قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 2328 — صحيح مسلم 12:65
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، فِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ قَالَ قَالَ نَبِيُّكُمْ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
قتیبہ بن سعید اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ۔ قتیبہ کی حدیث میں ہے تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ابن ابی شیبہ نے کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ۔ ۔ ۔ " ہر نیکی صدقہ ہے ۔
حدیث 2329 — صحيح مسلم 12:66
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي، ذَرٍّ أَنَّ نَاسًا، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالأُجُورِ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَوَلَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْىٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ قَالَ ‏"‏ أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلاَلِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !زیادہ مال رکھنے والے اجر وثواب لے گئے وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزے رکھتے ہیں اور اپنے ضرورت سے زائد مالوں سے صدقہ کرتے ہیں ( جو ہم نہیں کرسکتے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے ایسی چیز نہیں بنائی جس سے تم صدقہ کرسکو؟بے شک ہر دفعہ سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے ، ہر دفعہ اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے ۔ ہر دفعہ الحمد للہ کہنا صدقہ ہے ، ہردفعہ لا الٰہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے ، نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور بُرائی سے ر وکنا صدقہ ہے اور ( بیوی سے مباشرت کرتے ہوئے ) تمھارے عضو میں صدقہ ہے ۔ " صحابہ کرام نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا ااس میں بھی اجر ملتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بتاؤ اگر وہ یہ ( خواہش ) حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اسے اس گناہ ہوتا؟اسی طرح جب وہ اسے حلال جگہ پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے ۔
حدیث 2330 — صحيح مسلم 12:67
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ - عَنْ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلاَثِمَائَةِ مَفْصِلٍ فَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَ اللَّهَ وَهَلَّلَ اللَّهَ وَسَبَّحَ اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ شَوْكَةً أَوْ عَظْمًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ وَأَمَرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَالثَّلاَثِمِائَةِ السُّلاَمَى فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو تَوْبَةَ وَرُبَّمَا قَالَ ‏"‏ يُمْسِي ‏"‏ ‏.‏
ابوتوبہ ر بیع بن نافع نے بیان کیا ، کہا : ہمیں معاویہ بن سلام نے زید سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے ابو سلام کو بیان کرتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہے تھے مجھے عبداللہ بن فروخ نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بنی آدم میں سے ہر انسان کو تین سو ساٹھ مفاصل ( جوڑوں ) پر پیدا کیاگیا ہے تو جس نے تکبیر کہی ، اللہ کی حمد کہی ، اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا ، اللہ کی تسبیح کہی ، اللہ سے مغفرت مانگی ، لوگوں کے راستے سے کوئی پتھر ہٹایا لوگوں کے راستے سے کانٹا یا ہڈی ( ہٹائی ) ، نیکی کا حکم دیا یا برائی سے روکا ، ان تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد ے برابر تو وہ اس دن اس طرح چلے گا کہ وہ اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے دور کرچکا ہوگا ۔ "" ابو توبہ نے کہا : بسا اوقات انھوں ( معاویہ ) نے ( يمشي "" چلے گا "" کے بجائے ) يمسي ( شام یا دن کا اختتام کرے گا ) کہا ۔
حدیث 2331 — صحيح مسلم 12:68
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ، أَخْبَرَنِي أَخِي، زَيْدٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ أَوْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ فَإِنَّهُ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ ‏"‏ ‏.‏
یحییٰ بن حسان نے کہا : ہمیں معاویہ ( بن سلام ) نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے زید کے بھائی نے اسی سندکے ساتھ اسی ( سابقہ حدیث ) کی مانند خبر دی مگر انھوں نے کہا : " اوامربالمعروف ( اور کی بجائے ) یا نیکی کاحکم دیا " اور کہا : فانه يمسي يومئذ " وہ اس دن اس حالت میں شام کرے گا ۔
حدیث 2332 — صحيح مسلم 12:69
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ - حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلاَّمٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ فَرُّوخَ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ ‏"‏ ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ عَنْ زَيْدٍ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ ‏"‏ ‏.‏
حییٰ نے زید بن سلام سے اور انھوں نے اپنے دادا ابو سلام سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عبداللہ بن فروخ نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر انسان کو پیدا کیا گیا ہے ۔ ۔ " آگے زید سے معاویہ کی روایت کے مانند بیان کیا اور کہا : " فانه يمشي يومئيذ تو وہ اس دن چلے گا ۔
حدیث 2333 — صحيح مسلم 12:70
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي، بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ قَالَ ‏"‏ يَعْتَمِلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قِيلَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ قَالَ ‏"‏ يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قِيلَ لَهُ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ قَالَ ‏"‏ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ أَوِ الْخَيْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ ‏"‏ يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
ابو اسامہ نے شعبہ سے ، انھوں نے سعید بن ابی بردہ سے ، انھوں نے اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا ( ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے " کہا گیا : آپ کا کیا خیال ہے اگراسے ( صدقہ کرنے کے لئے کوئی چیز ) نہ ملے؟فرمایا : " اپنے ہاتھوں سے کام کرکے ا پنے آپ کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ ( بھی ) کرے ۔ " اس نے کہا : عرض کی گئی ، آپ کیا فرماتے ہیں اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھے؟فرمایا : " بے بس ضرورت مند کی مدد کرے ۔ " کہا ، آپ سے کہا گیا : دیکھئے!اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہ رکھے؟فرمایا : " نیکی یا بھلائی کاحکم دے ۔ " کہا : دیکھئے اگر وہ ایسا بھی نہ کرسکے؟فرمایا : " وہ ( اپنے آپ کو ) شر سے روک لے ، یہ بھی صدقہ ہے ۔
حدیث 2334 — صحيح مسلم 12:71
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.‏
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
حدیث 2335 — صحيح مسلم 12:72
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ، مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلُّ سُلاَمَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ - قَالَ - تَعْدِلُ بَيْنَ الاِثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَتُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا أَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ - قَالَ - وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَكُلُّ خَطْوَةٍ تَمْشِيهَا إِلَى الصَّلاَةِ صَدَقَةٌ وَتُمِيطُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
ہمام بن منبہ سے روایت کی ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں ۔ انھوں نے کچھ احادیث بیا ن کیں ان میں سے یہ بھی ہے : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "" لوگوں کے ہر جوڑ پر ہر روز ، جس میں سورج طلوع ہوتاہے ، صدقہ ہے ۔ "" فرمایا : تم دو ( آدمیوں ) کے درمیان عدل کرو ( یہ ) صدقہ ہے ۔ اور تمھارا کسی آدمی کی ، اس کے جانور کے متعلق مدد کرناکہ اسے اس پر سوار کرادو یا اس کی خاطر سواری پر اس کا سامان اٹھا کر رکھو ، ( یہ بھی ) صدقہ ہے ۔ "" فرمایا : "" اچھی بات صدقہ ہے اور ہر قدم جس سے تم مسجد کی طرف چلتے ہو ، صدقہ ہے اور تم راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دو ( یہ بھی ) صدقہ ہے ۔
حدیث 2336 — صحيح مسلم 12:73
وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلاَّ مَلَكَانِ يَنْزِلاَنِ فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا ‏.‏ وَيَقُولُ الآخَرُ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھو ں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی دن نہیں جس میں بندے صبح کرتے ہیں مگر ( اس میں آسمان سے ) دو فرشتے اترتے ہیں ، ان میں سے ایک کہتاہے : اے اللہ!خرچ کرنے والے کو ( بہترین ) بدل عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے : اے اللہ! روکنے والے کا ( مال ) تلف کردے ۔
حدیث 2337 — صحيح مسلم 12:74
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ تَصَدَّقُوا فَيُوشِكُ الرَّجُلُ يَمْشِي بِصَدَقَتِهِ فَيَقُولُ الَّذِي أُعْطِيَهَا لَوْ جِئْتَنَا بِهَا بِالأَمْسِ قَبِلْتُهَا فَأَمَّا الآنَ فَلاَ حَاجَةَ لِي بِهَا ‏.‏ فَلاَ يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھو ں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی دن نہیں جس میں بندے صبح کرتے ہیں مگر ( اس میں آسمان سے ) دو فرشتے اترتے ہیں ، ان میں سے ایک کہتاہے : اے اللہ!خرچ کرنے والے کو ( بہترین ) بدل عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے : اے اللہ! روکنے والے کا ( مال ) تلف کردے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔