قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 2368 — صحيح مسلم 12:105
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ حَفْصِ، بْنِ غِيَاثٍ - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ كُنْتُ مَمْلُوكًا فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَأَتَصَدَّقُ مِنْ مَالِ مَوَالِيَّ بِشَىْءٍ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ وَالأَجْرُ بَيْنَكُمَا نِصْفَانِ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن زید نے آبی اللحم ( غفاری ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں غلام تھا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کیا میں اپنے آقاؤں کے مال میں سے کچھ صدقہ کرسکتا ہوں؟آپ نے فرمایا : " ہاں ، اوراجر تم دونوں کےدرمیان آدھاآدھا ( برابر برابر ) ہوگا ۔
حدیث 2369 — صحيح مسلم 12:106
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ - قَالَ سَمِعْتُ عُمَيْرًا، مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ أَمَرَنِي مَوْلاَىَ أَنْ أُقَدِّدَ، لَحْمًا فَجَاءَنِي مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلاَىَ فَضَرَبَنِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَدَعَاهُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لِمَ ضَرَبْتَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يُعْطِي طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ الأَجْرُ بَيْنَكُمَا ‏"‏ ‏.‏
یزید بن ابی عبید نے کہا : میں نے آبی اللحم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : مجھے میرے آقا نے گوشت کے ٹکڑے کرکے خشک کرنے کا حکم دیا ، میرے پاس ایک مسکین آگیا تو میں نے اس میں سے کچھ کھلا دیا ۔ میرے آقا کو اس کا پتہ چل گیا ۔ تو انھوں نے مجھے مارا ۔ اس پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی ۔ آپ نے اسے بلا کر پوچھا : " تم نے اسے کیوں مارا؟ " اس نے کہا : میرے حکم کے بغیر میراکھانا ( دوسروں کو ) دیتا ہے ۔ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " اجر تم دونوں کے درمیان ہوگا ۔ " ( تم دونوں کو ملے گا)
حدیث 2370 — صحيح مسلم 12:107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَصُمِ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلاَّ بِإِذْنِهِ وَلاَ تَأْذَنْ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلاَّ بِإِذْنِهِ وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
ہمام بن منبہ سے ر وایت ہے ، کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ، پھر انھوں نے کچھ احادیث ذکر کیں ، ان میں سے یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں ( نفلی ) روزہ نہ رکھے مگر جب اس کی اجازت ہو اور اس کے گھر میں اس ک موجودگی میں ( اپنے کسی محرم کو بھی ) اس کی اجازت کے بغیر نہ آنے دےاور اس ( عورت ) نے اس کے حکم کے بغیر اس کی کمائی سے جو کچھ خرچ کیا تو یقیناً اس کا آدھا اجر اس ( خاوند ) کے لئے ہے ۔
حدیث 2371 — صحيح مسلم 12:108
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي الطَّاهِرِ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ ‏.‏ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا ؟ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمان سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے اللہ کی راہ میں دو دو چیزیں خرچ کیں اسے جنت میں آواز دی جائے گی کے اے اللہ کے بندے!یہ ( دروازہ ) بہت اچھا ہے ۔ ( کیونکہ وہ دوسرے میں سے جانے کا حقدار بھی ہوگا ) جو نماز پڑھنے والوں میں سے ہوگا ، اسے نماز کے دروازے سے پکارا جائے گا ، جو جہاد کرنے والوں میں سے ہوگا ، اسے جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا ، جو صدقہ دینے والوں میں سے ہوگا ، اسے صدقے والے دروازے سے پکارا جائے گا ، اور جو روزہ داروں میں سے ہوگا ، اسے باب ریان ( سیرابی کے دروازے ) سے پکارا جائے گا ۔ " ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کسی انسان کو ان تمام دروازوں سے پکارے جان کی ضرورت تو نہیں ہے لیکن کیا کوئی ایسا بھی ( خوش نصیب ) ہوگا جسے ان تمام دروازوں سے بلا یا جائے گا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ، اور مجھے امید ہے تم انھی میں سے ہوگے ۔
حدیث 2372 — صحيح مسلم 12:109
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ، الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ ‏.‏
صالح اور معمر دونوں نے زہری سے یونس کی مذکورہ بالا سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیا ن کی ۔
حدیث 2373 — صحيح مسلم 12:110
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دَعَاهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ كُلُّ خَزَنَةِ بَابٍ أَىْ فُلُ هَلُمَّ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَلِكَ الَّذِي لاَ تَوَى عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏
ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے روایت ہےکہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے اللہ کی راہ میں جوڑا جوڑا خرچ کیا ، اسے جنت کے پہرے دار بلائیں گے ، دروازے کے تمام پہر ے دار ( کہیں گے : ) اے فلاں!آجاؤ ۔ " اس پر ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ایسے فرد کو کسی قسم ( کے نقصان ) کا اندیشہ نہیں ہوگا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے امید ہے کہ تم انھی میں سے ہو گے ۔
حدیث 2374 — صحيح مسلم 12:111
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِي الْفَزَارِيَّ - عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه أَنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه أَنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه أَنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه أَنَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آج تم میں سے روزے دار کون ہے؟ " ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آج تم میں سے جنازے کے ساتھ کون گیا؟ " ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں ، آپ نے پوچھا : " آج تم میں سے کسی نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟ " ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : میں نے ، آپ نے پوچھا : " تو آج تم میں سے کسی بیمار کی تیمار داری کس نے کی؟ " ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی انسان میں یہ نیکیاں جمع نہیں ہوتیں مگر وہ یقیناً جنت میں داخل ہوتاہے ۔
حدیث 2375 — صحيح مسلم 12:112
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنْفِقِي - أَوِ انْضَحِي أَوِ انْفَحِي - وَلاَ تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ ‏"‏ ‏.‏
حفص بن غیا ث نے ہشام سے انھوں نے فا طمہ بنت منذر سے اور انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر ما یا : " ( مال کو ) خرچ ۔ ۔ ۔ یا ہر طرف پھیلاؤ یا ( پانی کی طرح ) بہاؤ ۔ ۔ ۔ اور گنو نہیں ورنہ اللہ بھی تمھیں گن گن کر دے گا ۔
حدیث 2376 — صحيح مسلم 12:113
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي، مُعَاوِيَةَ - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، - حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ، وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ انْفَحِي - أَوِ انْضَحِي أَوْ أَنْفِقِي - وَلاَ تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَلاَ تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن خازم نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے عبادبن حمزہ اور فا طمہ بنت منذر حدیث بیان کی اور انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( مال کو ) ہر طرف خرچ کرو ۔ ۔ یا ( پانی کی طرح بہاؤ یا خرچ کرو ۔ ۔ ۔ اور شمار نہ کرو ورنہ اللہ بھی تمھیں شمار کر کر کے دے گا اور سنبھا ل کر نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تم سے سنبھا ل کر رکھے گا ۔)
حدیث 2377 — صحيح مسلم 12:114
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا نَحْوَ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
محمد بن بشر نے کہا : ہمیں ہشا م نے عبا د بن حمزہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت اسما رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا ۔ ۔ ۔ ان ( مذکورہ با لا راویوں ) کی حدیث کے ما نند ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔