سے کوئی ( بھی ) جماعت سے پیچھے نہ رہتا تھا ، سوائے ایسے منافق کے جس کا نفاق سب کو معلوم ہوتا ( بلکہ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ ) ایک آدمی کو اس طرح لایا جاتا کہ اسے دو آ دمیوں کے درمیان سہارا دیا گیا ہوتا ، حتی کہ صف میں لاکھڑا کیا جاتا ۔
حدیث 1489 — صحيح مسلم 5:322
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ يَمْشِي فَأَتْبَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ بَصَرَهُ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ابراہیم بن مہاجر نے ابو شعثاء سے روایت کی ، کہا : ہم مسجد میں حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان کہی ، ایک آدمی مسجدسے اٹھ کر چل پڑا ، حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےمسلسل اس پر نظر رکھی حتی کہ وہ مسجد سے نکل گیا ، حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا : یہ شخص ، یقینا اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے ۔
حدیث 1490 — صحيح مسلم 5:323
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ - عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَرَأَى، رَجُلاً يَجْتَازُ الْمَسْجِدَ خَارِجًا بَعْدَ الأَذَانِ فَقَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
اشعث بن ابی شعثاء محاربی نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا : انھوں نے ایک شخص کو اذان کے بعد مسجد میں سے چل کر باہر نکلتے دیکھتا تو فرمایا : یہ شخص ، بلاشبہ اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔