قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 2348 — صحيح مسلم 12:85
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ، بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى إِلاَّ مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى إِلاَّ مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلاَ يَرَى إِلاَّ النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ ابْنُ حُجْرٍ قَالَ الأَعْمَشُ وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ ‏"‏ وَلَوْ بِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ قَالَ الأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ ‏.‏
علی بن حجر سعدی اسحاق بن ابرا ہیم اور علی بن خشرم میں سے علی بن حجر نے کہا : ہمیں عیسیٰ بن یو نس نے حدیث بیا ن کی اور باقی دو نوں نے کہا : ہمیں خبر دی انھوں نے کہا : ہمیں اعمش نے خثیمہ کے واسطے سے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : تم میں سے کو ئی نہیں مگر عنقریب اللہ اس طرح اس سے بات کرے گا کہ اس کے اور اللہ تعا لیٰ کے درمیان کوئی تر جمان نہیں ہو گا ۔ اور اپنی دا ئیں جا نب دیکھے گا تو اسے وہی کچھ نظر آئے گا جو اس نے آگے بھیجا اور اپنی بائیں جا نب دیکھے گا تو وہی کچھ دکھا ئی دے گا جو اس نے آگے بھیجا اور اپنے آگے دیکھے گا تو اسے اپنے منہ کے سامنے آگ دکھا ئی دے گی اس لیے آگ سے بچو اگر چہ آدھی کھجور کے ذریعے ہی سے کیوں نہ ہو ۔ "" ( علی ) بن حجر نے اضافہ کیا : اعمش نے کہا : مجھے عمرو بن مرہ نے خیثمہ سے اسی جیسی حدیث بیان کی اور اس میں اضافہ کیا : چا ہے پا کیزہ بو ل کے ساتھ ( بچو ۔ ) اسحاق نے کہا : اعمش نے کہا : عمرو بن مرہ سے روایت ہے ( کہا ) خیثمہ سے روا یت ہے ۔
حدیث 2349 — صحيح مسلم 12:86
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّارَ فَأَعْرَضَ وَأَشَاحَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اتَّقُوا النَّارَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو كُرَيْبٍ كَأَنَّمَا وَقَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب دو نوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی انھوں نے عمرو بن مرہ سے انھوں نے خیثمہ سے انھوں نے حضرت عدی بن حا تم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گ کا تذکرہ فر ما یا تو چہرہ مبا رک ایک طرف موڑ ا اور اس میں مبا لغہ کیا پھر فر ما یا : "" آگ سے بچو ۔ پھر رخ مبا رک پھیرا اور دور ہو نے کا اشارہ کیا حتیٰ کہ ہمیں غمان ہوا جیسے آپ اس ( آگ ) کی طرف دیکھ رہے ہیں پھر فر ما یا : "" آگ سے بچو چا ہے آدھی کھجور کے ساتھ جسے ( یہ بھی ) نہ ملے تو اچھی بات کے ساتھ ۔ ابو کریب نےكانما ( جیسے ) کا ( لفظ ) ذکر نہیں کیا اور کہا : ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ۔
حدیث 2350 — صحيح مسلم 12:87
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ذَكَرَ النَّارَ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے عمرو بن مرہ سے با قی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ کا ذکر کیا تو اس سے پناہ مانگی اور تین بار اپنے چہرہ مبا رک کے ساتھ دور ہو نے کا اشارہ کیا ، پھر فر ما یا : " آگ سے بچو چا ہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے ( بچو ) اگر تم ( یہ بھی ) نہ پاؤ تو اچھی بات کے ساتھ ۔
حدیث 2351 — صحيح مسلم 12:88
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ، بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَدْرِ النَّهَارِ قَالَ فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ ‏"‏ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏{‏ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا‏}‏ وَالآيَةَ الَّتِي فِي الْحَشْرِ ‏{‏ اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ‏}‏ تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ - حَتَّى قَالَ - وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ - قَالَ - ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَىْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عون بن ابی جحیفہ سے حدیث بیان کی ، ا نھوں نے منذر بن جریر سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا ؛ ہم دن کے ابتدا ئی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ظر تھے کہ آپ کے پا س کچھ لو گ ننگے پاؤں ننگے بدن سوراخ کر کے دن کی دھا ری دار چادریں یا غبائیں گلے میں ڈا لے اور تلواریں لٹکا ئے ہو ئے آئے ان میں سے اکثر بلکہ سب کے سب مضر قبیلے سے تھے ان کی فاقہ زدگی کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ نور غمزدہ ہو گیا آپ اندر تشریف لے گئے پھر با ہر نکلے تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی آپ نے نماز ادا کی ، پھر خطبہ دیا اور فرما یا : " اے لو گو !اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جا ن سے پیدا کیا ۔ ۔ ۔ آیت کے آخر تک " بے شک اللہ تم پر نگرا ن ہے اور وہ آیت جو سورہ حشر میں ہے اللہ سے ڈرو اور ہر جا ن دیکھے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے ( پھر فر ما یا ) آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنے دینا ر سےاپنے درہم سے اپنے کپڑے سے اپنی گندم کے ایک صاع سے اپنی کھجور کے ایک صاع سے ۔ حتیٰ کہ آپ نے فر ما یا : ۔ ۔ ۔ چا ہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے صدقہ کرے ( جریرنے ) کہا : تو انصار میں سے ایک آدمی ایک تھیلی لا یا اس کی ہتھیلی اس ( کو اٹھا نے ) سے عاجز آنے لگی تھی بلکہ عا جز آگئی تھی کہا : پھر لو گ ایک دوسرے کے پیچھے آنے لگے یہاں تک کہ میں نے کھا نے اور کپڑوں کے دو ڈھیر دیکھے حتیٰ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا وہ اس طرح دمک رہا تھا جیسے اس پر سونا چڑاھا ہوا ہو ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا " جس نے اسلا م میں کو ئی اچھا طریقہ رائج کیا تو اس کے لیے اس کا ( اپنا بھی ) اجر ہےے اور ان کے جیسا اجر بھی جنھوں نے اس کے بعد اس ( طریقے ) پر عمل کیا اس کے بغیر کہ ان کے اجر میں کو ئی کمی ہو اور جس نے اسلا م میں کسی برے طریقے کی ابتدا کی اس کا بو جھ اسی پر ہے اور ان کا بو جھ بھی جنھوں نے اس کے بعد اس پر عمل کیا اس کے بغیر کہ ان کے بو جھ میں کو ئی کمی ہو ۔
حدیث 2352 — صحيح مسلم 12:89
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي قَالاَ، جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَدْرَ النَّهَارِ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُعَاذٍ مِنَ الزِّيَادَةِ قَالَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ خَطَبَ ‏.‏
ابو اسامہ اور معاذ عنبری دو نوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیا ن کی ، ا نھوں نے کہا مجھے عون بن ابی جحیفہ نے حدیث بیا ن کی انھوں نے کہا : میں منذر بن جریر سے سنا انھوں نے اپنے والد سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم دن کے ابتدا ئی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( حا ضر ) تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے ابن جعفر کی حدیث کی طرح ہے ۔ اور ابن معاذ کی حدیث میں اضافہ ہے ، کہا : پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا فرمائی ، پھر خطبہ دیا ۔)
حدیث 2353 — صحيح مسلم 12:90
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ قَوْمٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرًا صَغِيرًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ‏}‏ الآيَةَ ‏"‏ ‏.‏
عبدالملک بن عمیر نے منذر بن جریر سے اور انھوں نےاپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم درمیا ن میں سوراخ کرکے اون کی دھاری دار چیتھڑے گلے میں ڈالے آئی ۔ ۔ ۔ اور پورا واقعہ بیان کیا اور اس میں ہے : آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی ، پھر ایک چھوٹے سے منبر پر تشریف لےگئے ، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے : " اےلوگو!اپنے رب سے ڈرو ۔ " آیت کے آخر تک ۔
حدیث 2354 — صحيح مسلم 12:91
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، يَزِيدَ وَأَبِي الضُّحَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلاَلٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمُ الصُّوفُ فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ ‏.‏ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ ‏.‏
عبدالرحمان بن ہلال عبسی نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : بدوؤں میں سے کچھ لوگو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان کے جسم پراونی کپڑے تھے ، آپ نے ان کی بدحالی دیکھی ، وہ فاقہ زدہ تھے ۔ ۔ ۔ پھر ان ( سابقہ راویان حدیث ) کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی ۔
حدیث 2355 — صحيح مسلم 12:92
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ ‏.‏ قَالَ كُنَّا نُحَامِلُ - قَالَ - فَتَصَدَّقَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ - قَالَ - وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِشَىْءٍ أَكْثَرَ مِنْهُ فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا وَمَا فَعَلَ هَذَا الآخَرُ إِلاَّ رِيَاءً فَنَزَلَتْ ‏{‏ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لاَ يَجِدُونَ إِلاَّ جُهْدَهُمْ‏}‏ وَلَمْ يَلْفِظْ بِشْرٌ بِالْمُطَّوِّعِينَ ‏.‏
یحییٰ بن معین اور بشر بن خالد نے ۔ لفظ بشر کے ہیں ۔ حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بن جعفر ( غندر ) نےخبر دی ، انھوں نے شعبہ سے ، انھوں نے سلیمان سے ، انھوں نے ابو وائل سے اور انھوں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہمیں صدقہ کرنے کاحکم دیا گیا ہے ، کہا : ہم بوجھ اٹھایا کرتے تھے ۔ کہا : ابوعقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آدھا صاع صدقہ کیا ۔ ایک دوسرا انسان اس سے زیادہ کوئی چیز لایا تو منافقوں نے کہا : اللہ تعالیٰ اس کے صدقے سے غنی ہے اور اس دوسرے نے محض دکھلاوا کیا ہے ، اس پر یہ آیت مبارک اتری : " وہ لوگ جو صدقات کے معاملے میں دل کھول کر دینے والے مسلمانوں پرطعن کرتے ہیں اور ان پر بھی جو اپنی محنت ( کی اجرت ) کے سواکچھ نہیں پاتے ۔ " بشر نے المطوعين ( اوربعد کے ) الفاظ نہیں کہے ۔
حدیث 2356 — صحيح مسلم 12:93
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ح وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ كُنَّا نُحَامِلُ عَلَى ظُهُورِنَا ‏.‏
سعید بن ربیع اورابو داود دونوں نے شبعہ سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حدیث بیا ن کی اور سعید بن ربیع کی حدیث میں ہے ، کہا : ہم اپنی پشتوں پر بوجھ اٹھاتے تھے ۔
حدیث 2357 — صحيح مسلم 12:94
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ ‏ "‏ أَلاَ رَجُلٌ يَمْنَحُ أَهْلَ بَيْتٍ نَاقَةً تَغْدُو بِعُسٍّ وَتَرُوحُ بِعُسٍّ إِنَّ أَجْرَهَا لَعَظِيمٌ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، وہ اسے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک ) پہنچاتے تھے : " سن لو ، کوئی آدمی کسی خاندان کو ( ایسی دودھ دینے والی ) اونٹنی دے جو صبح کو بڑا پیالہ بھر دودھ دے اور شام کو بھی بڑا پیالہ بھر دودھ دے تو یقیناً اس ( اونٹنی ) کا اجر بہت بڑا ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔