قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 1428 — صحيح مسلم #1428
فضیل بن مرزوق نے شقیق بن عقبہ سے اور انھوں نے حضرت براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ یہ آیت ( اس طرح ) حافظ علی الصلوٰت وصلاۃ العصر ) ) نازل ہوئی ، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا ہم نے اسے پڑھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اسےمنسوخ کر دیا اور آیت اس طرح اتری : ( حفظوا علی الصلوٰت والصلوٰۃ الوسطیٰ ) ’’نمازوں کی نگہداشت کرو اور ( خصوصا ) درمیان کی نماز کی ‘ ‘ اس پر ایک آدمی نے ‘ جو شقیق کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ان سے کہا : تو پھر اس سے مراد عصر کی نماز ہوئی ؟ حضرت براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : میں تمھیں بتا چکا ہوں کہ یہ آیت کیسے اتری اور اللہ تعالیٰ نے کیسے اسے منسوخ کیا ، ( اصل حقیقت ) اللہ ہی بہتر جانتا ہے
حدیث 1429 — صحيح مسلم #1429
اسود بن قیس نے شقیق بن عبہ سے ، انہوں نے حضرت براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم یہ آیت ایک عرصے تک نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ( اسی طرح ) پڑھتے رہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( آگے ) فضیل بن مرزوق کی ( سابقہ ) حدیث کی مانند ہے ۔
حدیث 1430 — صحيح مسلم 5:263
وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، - قَالَ أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَوْمَ الْخَنْدَقِ جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتْ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فَوَاللَّهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا ‏"‏ ‏.‏ فَنَزَلْنَا إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَوَضَّأْنَا فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ ‏.‏
معاذ بن ہشام نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہمیں ابو سلمہ بن عبدالرحمن نےحضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہوئے حدیث بیان کی کہ خندق کے روز حضرت عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کی : اے اللہ کےرسول ! اللہ کی قسم ! میں عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا تھا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کو آگیا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! میں نے ( بھی ) نہیں پڑھی ۔ ‘ ‘ پھر ہم ( وادی ) بطحان میں اترے ، رسول اللہ ﷺ نے وضول کیا اور ہم نے بھی وضو کیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے سورج کے غروب ہو جانے کے بعد عصرکی نماز پڑھی ، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی ۔
حدیث 1431 — صحيح مسلم 5:264
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ‏.‏
علی بن مبارک نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی
حدیث 1432 — صحيح مسلم 5:265
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلاَئِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلاَئِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ وَصَلاَةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي فَيَقُولُونَ تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ‏"‏ ‏.‏
ابو زناد نے اعراج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے تمھارے درمیان آتے ہیں اور فجر کی نماز اور عصری نماز کے وقت وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں ، پھر جنھوں نے تمھارے درمیان رات گزاری ہوتی ہے وہ اوپر چلے جاتےہیں ، ان سے ان کا رب پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے : تم میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو ؟ وہ جواب دیتےہیں : ہم انھیں ( اس حالت میں ) چھوڑ کر آئے ہیں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم ان کے پاس ( کل عصر کے وقت ) اس حالت میں پہنچے تھے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے
حدیث 1433 — صحيح مسلم 5:266
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَالْمَلاَئِكَةُ يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ ‏.‏
ہمام بن منبہ نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے تمھار ے پاس آتے ہیں ۔ ‘ ‘ ( اس حدیث میں ملائکہ کا لفظ یتعاقبون سے پہلے ہے ۔ ) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( باقی روایت ) ابو زناد کی روایت کے مانند ہے
حدیث 1434 — صحيح مسلم 5:267
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ يَقُولُ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقَالَ ‏"‏ أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ لاَ تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاَ تُغْلَبُوا عَلَى صَلاَةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الْعَصْرَ وَالْفَجْرَ ثُمَّ قَرَأَ جَرِيرٌ ‏{‏ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا‏}‏ ‏.‏
زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں مروان بن معاویہ فزاری نے حدیث سنائی ، انھوں کہا : ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں قیس بن ابی حازم نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جریر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہے رہے تھے : ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف نظر کی اور فرمایا : ’’سنو! تم لوگ اپنے رب کو اس طرح دیکھوں گے ، جس طرح اس پورے چاند کو دیکھ رہےہو ، اس کے دیکھنے میں تم بھیٹر نہ لگا ؤ گے ، اگر تم یہ کر سکو کہ سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز میں ( مصروفیت ، سستی وغیرہ سے ) مغلوب نہ ہو ( تو تمہیں یہ نعمت عظمیٰ مل جائے گئی ۔ ) ‘ ‘ آپ کی مراد عصر اور فجر کی نماز سے تھی ، پھر جرییر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے یہ آیت پڑھی ( وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبہا ) اور اپنے رب کی حمد کی تسبیح بیان کرو ، سورج کے نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے ۔ ‘ ‘
حدیث 1435 — صحيح مسلم 5:268
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ وَوَكِيعٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏ "‏ أَمَا إِنَّكُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّكُمْ فَتَرَوْنَهُ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ثُمَّ قَرَأَ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ جَرِيرٌ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ نےعبداللہ بن نمیر ، ابو اسامہ اور وکیع سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی ، اس میں ہے : سنو ! تم لوگ یقینا اپنے رب کے سامنے پیش کیے جاؤ گے اور اس کو اسی طرح دیکھوں گے ، جس طرح اس پور ے چا ند کو دیکھتے ہو ۔ ‘ ‘ پھر روای نے ( ثم قراء جریر کے بجائے ) ثم قراء ( پھر انھوں پڑھا ) کہا اور جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کا نام نہیں لیا ۔
حدیث 1436 — صحيح مسلم 5:269
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، - قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، - عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، وَمِسْعَرٍ، وَالْبَخْتَرِيِّ بْنِ الْمُخْتَارِ، سَمِعُوهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ الرَّجُلُ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِي ‏.‏
(اسماعیل ) ابن ابی خالد ، مسعر اور بختری بن مختار نےیہ روایت ابو بکر بن عمارہ بن رویبہ سے سنی ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت عمارہ بن رویبہ ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ وہ شخص ہرگز آگ میں داخل نہیں ہو گا جو سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتا ہے ۔ ‘ ‘ یعنی فجر اور عصر کی نمازیں ۔ اس پر بصرہ کے ایک آدمی نے ان سے کہا : کیا آپ نے یہ روایت رسول للہ ﷺ سے سنی تھی ؟ انھوں نے کہا : ہا ں ۔ اس آدمی نے کہا : میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے بھی یہ روایت رسول اللہ ﷺ سے سنی ۔ میرے دونوں کانوں نے اسے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ۔
حدیث 1437 — صحيح مسلم 5:270
وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَلِجُ النَّارَ مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ‏"‏ ‏.‏ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ أَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ لَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهُ بِالْمَكَانِ الَّذِي سَمِعْتَهُ مِنْهُ ‏.‏
عبدالملک بن عمیر نے حضرت عمارۃ بن رویبہ کے بیٹے سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو انسان سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتا ہے وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا ۔ ‘ ‘ اور ان کے پاس بصرہ کا ایک باشندہ بھی موجود تھا ، اس نے پوچھا : کیا آپ نے یہ حدیث براہ راست نبی اکرم ﷺ سے سنی ؟ تو انھوں نے کہا : ہاں ، اور میں اس کی شہادت دیتا ہوں ۔ اس آدمی نے کہا : اور میں بھی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اسی جگہ ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا جہاں آپ نے ان سے سنا تھا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔