بکیر بن اشج سے روایت ہے کہ ہشام بن زہرہ کے آزادکردہ غلام ابو سائب نے انہیں حدیث سنائی کہ انہو ں نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل جنابت نہ کرے ۔ ‘ ‘ ( ابو سائب نے ) کہا : اے ابو ہریرہ ! وہ کیا کرے ؟ انہوں نے جواب دیا : وہ ( اس میں سے ) پانی لے لے ۔
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ ایک بدوی نے مسجد میں پیشاب ( کرنا شروع ) کر دیا ، بعض لوگ اٹھ کر اس کی طرف لپکے تو رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسے چھوڑ دو ، اسے ( پیشاب کے ) درمیان میں مت روکو ۔ ‘ ‘ جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی کا ڈول منگوایا اور اسے اس پر بہا دیا ۔ ( پانی کے ساتھ وہ پیشاب زمین کےاندر چلا گیا ۔)
یحییٰ بن سعید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کر رہے تھے کہ ایک بدوی مسجد کے ایک کونے میں کھڑا ہو گیا اور وہاں پیشاب کرنے لگا ، لوگ اس پر چلائے تو رسول اللہ ﷺ فرمایا : ’’اسے چھوڑ دو ۔ ‘ ‘ جب وہ فارغ ہوا تو آپ نے ﷺ ( پانی کا ) ایک بڑا ڈول لانے کا حکم دیا اور وہ ڈول اس ( پیشاب ) پر بہا دیا گیا ۔
حدیث 661 — صحيح مسلم 2:127
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، - وَهُوَ عَمُّ إِسْحَاقَ - قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَامَ يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَهْ مَهْ . قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُزْرِمُوهُ دَعُوهُ " . فَتَرَكُوهُ حَتَّى بَالَ . ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ " إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لاَ تَصْلُحُ لِشَىْءٍ مِنْ هَذَا الْبَوْلِ وَلاَ الْقَذَرِ إِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالصَّلاَةِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ " . أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ فَأَمَرَ رَجُلاً مِنَ الْقَوْمِ فَجَاءَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشَنَّهُ عَلَيْهِ .
اسحاق بن ابی طلحہ نے روایت کی ، کہا : مجھ سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نےبیان کیا ، وہ اسحاق کےچچا تھے ، کہا : ہم مسجد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران میں ایک بدوی آیا اور اس نے کھڑے ہو کر مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں نےکہا : کیا کر رہے ہو ؟ کیاکر رہے ہو ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسے ( درمیان میں ) مت روکو ، اسے چھوڑ دو ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نےاسے چھوڑ دیا حتی کہ اس نے پیشاب کر لیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایااور فرمایا : ’’یہ مساجد اس طرح پیشاب یا کسی اور گندگی کے لیے نہیں ہیں ، یہ تو بس اللہ تعالیٰ کے ذکر نماز اور تلاوت قرآن کے لیے ہیں ۔ ‘ ‘ یا جو ( بھی ) الفاظ رسول اللہ ﷺ نے فرمائے ۔ ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : پھر آپ نے لوگوں میں سے ایک کو حکم دیا ، وہ پانی کا ڈول لایا اور اسے اس پر بہا دیا ۔
حدیث 662 — صحيح مسلم 2:128
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ وَيُحَنِّكُهُمْ فَأُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ بَوْلَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ .
عبداللہ بن نمیر نےہشام سے ، انہوں نے اپنے والد ( عروج بن زبیر ) سے اور انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ ( اپنی خالہ ) حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بچوں کو لایا جاتا تھا ، آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کو گھٹی دیتے ۔ آپ کے پاس ایک بچہ لایا گیا ، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اس کے پیشاب پر بہا دیا اور اسے ( رگڑ کر ) دھویا نہیں ۔
حدیث 663 — صحيح مسلم 2:129
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصَبِيٍّ يَرْضَعُ فَبَالَ فِي حِجْرِهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ .
جریر نے ہشام سے روایت کی ، انہو نے اپنے والد سے اور انہو ں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے فرمایا کہ رسول ا للہ ﷺ کی خدمت میں ایک شیر خوار بچہ لایا گیا ، اس نے آپ کی گود میں پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا ۔
لیث نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ اپنے بچے کو ، جس نے ابھی کھانا شروع نہ کیا تھا ، لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اسے آپ کی گود میں ڈال دیا تو اس نے پیشاب کر دیا ، آپ نے اس پر پانی چھڑکنے سے زیادہ کچھ نہ کیا ۔
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ( مذکورہ بالا ) روایت کی اور کہا : آپ نے پانی منگوایا اور اسے چھڑکا
حدیث 667 — صحيح مسلم 2:133
وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ، - وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ اللاَّتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ أَحَدُ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ - قَالَ أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ - قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ - أَخْبَرَتْنِي أَنَّ ابْنَهَا ذَاكَ بَالَ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ عَلَى ثَوْبِهِ وَلَمْ يَغْسِلْهُ غَسْلاً .
یونس بن یزید نے کہا : مجھے ابن شہاب نے خبر دی ، کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے حضرت ام قیس بنت محصن ؓ سے ( وہ جو سب سے پہلے ہجرت کرنے والی ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی اور عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ جو بنواسد بن خزیمہ کے ایک فرد ہیں ، کی بہن تھیں ) روایت کی ، کہا : انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں اپنا بیٹا لے کر حاضر ہوئیں جو ابھی اس عمر کو نہ پہنچا تھا کہ کھانا کھا سکے ۔ ( ابن شہاب کے استاد ) عبیداللہ نے کہا : انہوں ( ام قیسؓ ) نے مجھے بتایا کہ میرے اس بیٹے نے رسو ل ا للہﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا تو رسو ل اللہ ﷺ نے پانی منگوایا اور اسے اپنے کپڑے پر بہا دیا اور اسے اچھی طرح دھویا نہیں ۔