حضرت انس رضی اللہ عنہ سےروایت کی ، کہا : نبی ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے وہاں میرے ، میری والدہ اور میری خالہ ام حرام کے سوا کوئی نہ تھا ، آپ نے فرمایا : ‘ ‘ کھڑے ہو جاؤ میں تمھیں نماز پڑھا دوں ۔ ٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗ’ ( فرض ) نماز کے وقت کے بغیر ، آپ نے ہمیں نماز پڑھائی ۔ ایک آدمی نے ثابت سے پوچھا : آپ ﷺنے انس رضی اللہ عنہ کو اپنی کس جانب کھڑا کیا تھا؟ انھوں نے کہا : آپ ﷺ نے انہیں اپنے دائیں ہاتھ کھڑا کیا تھا ۔ پھر آپ نے ہمارے ، سب گھر والوں کے لئے دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیوں کی دعا فرمائی ، اس کے بعد میری ماں کہنے لگی : اللہ کے رسول! ( یہ ) آپ کا چھوٹا سا خدمت گزار ہے ، اللہ سے اس کے لئے ( خصوصی ) دعا کریں ۔ کہا : آپ نے میرے لئےہر بھلائی کی دعا کی اور میرے لئے آپ نے جو دعا کی اس کے آخر میں یہ تھا ، آپ نے فرمایا : ‘ ‘ اے اللہ!اس کا مال اور اس کی اولاد زیادہ کر اور اس کے لئے ان میں برکت ڈال دے ۔ ’’
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبداللہ بن مختار سے حدیث سنائی ، انھوں نے موسیٰ بن انس سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺنے انھیں اور ان کی والدہ یا ان کی خالہ کو نماز پڑھائی ، کہا : آپ نے مجھے اپنی دائیں جانب اور عورت کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا ۔
محمد بن جعفر اور عبدالرحمان بن مہدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ یہی حریث بیان کی
حدیث 1504 — صحيح مسلم 5:337
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، كِلاَهُمَا عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ، زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَأَنَا حِذَاءَهُ وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ وَكَانَ يُصَلِّي عَلَى خُمْرَةٍ .
عبداللہ بن شداد سے روایت ہے ، کہا : مجھے نبیﷺ کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی ، فرمایا : ٰ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے اور میں آپ کے سامنے ہوتی اور اکثر ایسا ہوتا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کا کپڑا مجھے لگتا اور آپ ( کھجور کے پتوں اور دھاگوں سے بنی ہوئی ) ایک جائے نماز پر نماز پڑھتے تھے ۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : ہمیں حضرت ابو سعید خرری رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ ایک چٹائی پر نماز پڑھ رہے ہیں ، اسی پر سجدہ کر رہے ہیں ۔
ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ آدمی کی باجماعت ( ادا کی گئی ) نماز اس کی گھر میں یا بازار میں پڑھی ہوئی نماز کی نسبت بیس سے زیادہ درجے بڑھ کر ہے اور وہ یوں کہ جب ان میں سے کوئی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے ، پھر مسجد آتا ہے ، اسے نماز ہی نے اٹھایا ہے اور نماز کے علاوہ کچھ نہیں چاہتا ۔ تو وہ کوئی قدم نہیں اٹھاتا مگر اس کے سبب سے اس کا درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے ، پھر جب مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ( اس کے انتظار کا وقت نماز میں شمار ہوتا ہے ) اور تم میں سے کوئی شخص جب تک اس جگہ رہتا ہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے تو فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں : ‘ ‘ اے اللہ اس پر رحم فرما !اے اللہ ! اس کی توبہ قبول فرما! جب تک وہ اس جگہ ( پر کسی کو ) تکلیف نہیں پہنچاتا اور جب تک وہ اس جگہ بے وضو نہیں ہوتا ۔ ’’
ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ‘ ‘ تم میں سے کوئی شخص جب تک اپنی ( نماز پڑھنے کی ) جگہ پر بیٹھا رہتا ہے ، فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں ، کہتے ہیں : اے اللہ! اسے بخش دے! اے اللہ اس پر رحم فرما! جب تک وہ بے وضو نہیں ہوتا ، نیز جب تک تم میں سے کسی شخض کو نماز روکے رکھتی ہے ، وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ۔ ’’
ابو رافع نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ بندہ مسلسل نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک وہ نماز کی جگہ پر نماز کے انتظار میں رہتا ہے اور فرشتے کہتے رہتے ہیں : اے اللہ! اسے معاف فرما!اے اللہ!اس پررحم فرما! یہاں تک کہ وہ چلا جاتا ہے یا بے وضو ہو جاتا ہے ۔ ‘ ‘ ( ابو رافع کہتے ہیں : ) میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : يحدث كا مطلب کیا ہے؟ انھوں نے کہا : آواز کے بغیر یا آواز کے ساتھ ہوا خارج کر دے ۔
ابو زناد نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ جب تک تم میں سے کسی کو نماز روکے رکھتی ہے وہ مسلسل نماز میں ہوتا ہے ، اسے گھر کی طرف لوٹنے سے نماز کے علاوہ اور کسی چیز نے نہیں روکا ہوتا ۔ ’’