حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ قیام ( کی حالت ) میں تھے کہ ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا میں آتا ہوں ۔ ’’ پھر آپ نے فرمایا : ‘ ‘ میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں ۔ ’’ آپ نے یہ تین بار کہا اور آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، گویا کہ آپ کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے آب کو نماز میں کچھ کہتے سنا ہے جو اس سے پہلے آب کو کبھی کہتے نہیں سنا اور ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ ( آگے ) بڑھایا ۔ آب نے فرمایا ‘ ‘ اللہ دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تھا تا کہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے ، میں نے تین دفعہ اعوذ باللہ منک ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا ہ مانگتا ہوں’’ کہا ، پھر میں نے تین بار کہا : میں تجھ پر اللہ کی کامل لعنت بھیجتا ہوں ۔ وہ پھر بھی پیچھے نہ ہٹا تو میں نے اسے پکڑ نے کا ارادہ کر لیا ۔ اللہ کی قسم ! اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح تک بندھا رہتا اور مدینہ والوں کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے ۔ ’’
حدیث 1212 — صحيح مسلم 5:52
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قُلْتُ لِمَالِكٍ حَدَّثَكَ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلأَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ فَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا وَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ نَعَمْ .
عبداللہ بن مسلمہ بن مسلمہ بن قعنب اور قتیبہ بن سعید نے کہا : ہمیں امام مالک نے حدیث سنائی ۔ دوسری سند میں یحیٰی بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک سے کہا : کہا آپ کو عامر بن عبداللہ بن زبیر نے عمر و بن سلیم زرقی سے اور انھوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہوئے یہ حدیث سنائی تھی کہ رسول اللہ ﷺ اپنی صاحبزادی زینب اور ابو العاص بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہما کی بیٹی امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اٹھا کر نماز پڑھ لیتے تھے ، جب آپ کھڑے ہوتے تو اسے اٹھا لیتے اور جب سجدہ کرتے تو اسے ( زمین پر ) بٹھا دیتے تھے ؟ یحیٰی نے کہا : امام مالک نے جواب دیا : ہاں ( یہ روایت مجھے سنائی تھی ۔)
حدیث 1213 — صحيح مسلم 5:53
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَابْنِ، عَجْلاَنَ سَمِعَا عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَؤُمُّ النَّاسَ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ وَهْىَ ابْنَةُ زَيْنَبَ بِنْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَاتِقِهِ فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا وَإِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ أَعَادَهَا .
عثمان بن ابی سلیمان اور ابن عجلان دونوں نے عامر بن عبداللہ بن زبیر کو عمرو سلیم زرقی سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انھوں نے حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ۔ آپ لوگوں کی امات کر رہے تھے ، اور ابو العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں ، آپ کے کندے پر تھیں ، جب آپ رکوع میں جاتے تو انھیں کندھے سے اتار دیتے اور جب سجدے سے اٹھتے تو پھر سے انھیں اٹھا لیتے ۔
بکیر ( بن عبداللہ ) نے عمرو بن سلیم زرقی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابو العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کی گردن پر تھیں ، جب آپ سجدہ کرتے تو انھیں اتار دیتے ۔
سعید مقبری نے عمر و بن سلیم زرقی سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی اثنا میں رسول اللہ ﷺ ( گھر سے ) نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے ...... ( آگے ) مذکورہ بالا روایوں کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، مگر انھوں ( سعید مقبری ) نے یہ بیان نہیں کیا کہ اس نما میں آپ لوگوں کی امامت فرمائی تھی ۔
عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے خبر دی کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے منبر نبوی کے بارے میں میں بخث کی تھی کہ وہ کس لکڑی سے بنا ہے ؟ انھوں ( سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : ہاں! اللہ کی قسم ! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی ہے اور اسے کس نے بنایا تھا ۔ رسول اللہ ﷺ جب پہلے دن اس پر بیٹھے تھے ، میں نے آپ کو دیکھا تھا ۔ میں ( ابو حازم ) نے کہا : ابو عباس ! پھر تو ( آپ ) ہمیں ( اس کی ) تفصیل بتائیے ۔ انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کی طرف پیغام بھیجا ۔ ابو حازم نے کہا : وہ اس دن اس کا نام بھی بتارے تھے اور کہا ۔ ‘ ‘ اپنے بڑھئی غلام کو دیکھو ( اور کہو ) وہ میرے لیے لکڑیا ں ( جوڑکر منبر ) بنا دے تا کہ میں اس پر سے لوگوں سے گفتگو کیا کروں ۔ تو اس نے یہ تین سٹرھیاں بنائیں ، پھر رسول للہ ﷺنے اس کے بارے میں حکم دیا اور اسے اس جگہ رکھ دیا گیا اور یہ مدینہ کے جنگل کے درخت جھاؤ ( کی لکڑی ) سے بنا تھا ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ اس پر کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی ، لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے تکبیر کہی جبکہ آپ منبر ہی پر تھے ، پھر آپ ( نے رکوع سے سر اٹھایا ) اٹھے اور الٹے پاؤں نیچے اترے اور منبر کی جڑ میں ( جہاں وہ رکھا ہوا تھا ) سجدہ کیا ، پھر دوبارہ وہی کیا ( منبر پر کھڑے ہو گئے ) حتی کہ نماز پوری کر کے فارغ ہوئے ، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ‘ ‘ لوگو! میں نے یہ کام اس لیے کیا ہےتاکہ تم ( مجھے دیکھتے ہوئے ) میری پیروی کرو اور میری نماز سیکھ لو ۔ ’’
یعقوب بن عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ بن عبد ، قار ی قرشی نے کہا : مجھے ابو حازم نے حدیث سنائی کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے ، نیز سفیان بن عیینہ نے ابو حازم سے حدیث سنائی کہ لوگ سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور ان سے پوچھا : نبی اکرم ﷺ کا منبر کس ( لکڑی ) سے ( بنا ہوا ) ہے ....... ( آگے ) ابن ابی حازم کی روایت کی حدیث کی طرح ہے ۔
حدیث 1218 — صحيح مسلم 5:58
وَحَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
حکم بن موسیٰ قنطری نے کہا : ہمیں عبداللہ بن مبارک نے حدیث سنائی ، نیز ابو بکر ابن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں ابو خالد اور ابو اسامہ نے حدیث سنائی ، ان سب نے ہشام سے ، انھوں نے محمد ( بن سیرین ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے س بات سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی پہلو پر ہاتھ رکھے ہوئے نماز پڑھے ۔ امام مسلم کے استاد ابو بکر کی روایت میں ( نبی ﷺ کے بجائے ) ‘ ‘ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ’’ کے الفاظ ہیں ۔
ہمیں وکیع نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ہشام دستوائی نے حدیث سنائی ، انھوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت معیقیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد میں ہاتھ سے کنکریاں صاف کرنے کا تذکروہ کیا اور فرمایا : ‘ ‘ اگر تمھارے لیے اسے کیے بغیر چارہ نہ ہو تو ایک بار ( کر لو ۔ ) ’’
یحییٰ بن سعید نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حضرت معیقیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے نماز ( کے دوران ) میں ہاتھ سے ( کنکریاں وغیرہ ) صاف کرنے کے بارےمیں سوال کیا تو آپ نے فرمایا : ‘ ‘ ایک بار ( کی جاسکتی ہیں ۔ ) ’’