قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 398 — صحيح مسلم 1:303
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، جَمِيعًا عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ثَلاَثٌ إِذَا خَرَجْنَ لاَ يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏
ابو حازم نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تین چیزیں ہیں جب ان کا ظہور ہو جائے گا تو اس وقت کسی شخص کو ، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اپنے ایمان کے دوران میں کوئی نیکی نہ کی تھی ، اس کا ایمان لانافائدہ نہ دے گا : سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ، دجال اور دابۃ الارض ( زمین سے ایک عجیب الخلقت جانور کا نکلنا ۔ ) ‘ ‘
حدیث 399 — صحيح مسلم 1:304
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، - حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ، - سَمِعَهُ فِيمَا، أَعْلَمُ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمًا ‏"‏ أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذِهِ تَجْرِي حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَخِرُّ سَاجِدَةً وَلاَ تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا ارْتَفِعِي ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا ثُمَّ تَجْرِي حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَخِرُّ سَاجِدَةً وَلاَ تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا ارْتَفِعِي ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا ثُمَّ تَجْرِي لاَ يَسْتَنْكِرُ النَّاسُ مِنْهَا شَيْئًا حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا ذَاكَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَيُقَالُ لَهَا ارْتَفِعِي أَصْبِحِي طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِكِ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَدْرُونَ مَتَى ذَاكُمْ ذَاكَ حِينَ لاَ يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ‏"‏ ‏.‏
(اسماعیل ) ابن علیہ نے کہا : ہمیں یونس نے ابراہیم بن یزید تیمی کے حوالے سے حدیث سنائی ، میرے علم کے مطابق ، انہوں نے یہ حدیث اپنے والد ( یزید ) سے سنی اور انہوں نے حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن پوچھا : ’’جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے اپنے مستقر پر پہنچ جاتا ہے ، پھر سجدے میں چلا جاتا ہے ، وہ مسلسل اسی حالت میں رہتا ہے حتی کہ اسے کہا جاتا ہے : اٹھو! جہاں سے آئے تھے ادھر لوٹ جاؤ تو وہ واپس لوٹتا ہے اور اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے ، پھر چلتا ہوا عرش کے نیچے اپنی جائے قرار پر پہنچ جاتا ہے ، پھر سجدہ ریز ہو جاتا ہے اور اسی حالت میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس سے کہا جاتا ہے : بلند ہو جاؤ اور جہاں سے آئے تھے ، ادھر لوٹ جاؤ تو وہ واپس جاتا ہے اور اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے ، پھر ( ایک دن سورج ) چلےگا ، لوگ اس میں معمول سے ہٹی ہوئی کوئی چیز نہیں پائیں گے حتی کہ ( جی ) یہ عرش کے نیچے اپنے اسی مستقر پر پہنچے گا تو اسے کہا جائے گا : بلندہو اور اپنےمغرب ( جس طرف غروب ہوتا تھا ، اسی سمت ) سے طلوع ہو تو وہ اپنے مغرب سے طلوع ہو گا ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے فرمایا : ’’کیا جانتے ہو یہ کب ہو گا؟ یہ اس وقت ہو گا جب ’’کسی شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اپنے ایمان کےدوران میں نیکی نہیں کمائی تھی ۔ ‘ ‘
حدیث 400 — صحيح مسلم 1:305
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - عَنْ يُونُسَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمًا ‏ "‏ أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ ‏"‏ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ ‏.‏
خالد بن عبد اللہ نے یونس سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ایک دن نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ کیا تم جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ ‘ ‘ ؟.. .....اس کے بعد ابن علیہ والی حدیث کے ہم معنی ( روایت ) ہے ۔
حدیث 401 — صحيح مسلم 1:306
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ فَتَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا ‏.‏
ابو معاویہ نے کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرماتھے ، جب سورج غائب ہو گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اے ابو ذر!کیا تم جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ کہا : میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جاننے والے ہیں ۔ فرمایا : ’’ یہ جاتا ہے ، پھر سجدے کی اجازت مانگتا ہے تو اسے سجدے کی اجازت دی جاتی ہے ، ( پھر یوں ہو گا کہ ) جیسے اس سے کہہ دیا گیاہو ( اس میں اشارہ ہے کہ ہم حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے ، ہمیں تمثیلا اس کی خبر دی جا رہی ہے ) کہ جس طرف سے آئے تھے ، ادھر لوٹ جاؤ تویہ اپنی غروب ہونےوالے سمت سے طلوع ہو جائے گا ‘ ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : پھر آپ نے ﴿تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا﴾کے بجائے ) عبد اللہ بن مسعود کی روایت کردہ قراءت کے مطابق پڑھا : وذلك مستقرلها’’یہ اس کا مستقر ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 402 — صحيح مسلم 1:307
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا - وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا‏}‏ قَالَ ‏"‏ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ‏"‏ ‏.‏
وکیع نے اعمش سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا : ’’سورج اپنے مستقر کی طرف چل رہا ہے ۔ ‘ ‘ آپ نے جواب دیا : ’’اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے ۔
حدیث 403 — صحيح مسلم 1:308
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْوَحْىِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةَ فِي النَّوْمِ فَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلاَّ جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلاَءُ فَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ يَتَحَنَّثُ فِيهِ - وَهُوَ التَّعَبُّدُ - اللَّيَالِيَ أُولاَتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ اقْرَأْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا أَنَا بِقَارِئٍ - قَالَ - فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مَ�� أَنَا بِقَارِئٍ - قَالَ - فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ ‏.‏ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي ‏.‏ فَقَالَ ‏{‏ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ * خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ * اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ * الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ * عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ ‏"‏ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي ‏"‏ ‏.‏ فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ ثُمَّ قَالَ لِخَدِيجَةَ ‏"‏ أَىْ خَدِيجَةُ مَا لِي ‏"‏ ‏.‏ وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ قَالَ ‏"‏ لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ كَلاَّ أَبْشِرْ فَوَاللَّهِ لاَ يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ‏.‏ فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ وَيَكْتُبُ مِنَ الإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ ‏.‏ فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ أَىْ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ ‏.‏ قَالَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَبَرَ مَا رَآهُ فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى صلى الله عليه وسلم يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَرَقَةُ نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلاَّ عُودِيَ وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا ‏"‏ ‏.‏
یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے حدیث سنائی کہ حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں خبر دی انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کا آغاز سب سے پہلے نیند میں سچےخواب آنے سے ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ جو خواب بھی دیکھتے اس کی تعبیر صبح کے روشن ہونے کی طرح سامنے آ جاتی ، پھر خلوت نشینی آپ کو محبوب ہو گئی ، آپ غار حراء میں خلوت اختیار فرماتے اور گھر واپس جا کر ( دوبارہ ) اسی غرض کے لیے زاد راہ لانے سے پہلے ( مقررہ ) تعداد مں راتیں تحنث میں مصروف رہتے ، تحنث عبادت گزاری کو کہتے ہیں ، ( اس کے بعد ) آپ پھر خدیجہ ؓ کے پاس واپس آ کر ، اتنی ہی راتوں کے لیے زاد ( سامان خور و نوش ) لے جاتے ، ( یہ سلسلہ چلتا رہا ) یہاں تک کہ اچانک آپ کے پاس حق ( کا پیغام ) آ گیا ، اس وقت آ پ غار حراء ہی میں تھے ، چنانچہ آپ کے فرشتہ آیا اور کہا : پڑھیے! آپ نے جواب دیا : میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں ، آپ نے فرمایا : تو اس ( فرشتے ) نے مجھے پکڑ کر زور سے بھینچا یہاں تک کہ ( اس کا دباؤ ) میری برداشت کی آخری حد کو پہنچ گیا ، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا : پڑھیے ! میں میں نے کہا : میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں ، پھر اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی اور دوبارہ بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی ، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا : پڑھیے! میں نے کہا : میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں ، پھر اس نے تیسری دفعہ مجھے پکڑ کر پوری قوت سے بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی ، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا : ’’اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا ، اس نے انسان کو گوشت کے جونک جیسے لوتھڑے سے پیدا کیا ، پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے تعلیم دی اور انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا ۔ ‘ ‘ رسول اللہ ﷺ ان آیات کے ساتھ واپس لوٹے ، ( اس وقت ) آپ کے کندھوں اور گردن کے درمیان کے گوشت کے حصے لرز رہے تھے یہاں تک کہ آپ خدیجہ ؓ کے پاس پہنچے اور فرمایا : ’’مجھے کپڑے اوڑھا ؤ ، مجھے کپڑا اوڑھا ؤ ۔ ‘ ‘ انہوں ( گھر والوں ) نے کپڑا اوڑھا دیا دیا یہاں تک کہ آپ کا خوف زائل ہو گیا تو آپ نے حضرت خدیجہؓ سے کہا : ’’ خدیجہ ! یہ مجھے کیا ہوا ہے ؟ ‘ ‘ خدیجہ نے جواب دیا : ہر گز نہیں ! ( بلکہ ) آپ کو خوش خبری ہو اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا ، اللہ کی قسم ! آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ، سچی بات کہتے ہیں ، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ، اسے کما کر دیتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو ، مہمان نوازی کرتے ہیں ، حق کے لیے پیش آنےوالی مشکلات میں اعانت کرتے ہیں ، پھر خدیجہؓ آپ کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبد العزیٰ کے پاس پہنچیں ، وہ حضرت خدیجہ ؓ کے چچازاد ، ان کووالد کے بھائی کے بیٹے تھے ، وہ ایسے آدمی تھے جو جاہلیت کے دور میں عیسائی ہو گئے تھے ، عربی خط میں لکھتے تھے ، اور جس قدر الہ کو منظور تھا ، انجیل کوعربی زبان میں لکھتے تھے ، بہت بوڑھے تھے اور بینائی جاتی رہی تھی ۔ خدیجہ ؓ نے ان سےکہا : چچا! اپنے بھتیجے کی بات سنیے ، ورقہ بن نوفل نے پوچھا : برادرز دے! آپ کیا دیکھتے ہیں ؟ رسول ا للہ ﷺ نے جو کچھ دیکھا تھا ، ا س کا حال بتایا تو ورقہ نے آپ سے کہا : یہ وہی ناموس ( رازوں کا محافظ ) ہے جسے موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ کی طرف بھیجا گیا تھا ، کاش ! اس وقت میں جوان ہوتا ، کا ش! میں اس وقت زندہ ( موجود ) ہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکال دیں گی ۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا؟ ’’ تو کیا یہی لوگ مجھے نکالنے والے ہوں گے؟ ‘ ‘ ورقہ نے کہا : ہاں ، کبھی کوئی آدمی آپ جیسا پیغام لے کر نہیں آیا مگر اس سے دشمنی کی گئی اور اگر آپ کا ( وہ ) دن میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی بھر پور مدد کروں گا ۔
حدیث 404 — صحيح مسلم 1:309
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْوَحْىِ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ ‏.‏ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَوَاللَّهِ لاَ يُحْزِنُكَ اللَّهُ أَبَدًا ‏.‏ وَقَالَ قَالَتْ خَدِيجَةُ أَىِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ ‏.‏
ہمیں معمر نے خبر دی کہ انہوں نے کہا : مجھے عروہ نے حضرت عائشہ ؓ سے خبر دی کہ انہوں نے کہا : رسو ل اللہ ﷺ کی طرف وحی کی ابتدا...... آگے یونس کی حدیث کی طرح بیا کیا ، سوائے اس کے کہ معمر نے لايحزنك الله أبداً’’ آپ کو اللہ کبھی غمگین نہ کرے گا ‎ ‘ ‘ کہا ۔ انہوں نے ( یہ بھی ) کہا کہ حضرت خدیجہ ؓ نے یہ الفاظ کہا : ’’چچا کے بیٹے ! اپنے بھتیجے کی بات سنیں ۔ ‘ ‘
حدیث 405 — صحيح مسلم 1:310
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَجَعَ إِلَى خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِهِ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْوَحْىِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ ‏.‏ وَتَابَعَ يُونُسَ عَلَى قَوْلِهِ فَوَاللَّهِ لاَ يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا ‏.‏ وَذَكَرَ قَوْلَ خَدِيجَةَ أَىِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ ‏.‏
عقیل بن خالد نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے کہا : میں نے عروہ بن زبیر کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت خدیجہؓ کے پاس آئے ، آپ کا دل شدت سے دھڑک رہا تھا..... پھر ( عقیل نے ) یونس اور معمر کی طرح حدیث بیان کی ۔ اور ان دونوں کی روایت کا ابتدائی حصہ ، یعنی ان کا یہ قول کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کا آغاز سچے خوابوں کی صورت میں ہوا ، بیان ہیں کیا ۔ نیز عقیل بن خالد نے یونس کے ان الفاظ فوالله !لا يخزيك الله أبداً ’’ اللہ کی قسم ! اللہ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا ‘ ‘ میں متابعت کرنے کے ساتھ حضرت خدیجہ ؓ کا یہ قول بھی ذکر کیا ہے : ’’ چچا کے بیٹے ! اپنے بھتیجے کی بات سنیں ۔ ‘ ‘
حدیث 406 — صحيح مسلم 1:311
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ، قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ، - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْىِ - قَالَ فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسًا عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ‏"‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي ‏.‏ فَدَثَّرُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ‏{‏ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ * قُمْ فَأَنْذِرْ * وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ * وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ * وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ‏}‏ وَهِيَ الأَوْثَانُ قَالَ ثُمَّ تَتَابَعَ الْوَحْىُ ‏.‏
یونس نے ( اپنی سند کے ساتھ ) ابن شہاب سے بیان کیا ، انہوں نے کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف نے خبر دی کہ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ جو اللہ کے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے ، یہ حدیث سنایا کرتے تھے ، کہا : وقفہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اس دوران میں جب میں چل رہا تھا ، میں نے آسمان سے ایک آواز سنی ، اس پر میں اپنا سر اٹھایا تو اچانک ( دیکھا ) وہی فرشتہ تھا جومیرے پاس غار حراء میں آیاتھا ، آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا تھا ۔ ‘ ‘ آپ نے فرمایا : ’’ اس کے خوف کی وجہ سے مجھ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی اور میں گھر واپس آگیا اور کہا : مجھے کپڑا اوڑھاؤ ، مجھے کپڑا اوڑھاؤ تو انہوں ( گھر والوں ) نے مجھے کمبل اوڑھا دیا ۔ ‘ ‘ اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیات اتاریں : ’’ اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے اٹھو اور خبردار کرواور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو ۔ اور اپنے کپڑے پاک رکھو ۔ اور گندگی سے دور رہیے ۔ ‘ ‘ اور اس ( الرجزیعنی گندگی ) سے مراد بت ہیں ۔ فرمایا : پھر وحی مسلسل نازل ہونے لگی ۔
حدیث 407 — صحيح مسلم 1:312
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْىُ عَنِّي فَتْرَةً فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي ‏"‏ ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ فَجُثِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَالرُّجْزُ الأَوْثَانُ قَالَ ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْىُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے بیان کیا ، انہوں نے کہا : میں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے خبر دی کہ انہوں نے رسو ل اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’پھر وحی ایک وقفے کے لیے مجھ سے منقطع ہو گئی ، اسی دوران میں جب میں چل رہا تھا..... ‘ ‘ پھر ( عقیل نے ) یونس کی طرح روایت بیان کی ، البتہ انہوں نے ( مزید یہ ) کہا : ’’ تو خوف سے مجھ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی حتی کہ میں زمین پر گر پڑا ‘ ‘ ( ابن شہاب نےکہا : ابوسلمہ نےبتایا : الرجز سے بت مراد ہیں ) کہا : پھر نزول وحی ( کی رفتار ) میں گرمی آ گئی اور مسلسل نازل ہونے لگی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔