عبد اللہ بن براداشعری اور ابو کریب محمد بن علاء دو نوں نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے برید سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے ابو بردہ سے انھوں نے حضرت موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فر ما یا : " لو گوں پر یقیناً ایسا وقت آئے گا جس میں آدمی سونے کا صدقہ لے کر گھومے گا پھر اسے کو ئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے اس سے لے لے اور مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے ایسا اکیلا آدمی دیکھا جا ئے گا جس کے پیچھے چا لیس عورتیں ہو ں گی جو اس کی پناہ لے رہی ہو ں گی ۔ ابن براد کی روا یت میں ( ایسا اکیلا آدمی دیکھا جا ئے گا ۔ کی جگہ وتري رجل ( اور تم ایسےآدمی کو دیکھو گے ) ہے ۔
حدیث 2339 — صحيح مسلم #2339
سہیل کے والد ( ابو صالح ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا " قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ مال بڑھ جا ئے گا اور ( پانی کی طرح ) بہنے لگے گا اور آدمی اپنے مال کی زکاۃ لے کر نکلے گا تو اسے ایک شخص بھی نہیں ملے گا جو اسے اس کی طرف سے قبو ل کر لے اور یہاں تک کہ عربکی سر زمین دو بارہ چرا گا ہوں اور نہروں میں بدل جا ئے گی ۔
ابو یونس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فر ما یا : " قیامت قائم نہیں ہو گی یہا ں تک کہ تمھا رے ہاں مال کی فراوانی ہو گئی وہ مال ( پانی کی طرح ) بہے گا یہاں تک کہ ما ل کے مالک کو یہ فکر لا حق ہو گی کہ اس سے اس ( مال ) کو بطور صدقہ کو ن قبول کرےگا ؟ ایک آدمی کو اسے لینے کے لیے بلا یا جا ئے گا تو وہ کہے گا : مجھے اس کی کو ئی ضرورت نہیں ۔
ابو حازم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے اور چا ندی کے ستونوں کی صورت میں اگل دے گی تو قاتل آئے گا اور کہے گا کیا اس کی خا طر میں قتل کیا تھا ؟رشتہ داری تو ڑنے والا آکر کہے گا : کیا اس کے سبب میں نے قطع رحمی کی تھی ؟ چور آکر کہے گا : کیا اس کے سبب میرا ہا تھ کا ٹا گیا تھا ؟پھر وہ اس مال کو چھوڑ دیں گے ۔ اور اس میں سے کچھ نہیں لیں گے ۔
سعید بن یسار سے روا یت ہے کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کو ئی شخص پا کیزہ مال سے کو ئی صدقہ نہیں کرتا اور اللہ تعا لیٰ پا کیزہ مال ہی قبول فر ما تا ہے مگر وہ رحمٰن اسے اپنے دا ئیں ہا تھ میں لیتا ہے چا ہے وہ کھجور کا ایک دا نہ ہو تو وہ اس رحمٰن کی ہتھیلی میں پھلتا پھولتا ہے حتیٰ کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جا تا ہے بالکل اسی طرح جس طرح تم میں سے کو ئی اپنے بچھیرے یا اونٹ کے بچے کو پا لتا ہے ۔
یعقوب بن عبد الرحمٰن القاری نے سہیل سے انھوں نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا " کو ئی شخص اپنی پا کیزہ کما ئی سے ایک کھجور بھی خرچ نہیں کرتا مگر اللہ اسے اپنے دا ہنے ہا تھ سے قبول کرتا ہے اور اسے اس طرح پالتا ہے جس طرح تم میں سے کو ئی اپنے بچھیرے یا اونٹ کے بچے کو پا لتا ہے حتیٰ کہ وہ ( کھجور ) پہا ڑ کی طرح یا اس سے بھی بڑی ہو جا تی ہے ۔
روح بن قاسم اور سلیما ن بن بلال دو نوں نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ ( مذکور ہ با لا ) حدیث بیان کی ، روح کی حدیث میں ہے ۔ من الكسب الطيب فيضعها في حقها ( حلال کمائی سے صدقہ کرتا ہے پھر اس کو وہاں لگا تا ہے جہاں اس کا حق ہے ) اور سلیمان کی حدیث میں ہے فيضعها في موضعها ( اور اسے اس کی جگہ پر خرچ کرتا ہے)
حدیث 2345 — صحيح مسلم 12:82
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ عَنْ سُهَيْلٍ .
ہشا م بن سعد نے زید بن اسلم سے انھوں نے ابو صالح سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روا یت کی جس طرح سہیل سے یعقوب کی حدیث ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اے لو گو !اللہ تعا لیٰ پا ک ہے اور پا ک ( مال ) کے سوا ( کو ئی ما ل ) قبو ل نہیں کرتا اللہ نے مو منوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا : " اے پیغمبران کرام! پا ک چیز یں کھا ؤ اور نیک کا م کرو جو عمل تم کرتے ہو میں اسے اچھی طرح جا ننے والا ہوں اور فر ما یا اے مومنو!جو پا ک رزق ہم نے تمھیں عنا یت فر ما یا ہے اس میں سے کھا ؤ ۔ پھر آپ نے ایک آدمی کا ذکر کیا : " جو طویل سفر کرتا ہے بال پرا گندا اور جسم غبار آلود ہے ۔ ( دعا کے لیے آسمان کی طرف اپنے دو نوں ہا تھ پھیلا تا ہے اے میرے رب اے میرے رب! جبکہ اس کا کھا نا حرام کا ہے اس کا پینا خرا م کا ہے اس کا لبا س حرا م کا ہے اور اس کو غذا حرا م کی ملی ہے تو اس کی دعا کہا ں سے قبو ل ہو گی ۔)
عبد اللہ بن معقل نے حضرت عدیبن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا : " تم میں سے جو شخص آگ سے محفوظ رہنے کی استطا عت رکھے چا ہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے کیوں نہ ہو وہ ضرور ( ایسا ) کرے ۔