حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے ( کچھ اشیاء سے ) منع کیا ، پھر چند خصلتوں کا ذکر کیا اورفرمایا : " جس نے دودھ پینے کے لئے جانور دیا تو اس ( اونٹنی ، گائے وغیرہ ) نے صدقے سے صبح کی اور صدقے سے شام کی ، یعنی اپنے صبح کے دودھ سے اور اپنے شام کے دودھ سے ۔
ابو زناد نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، نیز ابن جریج نے کہا : حسن بن مسلم سے ، انھوں نے طاوس سے ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ " خرچ کرنے والے اور صدقہ دینے والے کی مثال اس آدمی کی ہے جس کے جسم پر چھاتی سے لے کر ہنسلی کی ہڈیوں تک دو جبے یا دو زرہیں ہوں ۔ جب خرچ کرنے والا اور دوسرے ( راوی ) نے کہا : جب صدقہ کرنے والا ۔ خرچ کرنے کا ارادہ کرتاہے تو وہ زرہ اس ( کے جسم ) پر کھل جاتی ہے یا رواں ہوجاتی ہے اور جب بخیل خرچ کرنے کاارادہ کرتا ہےتو وہ اس ( کے جسم ) پر سکڑ جاتی ہے اورہر حلقہ اپنی جگہ ( کومضبوطی سے ) پکڑ لیتا ہے حتیٰ کہ اس ( کی انگلیوں ) کے پوروں کو ڈھانپ دیتا ہے اور اس کے نقش پا کو مٹا دیتا ہے ۔ " کہا : تو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : آپ نے فرمایا : " وہ ( بخیل ) اس کو کھولنا چاہتا ہے لیکن وہ کھلتی نہیں ۔
ابراہیم بن نافع نے حسن بن مسلم سے ، انھوں نے طاوس سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال بیان فرمائی : " بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ایسے دو آدمیوں کی مانند ہے جن ( کے جسموں ) پر لوہے کی دو زرہیں ہیں ، ان کے دونوں ہاتھ انکی چھاتیوں اورہنسلی کی ہڈیوں سے جکڑے ہوئے ہیں ، پس صدقہ دینے والا جب صدقہ دینے لگتا ہےتووہ ( اس کی زرہ ) پھیل جاتی ہے حتیٰ کہ اس کی انگلیوں کے پوروں کو ڈھانپ لیتی ہے اور ( زمین پر گھسیٹنے کی وجہ سے ) اس کے نقش قدم کو مٹانے لگتی ہے ۔ اور بخیل جب صدقہ دینے کا ارادہ کرنے لگتا ہے تو وہ سکڑ جاتی ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ کو پکڑ لیتا ہے ۔ " ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی گریبان میں ڈال رہے تھے ، کاش تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ( ایسے لگتا تھا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کشادہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی ۔
عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ان دو آدمیوں جیسی ہے جن پر لوہے کی دو زرہیں ہیں ، صدقہ دینے والا جب صدقہ دینے کاارادہ کرتا ہے تو وہ ( اس کی زرہ ) اس پر کشادہ ہوجاتی ہے حتیٰ کہ اس کے نقش پا کو مٹانے لگتی ہے اور جب بخیل صدقہ دینے کاارادہ کرتاہے تو وہ ( زرہ ) اس پر سکڑ جاتی ہے اور اس کے دونوں ہاتھ اس کی ہنسلی کے ساتھ جکڑ جاتے ہیں اور ہر حلقہ ساتھ و الے حلقے کے ساتھ پیوست ہوجاتاہے ۔ " ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " وہ کوشش کرتا ہے کہ اسے کشادہ کرے لیکن نہیں کرسکتا ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک آدمی نے کہا : میں آج رات ضرور کچھ صدقہ کروں گا تو وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسےایک زانیہ کے ہاتھ میں دے دیا ، صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ پر صدقہ کیا گیا ، اس آدمی نے کہا : اے اللہ تیری حمد!زانیہ پر ( صدقہ ہوا ) میں ضرور صدقہ کروں گا ، پھر وہ صدقہ لے کر نکلا تو اسے ایک مالدار کے ہاتھ میں دے دیا ۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے : ایک مال دار پر صدقہ کیا گیا ۔ اس نے کہا : اے اللہ تیری حمد! مالدار پر ( صدقہ ہوا ) میں ضرور کچھ صدقہ کروں گا اور وہ اپنا صدقہ لے کر نکلاتو اسے ایک چور کے ہاتھ پر رکھ دیا ۔ لوگ صبح کو باتیں کرنے لگے : چور پر صدقہ کیا گیا ۔ تو اس نے کہا : اے اللہ ! سب حمد تیرے ہی لئے ہے ، زانیہ پر ، مالدار پر ، اور چور پر ( صدقہ ہوا ) ۔ اس کو ( خواب میں ) کہا گیا تمہارا صدقہ قبول ہوچکا ، جہاں تک زانیہ کا تعلق ہے تو ہوسکتا ہے کہ اس ( صدقے ) کی وجہ سے زانیہ اپنے زنا سے پاک دامنی اختیار کرلے اور شاید مال دارعبرت پکڑے اور اللہ نے جو اسے دیا ہے ( خود ) اس میں صدقہ کرے اور شاید اس کی وجہ سے چور اپنی چوری سے باز آجائے ۔
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک ایک مسلمان امانت دار خازن ( خزانچی ) جو دیئے گئے حکم پر عمل کرتا ہے ۔ ( یا فرمایا : ادا کرتا ہے ) اسے خوش دلی کے ساتھ پورے کا پورا ( بلکہ ) وافر ، اس شخص کو ادا کردیتا ہے جس کے بارے میں اسے حکم دیا گیا ہے تو وہ ( خازن بھی ) ۔ ۔ ۔ دو صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے ۔
جریر نے منصور سے ، انھوں نے شقیق سے ، انھوں نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب عورت اجاڑے بغیر اپنے گھر کے کھانے سے خرچ کرتی ہے تو اسے خرچ کرنے کی وجہ سے اجر ملے گا اور اس کے خاوند کو اس کے کمانے کی وجہ سے اپنا اجر ملے گا اور خزانچی کے لئے بھی اسی طرح ( اجر ) ہے ۔ یہ ایک دوسرے کے اجر میں کوئی کمی نہیں کرتے ۔
فضیل بن عیاض نے منصور سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کے مانند ) روایت کی اور انھوں نے ( " اپنے گھر کے کھانے میں سے " کے بجائے ) من طعام زوجها ( اپنے خاوند کے کھانے میں سے ) کے الفاظ کہے ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شقیق سے ، انھوں نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب عورت اجاڑے بغیر اپنے خاوند کے گھر سے ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرتی ہے تو اس کے لئے اس کااجر ہے اور اس ( خاوند ) کے لئے بھی اس کے کمانے کی وجہ سے ویسا ہی اجر ہے اور اس عورت کے لئے اس کے خرچ کرنے کی وجہ سے اور خزانچی کے لئے بھی اس جیسا ( اجر ) ہے ، ان ( سب لوگوں ) کے اجر میں کچھ کمی کئے بغیر ۔