قرآني·Qurani
اردو

المساجد ومواضع الصلاة

409 احادیث · #1161–1569

حدیث 1541 — صحيح مسلم 5:374
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى قَوْلِهِ ‏ "‏ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ ‏.‏
ابن عینیہ نے زہری سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے ان الفاظ تک روایت کی : ‘ ‘ اس سختی کو ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے کے قحط کی طرح کر دے’’ جو اس کے بعد ہے اسے بیان نہیں کیا ۔
حدیث 1542 — صحيح مسلم 5:375
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ فِي صَلاَةٍ شَهْرًا إِذَا قَالَ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ ‏"‏ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرَكَ الدُّعَاءَ بَعْدُ فَقُلْتُ أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ تَرَكَ الدُّعَاءَ لَهُمْ - قَالَ - فَقِيلَ وَمَا تَرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا
ہمیں اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انھیں حدیث بیان کی کہ نبی ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوت ( عاجزی سے دعا ) کی ، جب آپ سمع اللہ لمن حمدہ کہہ لیتے ( تو ) اپنی قنوت میں یہ ( الفاظ ) کہتے : اے اللہ! ولید بن ولیدکو نجات دے ، اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے ، اے اللہ کمزور سمجھے جانے والے ( دوسرے ) مومنوں کو نجات عطا کر ، اے اللہ ! ان پر اپنے روندنے کو سخت تر کر اور اسے ان پر ، یوسف علیہ السلام کے ( زمانے کے ) قحط کے مانند کر دے ۔ ’’ مسجدوں اور نماز کی جگہوں کے احکام ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے یہ دعا چھوڑ دی ، میں نے ( ساتھیوں سے ) کہا : میں دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا چھوڑ دی ہے ۔ کہا : ( جواب میں ) مجھ سے کہا گیا ، تم انھیں دیکھتے نہیں ، ( جن کے لیے دعا ہوئی تھی ) وہ سب آچکے ہیں ۔
حدیث 1543 — صحيح مسلم 5:376
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ إِذْ قَالَ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الأَوْزَاعِيِّ إِلَى قَوْلِهِ ‏"‏ كَسِنِي يُوسُفَ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ ‏.‏
کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انھیں خبر دی کہ ( ایک روز ) رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے ، جب آپ نے فرمایا : سمع اللہ لمن حمدہ تو سجدے میں جانے سے پہلے آپ نے ( دعا مانگتے ہوئے ) فرمایا : ‘ ‘ اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات عطا فرما ۔ ’’ کے الفاظ تک اوزاعی کی روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، بعد کے الفاظ بیان نہیں کیےاوزاعی کے بجائے ) شیبان نے یحییٰ سے ، انھوں نے ابوسلمہ سے روایت کی
حدیث 1544 — صحيح مسلم 5:377
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ وَاللَّهِ لأُقَرِّبَنَّ بِكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الظُّهْرِ وَالْعِشَاءِ الآخِرَةِ وَصَلاَةِ الصُّبْحِ وَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكُفَّارَ ‏.‏
ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : اللہ کی قسم! ضرور رسول اللہ ﷺ کی نماز کو تم لوگوں کے بہت قریب کروں گا ، اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ظہر ، عشاء اور صبح کی نماز میں قنوت کرتے اور مسلمانوں کے حق میں ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے
حدیث 1545 — صحيح مسلم 5:378
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا أَصْحَابَ بِئْرِ مَعُونَةَ ثَلاَثِينَ صَبَاحًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَلِحْيَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الَّذِينَ قُتِلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قُرْآنًا قَرَأْنَاهُ حَتَّى نُسِخَ بَعْدُ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَرَضِينَا عَنْهُ ‏.‏
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کے خلاف کنھوں نے بئر معونہ والوں کو قتل کیا تھا ، تیس ( دن تک ) صبح ( کی نمازوں ) میں بدعا کی ۔ آپ نے رعل ، ذکوان ، لحیان اور عصیہ کے خلاف ، جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ، بد دعا کی ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ نے ان لوگوں کے متعلق جو بئر معونہ پر قتل ہوئے ، قرآن ( کا کچھ حصہ ) نازل فرمایا جو بعد میں منسوخ ہو نے تک ہم پڑھتے رہے ( اس میں شہداء کا پیغام تھا ) کہ ہماری قوم کو بتا دیں کہ ہم اپنے رب سے جا ملے ہیں ، وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہم اس سے راضی ہیں ۔
حدیث 1546 — صحيح مسلم 5:379
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ قَالَ نَعَمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا ‏.‏
محمد ( بن سیرین ) سے روایت ہے ، کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ نے ( کبھی ) صبح کی نماز میں قنو ت کی تھی؟ کہا : ہاں ، رکوع سے تھوڑی دیر بعد ۔
حدیث 1547 — صحيح مسلم 5:380
وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ مُعَاذٍ - حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَيَقُولُ ‏ "‏ عُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏"‏ ‏.‏
ابو مجلز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کو کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت کی ، آپ رعل اور ذکوان کے خلاف بددعا فرماتے تھے اور کہتے تھے : ‘ ‘ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔ ’’
حدیث 1548 — صحيح مسلم 5:381
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ يَدْعُو عَلَى بَنِي عُصَيَّةَ ‏.‏
انس بن سیرین نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک نماز فجر میں رکوع کے بعد قنوت کی ، آپ بنو عصیہ کے خلاف بددعا کرتے رہے
حدیث 1549 — صحيح مسلم 5:382
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ سَأَلْتُهُ عَنِ الْقُنُوتِ، قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَقَالَ قَبْلَ الرُّكُوعِ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ ‏.‏ فَقَالَ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهْرًا يَدْعُو عَلَى أُنَاسٍ قَتَلُوا أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ ‏.‏
ابو معاویہ نے عاصم سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ان ( انس رضی اللہ عنہ ) سے قنو ت کے بارے میں پوچھا : رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد؟ تو انھوں نے کہا : رکوع سے پہلے ۔ کہا : میں نے عرض کی : بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رکوع کے بعد قنوت کی ۔ تو انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے کی ، ان لوگوں کو خلاف بددعا فرماتے رہے جنھوں نے آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں کو قتل کیا تھا جنھیں قراء ( قرآن پڑھنے والے ) کہا جاتا تھا ۔
حدیث 1550 — صحيح مسلم 5:383
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَى السَّبْعِينَ الَّذِينَ أُصِيبُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ كَانُوا يُدْعَوْنَ الْقُرَّاءَ فَمَكَثَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى قَتَلَتِهِمْ ‏.‏
سفیان نے عاصم سے روایت کی ، کہا : میں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ کو کسی اور جنگ پر اتنا غم محسوس ہوا ہو جتنا ان ستر ( ساتھیوں ) پر ہوا جو بئر معونہ کے واقعے کے روز شہید کیے گئے ، انھیں قراء کہا جاتا تھا ، آپ ایک مہینے تک ان کے قالوں کے خلاف بد دعا کرتے رہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔