علی بن مسہر نے حدیث بیان کی کہ ہمیں اعمش نے ابو زرین اور ابو صالح سے خبر دی ، ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا زبان کے ساتھ پی لے اور وہ اس چیز کو بہا دے ، پھربرتن کو سات دفعہ دھولے ۔ ‘ ‘
اسماعیل بن زکریا نے اعمش کےحوالے سے ، باقی ماندہ مذکورہ سند کے ساتھ ، یہی روایت بیان کی لیکن ’’اسے بہادے ‘ ‘ کے الفاظ نہیں کہے ۔
حدیث 650 — صحيح مسلم 2:116
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " .
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں پی لے تو وہ اسے سات دفعہ دھوئے ۔ ‘ ‘
محمد بن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تمہارے برتن میں سے کتا پی لے تو اس کی طہارت ( پاک ہونا ) یہ ہے کہ اسے سات دفعہ دھوئے ، پہلی دفعہ مٹی کے ساتھ دھوئے ۔ ‘ ‘
حدیث 652 — صحيح مسلم 2:118
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " طُهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِيهِ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " .
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسو ل اللہ ﷺ سےسنائیں ، پھر انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کسی کے برتن میں سے کتا پی لے تو اس کی پاکیزگی یہ ہے کہ اسے سات دفعہ دھوئے ۔ ‘ ‘
عبید اللہ بن معاذ نے ہمیں اپنےوالد سے حدیث بیان کی ( کہا : ) ہمیں میرے والد نے ، انہیں شعبہ نے ابو التیاح سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی ۔ اور انہوں نے مطرف بن عبد اللہ سے سنا ، ابن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ، پھر فرمایا : ’’ان کا کتوں سے کیا واسطہ ہے ؟ ‘ ‘ پھر ( لوگوں سے ضروریات کی تفصیل سن کر ) شکار اور بکریوں ( کی حفاظت کرنے ) والے کتے ( رکھنے ) کی اجازت دی اور فرمایا : ’’جب کتا برتن میں سے پی لے تو اسے سات مرتبہ دھوؤ اورآٹھویں بار ( زیادہ روایات میں ہے ایک بار ) مٹی سے صاف کرو
(خالد ) بن حارث ، یحییٰ بن سعید اور محمد بن جعفر ، سب نے شعبہ سے اسی سند سے اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ یحییٰ بن سعید کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے بکریوں کی حفاظت ، شکار اور کھیتی کی رکھوالی کے لیے کتا رکھنے کی ا جازت دی ۔ یحییٰ کے سوا زرع ( کھیتی ) کا ذکر کسی روایت میں نہیں ۔
حدیث 655 — صحيح مسلم 2:121
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کی کہ آپﷺ نےکھڑے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایاہے ۔
حدیث 656 — صحيح مسلم 2:122
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ " .
ابن سیرین نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’تم سے کوئی ہرگز ساکن پانی میں پیشاب نہ کرے ، پھر اس میں سے نہائے ۔ ‘ ‘
حدیث 657 — صحيح مسلم 2:123
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَبُلْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لاَ يَجْرِي ثُمَّ تَغْتَسِلُ مِنْهُ " .
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد ﷺ سے بیان کیں ، انہوں نے کچھ احادیث سنائیں ان میں سے ایک یہ تھی : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کھڑے ہوئے پانی میں ، جو چل نہ رہا ہو ، پیشاب نہ کرو کہ پھر تم اس میں نہاؤ ۔ ‘ ‘