قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 1448 — صحيح مسلم 5:281
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، ‏.‏ أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسًا عَنْ خَاتَمِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ أَوْ كَادَ يَذْهَبُ شَطْرُ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُسْرَى بِالْخِنْصَرِ ‏.‏
ثابت سے روایت ہےکہ انھوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے رسول اللہ ﷺ یک مہر ( یا انگوٹھی ) کے بارے میں پوچھا تو ( حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز آدھی رات تک مؤخر کی یا آدھی رات گزرنےکو تھی ، پھر آپ تشریف لائے اور فرمایا : ’’بلاشبہ ( دوسرے ) لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سوچکے ، اور تم ہو کہ نماز ہی میں ہو جب تک نماز کے انتظار میں بیٹھے ہو ۔ ‘ ‘ حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا : جیسے میں ( اب بھی ) آپ کی چاندی سے بنی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں اور انھوں نے بائیں ہاتھ کی انگلی اٹھاتے ہوئے چھوٹی انگلی سے ( اشارہ کیاکہ انگوٹھی اس میں تھی ۔)
حدیث 1449 — صحيح مسلم 5:282
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ نَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً حَتَّى كَانَ قَرِيبٌ مِنْ نِصْفِ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ فِي يَدِهِ مِنْ فِضَّةٍ ‏.‏
ابوزید سعید بن ربیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں قرہ بن خالد نے قتادہ سےحدیث سنائی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : ہم نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کا انتظار کیا حتی کہ آدھی رات کے قریب ( کا وقت ) ہوگیا ، پھر آپ آئے اور نماز پڑھائی ۔ پھر آپ نے ہمارے طرف رخ فرمایا ، ایسا لگتا ہے کہ میں ( اب بھی ) آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں ، وہ آپ کے ہاتھ میں تھی ، چاندی کی بنی ہوئی تھی
حدیث 1450 — صحيح مسلم 5:283
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ‏.‏
عبیداللہ بن عبدالمجید حنفی نے قرہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی اور یہ بیان نہ کیا : ’’پھر آپ نے ہمار ی طرف رخ فرمایا ۔ ‘ ‘
حدیث 1451 — صحيح مسلم 5:284
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ كُنْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي الَّذِينَ، قَدِمُوا مَعِي فِي السَّفِينَةِ نُزُولاً فِي بَقِيعِ بُطْحَانَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ فَكَانَ يَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ كُلَّ لَيْلَةٍ نَفَرٌ مِنْهُمْ قَالَ أَبُو مُوسَى فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَأَصْحَابِي وَلَهُ بَعْضُ الشُّغُلِ فِي أَمْرِهِ حَتَّى أَعْتَمَ بِالصَّلاَةِ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ لِمَنْ حَضَرَهُ ‏"‏ عَلَى رِسْلِكُمْ أُعْلِمُكُمْ وَأَبْشِرُوا أَنَّ مِنْ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكُمْ أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ مَا صَلَّى هَذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ لاَ نَدْرِي أَىَّ الْكَلِمَتَيْنِ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى فَرَجَعْنَا فَرِحِينَ بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
حضرت ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں اور میرے ( وہ ) ساتھ ۔ جو میرے ساتھ بڑی کشتی میں ( حبشہ سے واپس ) آئے تھے ۔ بطحان کے نشیبی میدان میں اترے ہوئے تھے ، رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تھے اور ہر رات ان میں سے ایک جماعت باری باری عشاء کی نمازمیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتی تھی ۔ ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے کہا کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یوں اتفاق پیش آیا کہ آپ اپنے کسی معاملے میں ( اتنے ) مشغول ہو گئے کہ آپ نے نماز کو مؤخر کر دیا حتی کہ آدھی رات ہو گئی ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ جب آپ نے ناز مکمل کر لی تو ان لوگوں سے جو آپ کے سامنے حاضر تھے ، فرمایا : ’’ذرا ٹھہر و میں تمھیں بتاتا ہوں اور تم خوش ہو جاؤ یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے کہ لوگوں میں اس وقت ، تمھارے سوا ، کوئی بھی نماز نہیں پڑھ رہا ۔ ‘ ‘ یا آپ نے فرمایا : ’’اس وقت تمھارے سوا کسی نے نماز نہیں پڑھی ۔ ‘ ‘ ہمیں یاد نہیں کہ آپ ﷺ نے کون سا جملہ کہا تھا ۔ ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے بتایا : ہم رسول اللہ ﷺ کی بات سن کر خوش خوش واپس آئے ۔
حدیث 1452 — صحيح مسلم 5:285
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَىُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَاءَ الَّتِي يَقُولُهَا النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِمَامًا وَخِلْوًا قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَعْتَمَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ الْعِشَاءَ - قَالَ - حَتَّى رَقَدَ نَاسٌ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ الصَّلاَةَ ‏.‏ فَقَالَ عَطَاءٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ قَالَ ‏ "‏ لَوْلاَ أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا كَذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ كَمَا أَنْبَأَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ شَيْئًا مِنْ تَبْدِيدٍ ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ عَلَى قَرْنِ الرَّأْسِ ثُمَّ صَبَّهَا يُمِرُّهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ ثُمَّ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ اللِّحْيَةِ لاَ يُقَصِّرُ وَلاَ يَبْطِشُ بِشَىْءٍ إِلاَّ كَذَلِكَ ‏.‏ قُلْتُ لِعَطَاءٍ كَمْ ذُكِرَ لَكَ أَخَّرَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَتَئِذٍ قَالَ لاَ أَدْرِي ‏.‏ قَالَ عَطَاءٌ أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ أُصَلِّيَهَا إِمَامًا وَخِلْوًا مُؤَخَّرَةً كَمَا صَلاَّهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَتَئِذٍ فَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ ذَلِكَ خِلْوًا أَوْ عَلَى النَّاسِ فِي الْجَمَاعَةِ وَأَنْتَ إِمَامُهُمْ فَصَلِّهَا وَسَطًا لاَ مُعَجَّلَةً وَلاَ مُؤَخَّرَةً ‏.‏
ابن جریج نے ہمیں خبر دی ، کہا : میں نے عطاء سے پوچھا : آپ کے نزدیک کون سی گھڑی زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں اس میں عشاء کی نماز ، جسے لوگ عتمہ کہتے ہیں ، امام کے ساتھ یا انفرادی طور پر پڑھوں ؟ انھوں نے جواب دیا : میں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کویہ فرماتے ہوئےسنا : ایک رات نبی ﷺ نے عشاء کی نماز میں دیر کر دی حتی کہ لوگ سوئے ، پھر بیدار ہوئے ، پھر سوئے اور بیدار ہوئے تو حضرت عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے کہا : نماز ! عطاء نے کہا : ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا : تو نبی اکرمﷺ نکلے ، ایسا لگتا ہے کہ میں اب بھی آپ کو دیکھ رہا ہوں ، آپ کے سر مبارک سے قطرہ قطرہ پانی ٹپک رہا تھا اور ( بالوں میں سے پانی نکالنے کے لیے ) آپ نے اپنا ہاتھ سر کے آدھے حصے پر رکھا ہوا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری امت کےلیے مشقت ہو گی تو میں انھیں حکم دیتا کہ وہ اس نماز کو اسی وقت پڑھا کریں ۔ ‘ ‘ ( ابن جریج نے ) کہا : میں نے عطاء سے اچھی طرح چوچھا کہ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انھیں کس طرح بتایا کہ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ کس انداز سے اپنے سر پر رکھا تھا ؟ تو عطاء نے میرے سامنے اپنی انگلیاں کسی قدر کھولیں ، پھر اپنی انگلیوں کے کنارے سر کی ایک جانب رکھے ، پھر ان کو دباتے ہوئے اسطرح ان کو سر پر پھیرا یہا ں تک کہ ان کا انگوٹھا کان کے اس کنارے کو چھونے لگا جو چہرے کے قریب ہوتا ہے ، پھر کنپٹی اور داڑھی کے کنارے کو ( چھوا ) بس اس طرح کیا نہ ( دباؤ میں ) کمی کی نہ کسی چیز کو پکڑا ( اور نچوڑا ۔ ) میں نے عطاء سے پوچھا : آب کو کیا بتایا گیا کہ اس رات نبی اکرم ﷺ نے کتنی تخیر کی ؟ انھوں نے کہا : مجھے معلوم نہیں ۔ عطاء نے کہا : میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ یہی ہےکہ میں امام ہوں یا اکیلا ، یہ نماز تاخیر سے پڑھوں ، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے اس رات پڑھی تھی ۔ اگر یہ بات تمھارے لیے انفرادی طور پر با جماعت کی صورت میں لوگوں کےلیے جب تم ان کے امام ہو ، دشواری کا باعث ہو تو اس کو درمیان وقت میں پڑھو ، نہ جلد ی اور نہ مؤخر کرکے ۔
حدیث 1453 — صحيح مسلم 5:286
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُؤَخِّرُ صَلاَةَ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ‏.‏
ابواحوص نے سماک سے ، انھوں نے حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ، کہا : رسول اللہ ﷺ رات کی دوسری نماز تاخیر سے پڑھتے تھے
حدیث 1454 — صحيح مسلم 5:287
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ نَحْوًا مِنْ صَلاَتِكُمْ وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ بَعْدَ صَلاَتِكُمْ شَيْئًا وَكَانَ يُخِفُّ الصَّلاَةَ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ يُخَفِّفُ ‏.‏
قتیبہ بن سعید اور ابو کامل جحدری نے کہا : ہمیں ابو عوانہ نے سماک سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نمازیں تمھاری طرح ( اوقات میں ) پڑھتے تھے ، البتہ عشاء مؤخر کرکے تمھاری نماز سے کچھ دیر بعد پڑھتے تھے اور نماز میں تخفیف کرتےتھے ۔ اور ابو کامل کی روایت میں ( یخف فی الصلاۃ کے بجائے ) ’’یخفف کے الفاظ ہیں ۔ ( مفہوم ایک ہی ہے ۔)
حدیث 1455 — صحيح مسلم 5:288
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ تَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلاَتِكُمْ أَلاَ إِنَّهَا الْعِشَاءُ وَهُمْ يُعْتِمُونَ بِالإِبِلِ ‏"‏ ‏.‏
زہیر نے کہا : ہم سے سفیان بن عینہ نے ابو لبید سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے اورانھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’تمھاری نماز کے نام پر تمھارے گنوار لوگ غالب نہ آجائیں ، خبردار !یہ عشاء ہے ، وہ اونٹنیوں کا دودھ دوہنے کی وجہ سے اندھیرا کر دیتے ہیں ( اور اندھیرے ( عتمہ ) کی بنا پر اس وقت پڑھی جانے والی نماز کو صلاۃ العتمہ ، یعنی اندھیرے کی نماز کہتےہیں
حدیث 1456 — صحيح مسلم 5:289
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلاَتِكُمُ الْعِشَاءِ فَإِنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ الْعِشَاءُ وَإِنَّهَا تُعْتِمُ بِحِلاَبِ الإِبِلِ ‏"‏ ‏.‏
وکیع نے سفیان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تمھاری صلاۃ عشاء کے نام پر بدوتم پر غالب نہ آجائیں کیونکہ اللہ کی کتاب میں ا س کا نام عشاء ہے : اور بدو اونٹنیوں کا دودھ دوہنے میں اندھیرا کر دیتے ہیں ۔ ‘ ‘
حدیث 1457 — صحيح مسلم 5:290
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ، كُنَّ يُصَلِّينَ الصُّبْحَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَرْجِعْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ لاَ يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ ‏.‏
سفیان بین عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عروہ سےاور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ مومن عورتیں صبح کی نماز نبی اکرم ﷺ کے ساتھ پڑھتی تھیں ، پھر اپنی چادریں اوڑھے ہوئے واپس آتیں اور ( اندھیرے کی وجہ سے ) کوئی انھیں پہچان نہیں سکتا تھا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔