قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 1438 — صحيح مسلم 5:271
وَحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
ہدّاب بن خالد ازدی نے کہا : ہمیں ہمام بن یحییٰ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابو جمرہ ضبعی نے ابوبکر ( بن ابی موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے حدیث سنائی اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے دو ٹھنڈے وقتوں کی نمازیں ادا کیں ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ ( دن کا ٹھنڈا وقت عصر کا اور رات کا سب سے ٹھنڈا وقت فجر کا ہوتا ہے ۔)
حدیث 1439 — صحيح مسلم 5:272
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَنَسَبَا أَبَا بَكْرٍ فَقَالاَ ابْنُ أَبِي مُوسَى ‏.‏
بشر بن سریّ اور عمر و بن عاصم دونوں نے کہا : ہم سے ہمام نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انھوں نے ابوبکر کا نسب بیان کیا اور کہا : ابن ابی موسیٰ
حدیث 1440 — صحيح مسلم 5:273
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَتَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ‏.‏
حضرت سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہوتا اور پردے کی اوٹ میں چلا جاتا
حدیث 1441 — صحيح مسلم 5:274
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ ‏.‏
ولید بن مسلم نے کہا : ہم سے اوزاعی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم سے ابو نجاشی نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تو ہم میں سے کوئی شخص لوٹتا اور وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہیں دیکھ سکتا تھا ۔
حدیث 1442 — صحيح مسلم 5:275
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ ‏.‏ بِنَحْوِهِ ‏.‏
شعیب بن اسحاق دمشقی نے اوزاعی سے سابقہ سند کےساتھ رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےحدیث بیان کی ، کہا : ہم مغرب کی نماز ادا کر تے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) پچھلی حدیث کی طرح ہے ۔
حدیث 1443 — صحيح مسلم 5:276
وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي بِصَلاَةِ الْعِشَاءِ وَهِيَ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ ‏"‏ مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلاَمُ فِي النَّاسِ ‏.‏ زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تَنْزُرُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَذَاكَ حِينَ صَاحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‏.‏
عمرو بن سوّاد عامری اور حرملہ بن یحییٰ دونوں نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے یونس نےخبر دی کہ انھیں ابن شہاب نے خبر دی ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز خوب اندھیرا ہونے تک مؤخر فرمائی اور اسی نماز کو عتمہ ( گہری تاریکی کے وقت کی نماز ) کہا جاتا تھا ۔ رسول اللہﷺ ( اس وقت تک ) گھر سے نہ نکلے یہاں تک کہ حضرت عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ( مسجد میں آنے والی ) عورتیں اور بچے سو گئے ہیں ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور نکل کر مسجد کے حاضرین سے فرمایا : ’’اہل زمین میں سے تمھارے سوا اس نماز کا اور کوئی بھی انتظار نہیں کررہا ‘ ‘ اور یہ لوگوں میں ( مدینہ سے باہر ) اسلام پھیلنے سے پہلے کی بات ہے ۔ حرملہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ ابن شہاب نے کہا : مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تمھارے لیے مناسب نہ تھا کہ تم اللہ کے رسول ﷺ سے نماز کے لیے اصرار کرتے ۔ ‘ ‘ یہ تب ہوا جب عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بلند آواز سے پکارا ۔ ( انھوں نے غالباً یہ سمجھا کہ آپ ﷺ بھول گئے ہیں یا سو گئے ہیں)
حدیث 1444 — صحيح مسلم 5:277
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الزُّهْرِيِّ وَذُكِرَ لِي ‏.‏ وَمَا بَعْدَهُ ‏.‏
عقیل نے ابن شہاب سے اسی سنج کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی لیکن اس میں زہر ی کا قول : وذکرلی ( مجھے بتایا گیا ) اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
حدیث 1445 — صحيح مسلم 5:278
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، كِلاَهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالُوا جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَعْتَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ‏"‏ لَوْلاَ أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ‏"‏ ‏.‏
محمد بن بکر ، حجاج بن محمد اور عبدالرزاق ۔ سب کے الفاظ باہم ملتے جلتے ہیں ۔ سب نے کہا : ابن جریج سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : مجھے مغیرہ بن حکیم نے ام کلثوم بنت ابی بکر سے خبر دی کہ انھوں نے انھیں ( مغیرہ کو ) حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، انھوں نے کہا : ایک رات نبی اکرم ﷺ ےعشاء کی نماز میں دیر کر دی یہاں تک کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا اور اہل مسجد سو گئے ، پھر آپ باہر تشریف لے گئے ، نماز پڑھائی اور فرمایا : ’’ اگر ( مجھے ) یہ ( ڈر ) نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈالوں گا تو یہی اس کا ( بہترین ) وقت ہے ۔ ‘ ‘ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے : ’’ اگریہ ( ڈر ) نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے مشقت کا سبب بنے گا ۔ ‘ ‘
حدیث 1446 — صحيح مسلم 5:279
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - لِصَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَلاَ نَدْرِي أَشَىْءٌ شَغَلَهُ فِي أَهْلِهِ أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ ‏ "‏ إِنَّكُمْ لَتَنْتَظِرُونَ صَلاَةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ وَلَوْلاَ أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلاَةَ وَصَلَّى ‏.‏
حکم نےنافع سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ایک رات ہم عشاء کی آخری نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرتے رہے ، جب رات کا تہائی حصہ گزر گیا یا اس کے ( بھی ) بعد آپ تشریف لائے ، ہمیں معلوم نہیں کہ آپ کو گھر والوں ( کے معاملے ) میں کسی چیز نے مشغول رکھا تھا یا کوئی اور بات بھی ، جب آپ باہر آئے تو فرمایا : ’’بلا شبہ تم ایسی نماز کا انتظار کررہے ہو جسکا تمھارے سوا کسی اور دین کے پیرو کار انتظار نہیں کر رہے ، اور اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے گراں ہو گا تو میں انھیں اسی گھڑی میں ( یہ ) نماز پڑھایا کرتا ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا ، اس نے اقامت کہی اور آب نے نماز پڑھائی ۔
حدیث 1447 — صحيح مسلم 5:280
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً فَأَخَّرَهَا حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ اللَّيْلَةَ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ غَيْرُكُمْ ‏"‏ ‏.‏
ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : مجھے نافع نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہم سے حضرت عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حدیث بیان کی کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ ( کسی بنا پر ) اس ( عشاء کی نماز ) سے مشغول ہو گئے ، آپ نے اسے مؤخر کر دیا یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے ، پھر بیدار ہوئے ، پھر سو گئے ، پھر بیدار ہوئے ، پھر آپ ( گھر سے ) نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’آج رات تمھارے سوا اہل زمین میں سے کوئی نہیں جو نماز کا انتظار کر رہا ہو ۔ ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔