قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 648 — صحيح مسلم 2:114
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، وَأَبِي، صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيُرِقْهُ ثُمَّ لْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مِرَارٍ ‏"‏ ‏.‏
علی بن مسہر نے حدیث بیان کی کہ ہمیں اعمش نے ابو زرین اور ابو صالح سے خبر دی ، ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا زبان کے ساتھ پی لے اور وہ اس چیز کو بہا دے ، پھربرتن کو سات دفعہ دھولے ۔ ‘ ‘
حدیث 649 — صحيح مسلم 2:115
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَقُلْ فَلْيُرِقْهُ ‏.‏
اسماعیل بن زکریا نے اعمش کےحوالے سے ، باقی ماندہ مذکورہ سند کے ساتھ ، یہی روایت بیان کی لیکن ’’اسے بہادے ‘ ‘ کے الفاظ نہیں کہے ۔
حدیث 650 — صحيح مسلم 2:116
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ‏"‏ ‏.‏
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں پی لے تو وہ اسے سات دفعہ دھوئے ۔ ‘ ‘
حدیث 651 — صحيح مسلم 2:117
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ طُهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولاَهُنَّ بِالتُّرَابِ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تمہارے برتن میں سے کتا پی لے تو اس کی طہارت ( پاک ہونا ) یہ ہے کہ اسے سات دفعہ دھوئے ، پہلی دفعہ مٹی کے ساتھ دھوئے ۔ ‘ ‘
حدیث 652 — صحيح مسلم 2:118
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ طُهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِيهِ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ‏"‏ ‏.‏
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ہمیں محمد رسو ل اللہ ﷺ سےسنائیں ، پھر انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کسی کے برتن میں سے کتا پی لے تو اس کی پاکیزگی یہ ہے کہ اسے سات دفعہ دھوئے ۔ ‘ ‘
حدیث 653 — صحيح مسلم 2:119
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، سَمِعَ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ الْمُغَفَّلِ، قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَتْلِ الْكِلاَبِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَا بَالُهُمْ وَبَالُ الْكِلاَبِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَكَلْبِ الْغَنَمِ وَقَالَ ‏"‏ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَعَفِّرُوهُ الثَّامِنَةَ فِي التُّرَابِ ‏"‏ ‏.‏
عبید اللہ بن معاذ نے ہمیں اپنےوالد سے حدیث بیان کی ( کہا : ) ہمیں میرے والد نے ، انہیں شعبہ نے ابو التیاح سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی ۔ اور انہوں نے مطرف بن عبد اللہ سے سنا ، ابن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ، پھر فرمایا : ’’ان کا کتوں سے کیا واسطہ ہے ؟ ‘ ‘ پھر ( لوگوں سے ضروریات کی تفصیل سن کر ) شکار اور بکریوں ( کی حفاظت کرنے ) والے کتے ( رکھنے ) کی اجازت دی اور فرمایا : ’’جب کتا برتن میں سے پی لے تو اسے سات مرتبہ دھوؤ اورآٹھویں بار ( زیادہ روایات میں ہے ایک بار ) مٹی سے صاف کرو
حدیث 654 — صحيح مسلم 2:120
وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ مِنَ الزِّيَادَةِ وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الْغَنَمِ وَالصَّيْدِ وَالزَّرْعِ وَلَيْسَ ذَكَرَ الزَّرْعَ فِي الرِّوَايَةِ غَيْرُ يَحْيَى ‏.‏
(خالد ) بن حارث ، یحییٰ بن سعید اور محمد بن جعفر ، سب نے شعبہ سے اسی سند سے اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ یحییٰ بن سعید کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے بکریوں کی حفاظت ، شکار اور کھیتی کی رکھوالی کے لیے کتا رکھنے کی ا جازت دی ۔ یحییٰ کے سوا زرع ( کھیتی ) کا ذکر کسی روایت میں نہیں ۔
حدیث 655 — صحيح مسلم 2:121
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ ‏.‏
حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کی کہ آپﷺ نےکھڑے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایاہے ۔
حدیث 656 — صحيح مسلم 2:122
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏
ابن سیرین نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’تم سے کوئی ہرگز ساکن پانی میں پیشاب نہ کرے ، پھر اس میں سے نہائے ۔ ‘ ‘
حدیث 657 — صحيح مسلم 2:123
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَبُلْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لاَ يَجْرِي ثُمَّ تَغْتَسِلُ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ہمیں محمد ﷺ سے بیان کیں ، انہوں نے کچھ احادیث سنائیں ان میں سے ایک یہ تھی : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کھڑے ہوئے پانی میں ، جو چل نہ رہا ہو ، پیشاب نہ کرو کہ پھر تم اس میں نہاؤ ۔ ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔