ابو بکر بن ابی شبیہ اور عمرو الناقد نے کہا : ہمیں سفیان نے زہر سے ، انھوں نے سالم سے اور انھوں نے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ عنہ ) سے حدیث بیان کی ۔ عمرو نے کہا : ( ابن عمر رضی اللہ عنہ ) اس حدیث کی سند کو ( رسول اللہ ﷺ تک ) پہنچاتے تھے ۔ ابو بکر نے کہا : ( انھوں نے ) اس حدیث کو مرفوعا بیان کیا ۔
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم بن عبداللہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص کی عصر کی نماز رہ گئی تو گویا اس کے ہل وعیال اور اسکا مال بتاہ و برباد ہو گئے ۔ ‘ ‘
ابوسامہ نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے ہشام سے ، انھوں نے محمد سے انھوں نے عبیدہ سے اور انھوں نےحضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے غزوہ احزاب کےدن فرمایا : ’’اللہ تعالٰی ان ( مشرکین ) کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے ، جس طرح انھوں نے ہمیں درمیانی نماز ( عصر ) سے روکا اور ( جنگ میں ) مشغول کیے رکھا حتی کہ سورج غروب ہو گیا ۔ ‘ ‘
شعبہ نے کہے : ہمیں قتادہ سے سنا ، وہ ابو حسان سے حدیث بیان کررہےتھے ، انھوں نے عبیدہ سے اور انھوں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ ﷺ نے جنگ احزاب کے دن فرمایا : ’’ان لوگوں نے ہمیں درمیانی نماز سے مشغول کیے رکھا حتی کہ سورج غروب ہو گیا ‘ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو اور گھروں کو یا ( فرمایا : ) ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے ۔ ’’گھروں یا پیٹوں کے بارےمیں شعبہ کو شک ہوا ۔
یحییٰ بن جزار نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احزاب کے موقع پر جب آپ خندق کی گزر گاہوں میں سے کسی گزر گا ہ پر تشریف فرما تھے ، فرمایا : انھوں نے ہمیں درمیانی نما ( عصر ) سے مشغول کر دیا حتی کہ سورج ڈوب گیا ، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو یا فرمایا : ان کی قبروں او ر پیٹوں کو آگ سے بھر دے ۔ ‘ ‘
شتیر بن شکل نےحضرت علی رضی اللہ عنہ سےروایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نےاحزاب کے دن فرمایا : ’’انھوں نے ہمیں درمیانی نماز ( یعنی ) عصر کی نماز سے مشغول رکھا ، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے اسے رات کے دونوں نمازوں مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھا ۔ ( مغرب کا وقت جارہا تھا اس لیے آخری وقت میں پہلے مغرب پڑھی ، پھر عصر کی قضا پڑھی ، پھر عشاء پڑھی ۔)
حدیث 1426 — صحيح مسلم 5:260
وَحَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَامِيُّ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ حَتَّى احْمَرَّتِ الشَّمْسُ أَوِ اصْفَرَّتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَةِ الْوُسْطَى صَلاَةِ الْعَصْرِ مَلأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا " . أَوْ قَالَ " حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا " .
حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : مشرکوں نے ( جنگ میں مشغول رکھ کر ) رسو ل اللہ ﷺ کو عصر کی نمازسے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’انھوں نےہمیں درمیانی نماز ، عصر کی نماز سے مشغول رکھا ، اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں میں آگ بھر دے ۔ ‘ ‘ یا فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے ۔ ‘ ‘ ( ملأ کی جگہ حشا کا لظف ارشاد فرمایا ، مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے ۔ ) فائدہ : نبی کریم ﷺ کی نظرمیں نماز عصرکی اہمیت کس قدر تھی ، ان احادیث سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ نیز یہ کہ آپ ﷺ نے طائف میں سنگ باری برداشت کی لیکن بد دعا نہ دی ، احد میں جسم مبارک زخمی ہوا ، دندان مبارک شہید ہوئے ، ستر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کیا جن میں آپ کے چچا سید الشہداء سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے لیکن بد دعا نہ دی ۔ جنگ خندق میں ناز عصرفوت ہو گئی تو کافروں کو بد دعا دی ۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ نفع و نقصان کا یہی معیار پیش نظر رکھے ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس سے روایت ہے ، کہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ ان کے لیے قرآن مجید لکھوں فرمایا : جب تم اس آیت پر پہنچوں ( حفظو علی الصلوت والصلوۃ الوسطی ) تو مجھے بتانا چنانچہ جب میں آیت پر پہنچا تو انھیں آگاہ کیا ، انھوں نے مجھے لکھوایا : حافظ علی الصلوت والصلاۃ الوسطی وصلاۃ العصر ، قوموا اللہ قانتین ’’ نمازوں کی حفاظت کرو اور ( خاص کر ) درمیانی نماز کی ، یعنی نماز عصر کی اور اللہ کے حضور عاجزانہ قیام کرو ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا : میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سےایسے ہی سنا ۔