اور یہی روایت مجھ ( امام مسلم ) کو سوید بن سعید نے علی بن مسہر سے اور انہو ں نے اعمش سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ بیان کی ۔ اس میں إن رسول اللهﷺ ( یقیناً رسول اللہ ﷺنے ) کے بجائےرأيت رسول الله ﷺ ( میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ) کے الفاظ ہیں ۔
حدیث 639 — صحيح مسلم 2:105
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلاَئِيِّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنِ الْمَسْحِ، عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ عَلَيْكَ بِابْنِ أَبِي طَالِبٍ فَسَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ . قَالَ وَكَانَ سُفْيَانُ إِذَا ذَكَرَ عَمْرًا أَثْنَى عَلَيْهِ .
عبد الرزاق نے کہا : ہمیں سفیان ثوری نے عمرو بن قیس ملائی سے حدیث سنای ، انہوں نےحکم بن عتیبہ سے ، انہوں نے قاسم بن مخیمرہ سے ، انہوں نے شریح بن ہانی سےروایت کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عائشہ ؓ کے پاس موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھنے کی غرض سے حاضر ہوا تو انہوں نے کہا : ابن ابی طالب کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے ۔ ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ( کا وقت ) مقرر فرمایا ۔ ( عبدالر زاق نے ) کہا : سفیان ( ثوری ) جب بھی عمرو ( بن قیس ملائی ) کا تذکرہ کرتے تو ان کی تعریف کرتے ۔
اعمش نے حکم کے حوالے سے قاسم بن مغیرہ سے اور انہوں نے شریح بن ہانی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نےحضرت عائشہ ؓ سے موزوں پر مسح کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا : علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ اس مسئلے کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ۔ تو میں علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے نبی اکرمﷺ سے اسی ( جواوپر مذکورہے ) کے مطابق بیان کیا ۔
سلیمان بن بریدہ ( اسلمی ) نے اپنے والد سے روایت کی نبی اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے دن کئی نمازیں ایک وضو سے پڑھیں اوراپنے موزوں پر مسح فرمایا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے پوچھا : آپ نے آج ایسا کام کیا جو آپ نے پہلے کبھی نہیں کیا ۔ آپ نے جواب دیا : ’’عمر!میں نے عمداً ایسا کیا ہے ۔ ‘ ‘
عبد اللہ بن شقیق نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو تو اس وقت تک اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک اسے تین دفعہ دھو نہ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے کہ رات کے وقت اس کا ہاتھ کہاں ( کہاں ) رہا ۔ ‘ ‘
وکیع اور ابو معاویہ کی سندوں سے اعمش سے روایت ہے ، انہوں نے ابو رزین اور ابو صالح سے اور ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت بیان کی ۔ ابو معاویہ کی روایت میں ہے : ( ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ ( جبکہ ) وکیع کی روایت میں ( ہے ) کہا : ( اور ) اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کیا ۔ ( آگے ) اسی ( سابقہ روایت ) کی طرح ہے ۔
جابر ( بن عبد اللہ ) رضی اللہ عنہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) نے ان ( جابر رضی اللہ عنہ ) کو بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو ( وضو کاپانی نکالنے کے لیے ) اپنے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے تین بار اپنے ہاتھ پر پانی ڈالے ( اور ہاتھ دھوئے ) کیونکہ وہ نہیں جانتا اس کے ہاتھ نے کس ( حالت ) میں رات گزاری ۔ ‘ ‘
اعرج ، محمد ، علاء کے والد عبد الرحمان بن یعقوب ، ہمام بن منبہ اور ثابت بن عیاض ( سب ) نےکہا : ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نےحدیث بیان کی ، سبھی نے اپنی ا پنی روایت میں ( ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ) نبی ﷺ سے یہ حدیث بیان کی ۔ سبھی کہتے ہیں : ’’ حتی کہ اس ( ہاتھ ) کو دھولے ‘ ‘ اور ان میں سے کسی نے بھی ’’تین بار ‘ ‘ کا لفظ نہیں بولا ، سوائے ان روایات کے جو ہم نے اوپر جابر رضی اللہ عنہ ، ابن مسیب ، ابو سلمہ ، عبد اللہ بن شقیق ، ابوصالح اور ابو زرین سے بیان کی ہیں کیونکہ ان سب کی احادیث میں ’’تین بار ‘ ‘ کا ذکر ہے ۔