قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 408 — صحيح مسلم 1:313
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ وَقَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ‏{‏ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ‏}‏ قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلاَةُ - وَهِيَ الأَوْثَانُ - وَقَالَ ‏ "‏ فَجُثِثْتُ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ كَمَا قَالَ عُقَيْلٌ
معمر نے زہری سے اسی سند کےساتھ یونس کی طرح حدیث بیان کی ( اس میں یہ ) کہا : تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے : ﴿﴾ سے لے کر﴿﴾ تک ( کی آیتیں ) نازل فرمائیں ( نماز فرض ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے ) اور اس ( الرجز ‎ ) سے بت مراد ہیں ، نیز معمر نے عقیل کی طرح ’’ مجھ پر خوف طاری ہو گیا ‘ ‘ کہا ۔
حدیث 409 — صحيح مسلم 1:314
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى، يَقُولُ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ أَىُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ قَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ‏.‏ فَقُلْتُ أَوِ اقْرَأْ ‏.‏ فَقَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَىُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ قَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ‏.‏ فَقُلْتُ أَوِ اقْرَأْ قَالَ جَابِرٌ أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ جَاوَرْتُ بِحِرَاءٍ شَهْرًا فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي وَخَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا هُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ - يَعْنِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ - فَأَخَذَتْنِي رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي ‏.‏ فَدَثَّرُونِي فَصَبُّوا عَلَىَّ مَاءً فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ * قُمْ فَأَنْذِرْ * وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ * وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏
اوزاعی نے کہا : میں نے یحییٰ سے سنا ، کہتے تھے : میں نے ابوسلمہ سے سوال کیا : ’’ قرآن کا کون سا حصہ پہلے نازل ہوا ؟ کہا : ﴿يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ ۔ میں نے کہا : یا ﴿اِقْرَاْ﴾ ؟ ابو سلمہ نے کہا : میں جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا : قرآن کا کون سا حصہ پہلے اتارا گیا ؟ انہوں نے جواب دیا : ﴿ يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ﴾ ۔ میں نےکہا : یا ﴿ اِقْرَاْ ﴾؟ جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا : میں تمہیں وہی بات بتاتا ہوں جوہمیں رسول اللہ ﷺ نے بتائی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں نے حراء میں ایک ماہ اعتکاف کیا ۔ جب میں نے اپنا اعتکاف ختم کیا تو میں اترا ، پھر میں وادی کے درمیان پہنچا تو مجھے آواز دی گئی ، اس پر میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں نظر دوڑائی تو مجھے کوئی نظر نہ آیا ، مجھے پھر آواز دی گئی میں میں نے دیکھا ، مجھے کوئی نظر نہ آیا ، پھر ( تیسری بار ) مجھے آواز دی گئی تو میں نے سر اوپر اٹھایا تو وہی ( فرشت ( فضا میں تخت ( کرسی ) پر بیٹھا ہوا تھا ( یعنی جبرییل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) اس کی وجہ سے مجھ پر سخت لرزہ طاری ہو گیا ۔ میں خدیجہ ؓ کے پاس آ گیا اور کہا : مجھے کمبل اوڑھا دو ، مجھے کمبل اوڑھا دو ، انہوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا اور مجھ پرپانی ڈالا ۔ تو اس ( موقع ) پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں : ’’ اے کمبل اوڑھنے والے ! اٹھ اور ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑے پاک رکھ ۔ ‘ ‘
حدیث 410 — صحيح مسلم 1:315
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏ "‏ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏
علی بن مبارک نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : ’’ تو وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ ‘ ‘
حدیث 411 — صحيح مسلم 1:316
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ - وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ - قَالَ فَرَكِبْتُهُ حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ - قَالَ - فَرَبَطْتُهُ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهِ الأَنْبِيَاءُ - قَالَ - ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ فَقَالَ جِبْرِيلُ صلى الله عليه وسلم اخْتَرْتَ الْفِطْرَةَ ‏.‏ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ ‏.‏ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ ‏.‏ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ‏.‏ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ‏.‏ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏.‏ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ ‏.‏ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ ‏.‏ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ‏.‏ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِابْنَىِ الْخَالَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَيَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّاءَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا فَرَحَّبَا وَدَعَوَا لِي بِخَيْرٍ ‏.‏ ثُمَّ عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ‏.‏ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ ‏.‏ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ‏.‏ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ صلى الله عليه وسلم إِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ‏.‏ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ ‏.‏ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ ‏.‏ قَالَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ‏.‏ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا‏}‏ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ‏.‏ قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ ‏.‏ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ ‏.‏ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ‏.‏ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ صلى الله عليه وسلم فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ‏.‏ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏.‏ قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ ‏.‏ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ ‏.‏ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ‏.‏ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى صلى الله عليه وسلم فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ‏.‏ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ ‏.‏ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ‏.‏ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ صلى الله عليه وسلم مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ لاَ يَعُودُونَ إِلَيْهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَى السِّدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَإِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الْفِيَلَةِ وَإِذَا ثَمَرُهَا كَالْقِلاَلِ - قَالَ - فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَ تَغَيَّرَتْ فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا ‏.‏ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَىَّ مَا أَوْحَى فَفَرَضَ عَلَىَّ خَمْسِينَ صَلاَةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَنَزَلْتُ إِلَى مُوسَى صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ قُلْتُ خَمْسِينَ صَلاَةً ‏.‏ قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ يُطِيقُونَ ذَلِكَ فَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ ‏.‏ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي فَقُلْتُ يَا رَبِّ خَفِّفْ عَلَى أُمَّتِي ‏.‏ فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقُلْتُ حَطَّ عَنِّي خَمْسًا ‏.‏ قَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ لاَ يُطِيقُونَ ذَلِكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ ‏.‏ - قَالَ - فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَبَيْنَ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - حَتَّى قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لِكُلِّ صَلاَةٍ عَشْرٌ فَذَلِكَ خَمْسُونَ صَلاَةً ‏.‏ وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ شَيْئًا فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً - قَالَ - فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ قَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے براق لایا گیا۔ اور وہ ایک جانور ہے سفید رنگ کا گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا اپنے سم وہاں رکھتا ہے، جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے (تو ایک لمحہ میں آسمان تک جا سکتا ہے) میں اس پر سوار ہوا اور بیت المقدس تک آیا۔ وہاں اس جانور کو حلقہ سے باندھ دیا۔ جس سے اور پیغمبر اپنے اپنے جانوروں کو باندھا کرتے تھے (یہ حلقہ مسجد کے دروازے پر ہے اور باندھ دینے سے معلوم ہوا کہ انسان کو اپنی چیزوں کی احتیاط اور حفاظت ضروری ہے اور یہ توکل کے خلاف نہیں) پھر میں مسجد کے اندر گیا اور دو رکعتیں نماز کی پڑھیں بعد اس کے باہر نکلا تو جبرئیل علیہ السلام دو برتن لے کر آئے ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ میں نے دودھ پسند کیا۔ جبرئیل علیہ السلام ہمارے ساتھ آسمان پر چڑھے (جب وہاں پہنچے) تو فرشتوں سے کہا: دروازہ کھولنے کیلئے، انہوں نے پوچھا کون ہے؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: جبرئیل ہے۔ انہوں نے کہا: تمہارے ساتھ دوسرا کون ہے۔؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا بلائے گئے تھے۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں بلائے گئے ہیں، پھر دروازہ کھولا گیا ہمارے لئے اور ہم نے آدم علیہ السلام کو دیکھا، انہوں نے مرحبا کہا اور میرے لئے دعا کی بہتری کی۔ پھر جبرئیل علیہ السلام ہمارے ساتھ چڑھے دوسرے آسمان پر اور دروازہ کھلوایا، فرشتوں نے پوچھا: کون ہے۔ انہوں نے کہا: جبرئیل۔ فرشتوں نے پوچھا: تمہارے ساتھ دوسرا کون شخص ہے؟ انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں فرشتوں نے کہا: کیا ان کو حکم ہوا تھا بلانے کا۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں ان کو حکم ہوا ہے، پھر دروازہ کھلا تو میں نے دونوں خالہ زاد بھائیوں کو دیکھا یعنی عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہم السلام کو ان دونوں نے مرحبا کہا اور میرے لئے بہتری کی دعا کی پھر جبرئیل علیہ السلام ہمارے ساتھ تیسرے آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھلوایا۔ فرشتوں نے کہا: کون ہے؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: جبرئیل۔ فرشتوں نے کہا: دوسرا تمہارے ساتھ کون ہے۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے کہا: کیا ان کو پیغام کیا گیا تھا بلانے کے لئے؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں ان کو پیغام کیا گیا تھا پھر دروازہ کھلا تو میں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا اللہ نے حسن (خوبصورتی) کا آدھا حصہ ان کو دیا تھا۔ انہوں نے مرحبا کہا مجھ کو اور نیک دعا کی پھر جبرئیل علیہ السلام ہم کو لے کر چوتھے آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھلوایا فرشتوں نے پوچھا: کون ہے؟ کہا: جبرئیل۔ پوچھا: تمہارے ساتھ دوسرا کون ہے۔؟ کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں فرشتوں نے کہا: کیا بلوائے گے ہیں؟ جبرئیل نے کہا: ہاں بلوائے گئے ہیں، پھر دروازہ کھلا تو میں نے ادریس علیہ السلام کو دیکھا، انہوں نے مرحبا کہا اور اچھی دعا دی مجھ کو، اللہ جل جلالہ نے فرمایا: ہم نے اٹھا لیا ادریس کو اونچی جگہ پر (تو اونچی جگہ سے یہی چوتھا آسمان مراد ہے) پھر جبرئیل علیہ السلام ہمارے ساتھ پانچویں آسمان پر چڑھے۔ انہوں نے دروازہ کھلوایا۔ فرشتوں نے پوچھا: کون؟ کہا جبرئیل۔ پوچھا تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے کہا: کیا بلائے گئے ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا ہاں بلوائے گئے ہیں، پھر دروازہ کھلا تو میں نے ہارون علیہ السلام کو دیکھا انہوں نے مرحبا کہا اور مجھے نیک دعا دی۔ پھر جبرئیل علیہ السلام ہمارے ساتھ چھٹے آسمان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا فرشتوں نے پوچھا کون ہے؟ کہا: جبرئیل۔ پوچھا اور کون ہے تمہارے ساتھ؟ انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے کہا: کیا اللہ نے ان کو پیغام بھیجا آ ملنے کیلئے؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں بھیجا، پھر دروازہ کھلا تو میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، انہوں نے کہا: مرحبا اور اچھی دعا دی مجھ کو، پھر جبرئیل علیہ السلام ہمارے ساتھ ساتویں آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھلوایا فرشتوں نے پوچھا: کون ہے؟ کہا: جبرئیل، پوچھا: تمہارے ساتھ اور کون ہے؟ کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا وہ بلوائے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں بلوائے گئے ہیں۔ پھر دروازہ کھلا تو میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا وہ تکیہ لگائے ہوئے تھے اپنی پیٹھ کا بیت المعمور کی طرف (اس سے یہ معلوم ہوا کہ قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھنا درست ہے) اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں جو پھر کبھی نہیں آتے پھر جبرئیل علیہ السلام مجھ کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس لے گئے۔ اس کے پتے اتنے بڑے تھے جیسے ہاتھی کے کان اور اس کے بیر جیسے قلہ (ایک بڑا گھڑا جس میں دو مشک یا زیادہ پانی آتا ہے) پھر جب اس درخت کو اللہ کے حکم نے ڈھانکا تو اس کا حال ایسا ہو گیا کہ کوئی مخلوق اس کی خوبصورتی بیان نہیں کر سکتی پھر اللہ جل جلالہ نے ڈالا میرے دل میں جو کچھ ڈالا اور پچاس نمازیں ہر رات اور دن میں مجھ پر فرض کیں جب میں اترا اور موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو انہوں نے پوچھا: تمہارے پروردگار نے کیا فرض کیا تمہاری امت پر۔ میں نے کہا: پچاس نمازیں فرض کیں۔ انہوں نے کہا: پھر لوٹ جاؤ اپنے پروردگار کے پاس اور تخفیف چاہو کیونکہ تمہاری امت کو اتنی طاقت نہ ہو گی اور میں نے بنی اسرائیل کو آزمایا ہے اور ان کا امتحان لیا ہے۔ میں لوٹ گیا اپنے پروردگار کے پاس اور عرض کیا: اے پروردگار! تخفیف کر میری امت پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں گھٹا دیں۔ میں لوٹ کر موسٰی علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا کہ پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف کر دیں۔ انہوں نے کہا: تمہاری امت کو اتنی طاقت نہ ہو گی تم پھر جاؤ اپنے رب کے پاس اور تخفیف کراؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس طرح برابر اپنے پروردگار اور موسٰی علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا یہاں تک کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا: اے محمد! وہ پانچ نمازیں ہیں، ہر دن اور ہر رات میں اور ہر ایک نماز میں دس نماز کا ثواب ہے، تو وہی پچاس نمازیں ہوئیں (سبحان اللہ! مالک کی کیسی عنایت اپنے غلاموں پر ہے کہ پڑھیں تو پانچ نمازیں اور ثواب ملے پچاس کا) اور جو کوئی شخص نیت کرے کام کرنے کی نیک، پھر اس کو نہ کرے تو اس کو ایک نیکی کا ثواب ملے گا اور جو کرے تو دس نیکیوں کا اور جو شخص نیت کرے برائی کی پھر اس کو نہ کرے تو کچھ نہ لکھا جائے گا اور اگر کر بیٹھے تو ایک ہی برائی لکھی جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں اترا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا۔ انہوں نے کہا: پھر جاؤ اپنے پروردگار کے پاس اور تخفیف چاہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اپنے پروردگار کے پاس بار بار گیا یہاں تک کہ میں شرما گیا اس سے۔“
حدیث 412 — صحيح مسلم 1:317
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُتِيتُ فَانْطَلَقُوا بِي إِلَى زَمْزَمَ فَشُرِحَ عَنْ صَدْرِي ثُمَّ غُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ أُنْزِلْتُ ‏"‏ ‏.‏
سلیمان بن مغیرہ نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میرے پاس ( فرشتے ) آئے اور مجھے زمزم کے پاس لے گئے ، میرا سینہ چاک کیا گیا ، پھر زمزم کے پانی سے دھویا گیا ، پھر مجھے ( واپس اپنی جگہ ) اتارا دیا گیا ۔ ‘ ‘ ( یہ معراج سے فوراً پہلے کا واقعہ ہے ۔)
حدیث 413 — صحيح مسلم 1:318
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَاهُ جِبْرِيلُ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً فَقَالَ هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ‏.‏ ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ لأَمَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ - يَعْنِي ظِئْرَهُ - فَقَالُوا إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ ‏.‏ فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقَعُ اللَّوْنِ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ وَقَدْ كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ ‏.‏
(سلیمان بن مغیرہ کے بجائے ) حماد بن سلمہ نے ثابت کے واسطے سے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہﷺ کے پاس جبرئیل آئے جبکہ آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ، انہوں نے آپ کو پکڑا ، نیچے لٹایا ، آپ کا سینہ چاک کیا اور دل نکال لیا ، پھر اس سےایک لوتھڑا نکالا اور کہا : یہ آپ ( کے دل میں ) سے شیطان کا حصہ تھا ، پھر اس ( دل ) کو سونے کے طشت میں زمزم کے پانی سے دھویا ، پھر اس کو جوڑا اور اس کی جگہ پر لوٹا دیا ، بچے دوڑتے ہوئے آپ کی والدہ ، یعنی آپ کی رضاعی ماں کے پاس آئے اور کہا : محمد ( ﷺ ) کو قتل کر دیا گیا ہے ۔ ( یہ سن کر لوگ دوڑے ) تو آپ کے سامنے سےآتے ہوئے پایا ، آپ کا رنگ بدلا ہوا تھا ، حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں اس سلائی کا نشان آپ کے سینے پر دیکھا کرتا تھا ۔ ( یہ بچپن کا شق صدر ہے ۔)
حدیث 414 — صحيح مسلم 1:319
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - قَالَ حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُنَا عَنْ لَيْلَةَ، أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ أَنَّهُ جَاءَهُ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ وَقَدَّمَ فِيهِ شَيْئًا وَأَخَّرَ وَزَادَ وَنَقَصَ ‏.‏
شریک بن عبد اللہ بن ابی نمر نے حدیث سنائی ( کہا ) : میں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ ہمیں اس رات کے بارے میں حدیث سنا رہے تھے جس میں رسول اللہ ﷺ کو مسجد کعبہ سے رات کے سفر پر لے جایا گیا کہ آپ کی طرف وحی کیے جانے سے پہلے آپ کے پاس تین نفر ( فرشتے ) آئے ، اس وقت آپ مسجد حرام میں سوئے تھے ۔ شریک نے ’’واقعہ اسراء ‘ ‘ ثابت بنانی کی حدیث کی طرح سنایا اور اس میں کچھ چیزوں کو آگے پیچھے کر دیا اور ( کچھ میں ) کمی بیشی کی ۔ ( امام مسلم نے یہ تفصیل بتا کر پوری ورایت نقل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔)
حدیث 415 — صحيح مسلم 1:320
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ صلى الله عليه وسلم فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ فَلَمَّا جِئْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا قَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - لِخَازِنِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا افْتَحْ ‏.‏ قَالَ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا جِبْرِيلُ ‏.‏ قَالَ هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ قَالَ نَعَمْ مَعِيَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ فَأُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ فَفَتَحَ - قَالَ - فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَإِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ - قَالَ - فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى - قَالَ - فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالاِبْنِ الصَّالِحِ - قَالَ - قُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا آدَمُ صلى الله عليه وسلم وَهَذِهِ الأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ فَأَهْلُ الْيَمِينِ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَالأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى - قَالَ - ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ ‏.‏ فَقَالَ لِخَازِنِهَا افْتَحْ - قَالَ - فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَفَتَحَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَوَاتِ آدَمَ وَإِدْرِيسَ وَعِيسَى وَمُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ - صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ - وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ آدَمَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِإِدْرِيسَ - صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ - قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ - قَالَ - ثُمَّ مَرَّ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ هَذَا إِدْرِيسُ - قَالَ - ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ - قَالَ - قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا مُوسَى - قَالَ - ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ ‏.‏ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - قَالَ - ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالاِبْنِ الصَّالِحِ - قَالَ - قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِبْرَاهِيمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَبَّةَ الأَنْصَارِيَّ كَانَا يَقُولاَنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ثُمَّ عَرَجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الأَقْلاَمِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلاَةً - قَالَ - فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ بِمُوسَى فَقَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ مَاذَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ - قَالَ - قُلْتُ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلاَةً ‏.‏ قَالَ لِي مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَرَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ - قَالَ - فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَوَضَعَ شَطْرَهَا - قَالَ - فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ - قَالَ - فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ وَهْىَ خَمْسُونَ لاَ يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَىَّ - قَالَ - فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ ‏.‏ فَقُلْتُ قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي - قَالَ - ثُمَّ انْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى نَأْتِيَ سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لاَ أَدْرِي مَا هِيَ - قَالَ - ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ ‏"‏ ‏.‏
ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بیان فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺ نے بتایا : ’’ میں مکہ میں تھا تو میرے گھر کی چھت کھولی گئی ، جبریل ‌علیہ ‌السلام ‌ اترے ، میرا سینہ چاک کیا ، پھر اسے زم زم کے پانی سے دھویا ، پھر سونے کاطشت لائے جو حکمت او رایمان سے لبریز تھا ، اسے میرے سینے میں انڈیل دیا ، پھر اس کو جوڑ دیا ، پھر میرا ہاتھ پکڑ ا اور مجھے لے کر آسمان کی طرف بلند ہوئے ، جب ہم سب سے نچلے ( پہلے ) آسمان پر پہنچے تو جبرئیل نے ( اس ) نچلے آسمان کے دربان سے کہا : دروازہ کھولو ۔ اس نے کہا : یہ کون ہیں ؟ کہا : یہ جبریل ‌علیہ ‌السلام ‌ ہے ۔ پوچھا : کیا تیرے ساتھ کوئی ہے؟ کہا ہاں ، میرے ساتھ محمد ﷺ ہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا ان کو بلایا گیا ہے؟ کہا ہاں ، پھر اس نے دروازہ کھولا آپ ﷺ نے فرمایا : کہ جب ہم آسمان دنیا پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک آدمی ہے اس کے دائیں طرف بھی بہت سی مخلوق ہے اور اس کے بائیں طرف بھی بہت سی مخلوق ہے جب وہ آدمی اپنے دائیں طرف دیکھتا ہے تو ہنستا ہے اور اپنے بائیں طرف دیکھتا ہے تو روتا ہے ۔ اس نے کہا : خوش آمدید !اے نیک نبی اور اے نیک بیٹےکو ۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا : کہ یہ کون ہیں؟ حضرت جبرائیل نے کہا کہ یہ آدم علیہ السلام ہیں اور ان کے دائیں طرف جنتی اور بائیں طرف والے دوزخی ہیں اس لئے جب دائیں طرف دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں اور بائیں طرف دیکھتے ہیں تو روتے ہیں ۔ پھر حضرت جبرائیل مجھے دوسرے آسمان کی طرف لے گئے اور اس کے پہرے دار سے کہا دروازہ کھولئے آپ نے فرمایا کہ دوسرے آسمان کے پہرے دار نے بھی وہی کچھ کہا جو آسمان دنیا کے خازن ( پہرےدار ) سے کہا : دروازہ کھولو ۔ اس کے خازن نے بھی پہلے آسمان والے کی طرح بات کی اور دروازہ کھول دیا ۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺنے بتایا کہ مجھے آسمانوں پر آدم ، ادریس ، موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام ملے ( اختصار سے بتاتے ہوئے ) انہوں ( ابو ذر ) نے یہ تعیین نہیں کی کہ ان کی منزلیں کیسے تھیں ؟ البتہ یہ بتایا کہ آدم ‌علیہ ‌السلام ‌ آپ کو پہلے آسمان پر ملے اور ابراہیم علیہ السلام چھٹے آسمان پر ( یہ کسی راوی کا وہم ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے آپ ﷺ کی ملاقات ساتویں آسمان پر ہوئی ) ، فرمایا : جب جبرئیل اور رسول اللہ ﷺ ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا : صالح بنی اور صالح بھائی کو خوش آمدید ، پھر وہ آ گے گزرے تو میں نے ‎پوچھا : یہ کون ہیں ؟ تو ( جبریل نے ) کہا : یہ ادریس علیہ السلام ہیں ، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے نے کہا : صالح نبی اور صالح بھائی کو خوش آمدید ، فرمایا : میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ ہیں ، پھر میں عیسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ کے پاس سے گزرا ، انہوں نے کہا : صالح نبی اور صالح بھائی کو خوش آمدید ، میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟کہا : عیسیٰ بن مریم ہیں ۔ آپ نے فرمایا : پھر میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزراتو انہوں نے کہا : صالح نبی اور صالح بیٹے ، مرحبا! میں نےپوچھا : یہ کون ہیں ؟ کہا : یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ ‘ ‘ ابن شہاب نے کہا : مجھے ابن حزم نے بتایا کہ ابن عباس اور ابو حبہ انصاری ؓ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’پھر ( جبریل ) مجھے ( اور ) اوپر لے گئے حتی کہ میں ایک اونچی جگہ کے سامنے نمودار ہوا ، میں اس کے اندر سے قلموں کی آواز سن رہا تھا ۔ ‘ ‘ ابن حزم اور انس بن مالک ؓ نے کہا : رسو اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں ، میں یہ ( حکم ) لے کر واپس ہوا یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا : آپ نے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہیں ۔ ؟ آپ نے فرمایا : میں نے جواب دیا : ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں ۔ موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ نے مجھ سے کہا : اپنے رب کی طرف رجوع کریں کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی ۔ فرمایا : اس پر میں نے اپنےرب سے رجوع کیا تو اس نے اس کا ایک حصہ مجھ سے کم کر دیا ۔ آپ نے فرمایا : میں موسیٰ علیہ السلام کی طرف واپس آیا اور انہیں بتایا ۔ انہوں نے کہا : اپنے رب کی طرف رجوع کریں کیونکہ آپ کی امت اس کی ( بھی ) طاقت نہیں رکھے گی ۔ آپ نے فرمایا : میں نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا تو اس نے فرمایا : یہ پانچ ہیں اور یہی پچاس ہیں ، میرے ہاں پر حکم بدلا نہیں کرتا ۔ آپ نے فرمایا : میں لوٹ کر موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ کی طر ف آیا تو انہوں نے کہا : اپنے رب کی طرف رجوع کریں ۔ تو میں نے کہا : ( بار بارسوال کرنے پر ) میں اپنےرب سے شرمندہ ہوا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : پھر جبریل مجھے لے کر چلے یہاں تک کہ ہم سدرۃ المنتہی پر پہنچ گئے تو اس کو ( ایسے ایسے ) رنگوں نے ڈھانپ لیا کہ میں نہیں جانتا وہ کیا تھے ؟ پھر مجھے جنت کے اندر لے جایا گیا ، اس میں گنبد موتیوں کے تھے اور اس کی مٹی کستوری تھی ۔ ‘ ‘
حدیث 416 — صحيح مسلم 1:321
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، - لَعَلَّهُ قَالَ - عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، - رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ - قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ سَمِعْتُ قَائِلاً يَقُولُ أَحَدُ الثَّلاَثَةِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ ‏.‏ فَأُتِيتُ فَانْطُلِقَ بِي فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشُرِحَ صَدْرِي إِلَى كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ فَقُلْتُ لِلَّذِي مَعِي مَا يَعْنِي قَالَ إِلَى أَسْفَلِ بَطْنِهِ ‏"‏ فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِي فَغُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ أُعِيدَ مَكَانَهُ ثُمَّ حُشِيَ إِيمَانًا وَحِكْمَةً ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ يُقَالُ لَهُ الْبُرَاقُ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَقَعُ خَطْوُهُ عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهِ فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ صلى الله عليه وسلم فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ ‏.‏ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ - قَالَ - فَفَتَحَ لَنَا وَقَالَ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ - قَالَ - فَأَتَيْنَا عَلَى آدَمَ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ ‏.‏ وَذَكَرَ أَنَّهُ لَقِيَ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ عِيسَى وَيَحْيَى - عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ - وَفِي الثَّالِثَةِ يُوسُفَ وَفِي الرَّابِعَةِ إِدْرِيسَ وَفِي الْخَامِسَةِ هَارُونَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَسَلَّمَ - قَالَ ‏"‏ ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ‏.‏ فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ بَكَى فَنُودِيَ مَا يُبْكِيكَ قَالَ رَبِّ هَذَا غُلاَمٌ بَعَثْتَهُ بَعْدِي يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِهِ الْجَنَّةَ أَكْثَرُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي ‏.‏ - قَالَ - ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَأَتَيْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ وَحَدَّثَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ رَأَى أَرْبَعَةَ أَنْهَارٍ يَخْرُجُ مِنْ أَصْلِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ ‏"‏ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذِهِ الأَنْهَارُ قَالَ أَمَّا النَّهْرَانِ الْبَاطِنَانِ فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ ‏.‏ ثُمَّ رُفِعَ لِيَ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا قَالَ هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ إِذَا خَرَجُوا مِنْهُ لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرُ مَا عَلَيْهِمْ ‏.‏ ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ أَحَدُهُمَا خَمْرٌ وَالآخَرُ لَبَنٌ فَعُرِضَا عَلَىَّ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ فَقِيلَ أَصَبْتَ أَصَابَ اللَّهُ بِكَ أُمَّتُكَ عَلَى الْفِطْرَةِ ‏.‏ ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَىَّ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسُونَ صَلاَةً ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّتَهَا إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ ‏.‏
سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ( انہوں نے غالباً یہ کہا ) کہ مالک بن صعصعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت ہے ( جو ان کی قوم کے فرد تھے ) کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں بیت اللہ کے پاس نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا ، اس اثناء میں ایک کہنے والے کو میں نے یہ کہتے سنا : ’’ تین آدمیوں میں سے ایک ، دو کے درمیان والا ‘ ‘ پھر میرے پاس آئے اور مجھے لے جایا گیا ، اس کے بعد میرے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں زمزم کا پانی تھا ، پھر میرا سینہ کھول دیا گیا ، فلاں سے فلاں جگہ تک ( قتادہ نےکہا : میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا : اس سے کیا مراد لے رہے ہیں ؟ اس نے کہا ، پیٹ کے نیچے کےحصے تک ) پھر میرا دل نکالا گیا اور اسے زم زم کے پانی سے دھویا گیا ، پھر اسے دوبارہ اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا ، پھر اسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا ۔ اس کے بعد میرے پاس ایک سفید جانور لایا گیا جسے براق کہا جاتا ہے ، گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا ، اس کا قدم وہاں پڑتا تھا جہاں اس کی نظر کی آخری حد تھی ، مجھے اس پر سوار کیا گیا ، پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ ہم سب سے نچلے ( پہلے ) آسمان تک پہنچے ۔ جبریل ‌علیہ ‌السلام ‌ نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا : تو پوچھا گیا : یہ ( دروازہ کھلوانے والا ) کون ہے ؟ کہا : جبریل ہوں ۔ کہا گیا : آپ کے ساتھ کون ہے ؟ کہا محمدﷺ ہیں ۔ پوچھا گیا : کیا ( آسمانوں پر لانے کےلیے ) ان کی طرف سے کسی کو بھیجا گیا تھا؟ کہا : ہاں ۔ تو اس نے ہمارے لیے دروازہ کھول دیا اور کہا : مرحبا ! آپ بہترین طریقے سے آئے ! فرمایا : پھر ہم آدم علیہ السلام کے سامنے پہنچ گئے ۔ آگے پورے قصے سمیت حدیث سنائی اور بتایا کہ دوسرے آسمان پر آپ عیسیٰ اور یحییٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، تیسرے پر یوسف علیہ السلام سے اور چوتھے پر ادریس علیہ السلام سے ، پانچویں پر ہارون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ملے ، کہا : پھر ہم چلے یہاں تک کہ چھٹے آسمان تک پہنچے ، میں موسیٰ علیہ السلام کےپاس پہنچا اور ان کو سلام کیا ، انہوں نے کہا : صالح بھائی اور صالح نبی کو مرحبا ، جب میں ان سے آگے چلا گیا تو وہ رونے لگے ، انہیں آواز دی گئی آپ کو کس بات نے رلا دیا ؟ کہا : اے میرے رب ! یہ نوجوان ہیں جن کو تو نے میرےبعد بھیجا ہے ان کی امت کے لوگ میری امت کے لوگوں سے زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوں گے ۔ آپ نے فرمایا : پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ ساتویں آسمان تک پہنچ گئے تو میں ابراہیم علیہ السلام کے سامنے آیا ۔ ‘ ‘ اور انہوں نے حدیث میں کہا کہ نبی ا کرمﷺ نے بتایا کہ انہوں نے چار نہریں دیکھیں ، ان کے منبع سے دو ظاہری نہریں نکلتی ہیں اور دو پوشیدہ نہریں ۔ ’’میں نے کہا : اے جبریل ! یہ نہریں کیا ہیں ؟ انہوں نے کہا : جو دو پوشیدہ ہیں تو وہ جنت کی نہریں ہیں اور دو ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں ، پھر بیت معمور میرے سامنے بلند کیا گیا میں نے پوچھا : اے جبریل! یہ کیا ہے ؟ کہا : یہ بیت معمور ہے ، اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں ، جب اس سے نکل جاتے ہیں ، تو اس ( زمانے ) کے آخر تک جو ان کے لیے ہے دوبارہ اس میں نہیں آ سکتے ، پھر میرےپاس دو برتن لائے گئے ایک شراب کا اور دوسرا دودھ کا ، دونوں میرے سامنے پیش کیے گئے تو میں نے دودھ کو پسند کیا ، اس پر کہا گیا ، آپ نے ٹھیک ( فیصلہ ) کیا ، اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے سے ( سب کو ) صحیح ( فیصلہ ) تک پہنچائے ، آپ کی امت ( بھی ) فطرت پر ہے ، پھر مجھ پر ہر روز پچاس نمازیں فرض کی گئیں ..... ‘ ‘ پھر ( سابقہ ) حدیث کے آخر تک کا سارا واقعہ بیان کیا ۔
حدیث 417 — صحيح مسلم 1:322
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ ‏ "‏ فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَشُقَّ مِنَ النَّحْرِ إِلَى مَرَاقِّ الْبَطْنِ فَغُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا ‏"‏ ‏.‏
ہشام نے قتادہ سے حدیث سنائی ، ( انہوں نے کہا : ) ہمیں انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حضرت مالک بن صعصعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا.... پھر سابقہ حدیث کی طرح بیان کیا اور اس میں اضافہ کیا : ’’ تو میرے پاس حکمت اور ایمان سے بھرا سونے کا طشت لایا گیا اور ( میری ) گردن کے قریب سے پیٹ کے پتلے حصے تک چیرا گیا ، پھر زم زم کے پانی سے دھویا گیا ، پھر اسےحکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا 0 ‘ ‘ ( وضاحت کتاب الایمان کے تعارف میں دیکھیے ۔)
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔