خالد نے ابومعشر سے ، انہوں نے ابراہیم نخعی سے ، انہوں نے علقمہ اور اسود سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عائشہ ؓ کے پاس ٹھہرا ، صبح کو وہ اپنا کپڑا دھو رہا تھا توعائشہ ؓ نے فرمایا : تیرے لیے کافی تھا کہ اگر تو نے کچھ دیکھا تھا تو اس کی جگہ کو دھودیتا اور اگر تو نے اسے نہیں دیکھا تو اس کے اردگرد ( تک ) پانی چھڑک دیتا ۔ میں نے اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ میں اسے ( مادہ منویہ کو ) رسول اللہ ﷺ کےکپڑے سے اچھی طرح کھرچتی تھی ، پھر آپ اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے ۔
حدیث 669 — صحيح مسلم 2:135
وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَهَمَّامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي الْمَنِيِّ قَالَتْ كُنْتُ أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
اعمش نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود اور ہمام سے ، انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے مادہ منویہ کے بارے میں روایت کی ، کہا : میں اسے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے کھرچ دیتی تھی ۔
(خالد کی بجائے ) ابومعشر کے دوسرے شاگرد ہشام بن حسان اور ابن ابی عروبہ نے خالد کے ہم معنی روایت کی ۔ اسی طرح ابراہیم نخعی کےمتعدد دیگر شاگردوں مغیرہ ، واصل احدب اور منصور نے اپنی اپنی مختلف سندوں سے ابراہیم نخعی سے ، انہوں نے ابو اسود کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی کھرچنے کی روایت حضرت عائشہ ؓ سے اسی طرح بیان کی جس طرح خالد کی ابو معشر سے روایت ( : 668 ) ہے ۔
محمد بن بشر نے عمرو بن میمون سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے آدمی کے کپڑے کو لگ جانےوالی منی کے بارے میں پوچھا کہ انسان اس جگہ کو دھوئے یا ( پورے ) کپڑے کو دھوئے؟ تو انہوں نے ( سلیمان بن یسار ) نے کہا : مجھے عائشہ ؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ( کپڑے سے ) منی کو دھوتے ، پھر اسی کپڑے میں نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور میں اس میں دھونے کا نشان دیکھ رہی ہوتی ۔
حدیث 673 — صحيح مسلم 2:139
وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَمَّا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ فَحَدِيثُهُ كَمَا قَالَ ابْنُ بِشْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ وَأَمَّا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ فَفِي حَدِيثِهِمَا قَالَتْ كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
عبدالواحد بن زیاد ، ابن مبارک اور ابن ابی زائدہ نے عمرو بن میمون سے سابقہ سندکے ساتھ یہی حدیث بیان کی ، البتہ ابن ابی زائدہ کی حدیث کے الفاظ ابن بشر کی طرح ( یہ ) ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ منی ( خود ) دھوتے تھے جبکہ ابن مبارک اور عبد الواحد کی حدیث میں اس طرح ہے کہ عائشہؓ نے کہا : میں اسے نبی اکرمﷺ کے کپڑے سے دھوتی تھی ۔
عبد اللہ بن شہاب خولانی سےر وایت ہے ، کہا : میں حضرت عائشہ ؓ کا مہمان تھا ، مجھے اپنے دونوں کپڑوں میں احتلام ہو گیا تو میں نے وہ دونوں پانی میں ڈبو دیے ، مجھے حضرت عائشہ ؓ کی ایک کنیز نے دیکھ لیا اور انہیں بتا دیا تو انہوں نے میری طرف پیغام بھجوایا اور فرمایا : تو نے اپنے دونوں کپڑوں کے ساتھ ایسا کیوں کیا ؟ میں نے کہا : میں نے نیند میں وہ دیکھا جو سونےوالا اپنی نیند میں دیکھتا ہے ۔ انہوں نے پوچھا : کیا تمہیں ان دونوں ( کپڑوں ) میں کچھ نظر آیا؟ میں نے کہا : نہیں ۔ انہوں نے فرمایا : اگر تم کچھ دیکھتے تو اسے دھو ڈالتے ۔ میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہﷺ کے کپڑے سے اس کو خشک حالت میں اپنے ناخن سے کھرچ رہی ہوں ۔
وکیع نے بیان کیا ، ہمیں ہشام نے حدیث سنائی : اور یحییٰ بن سعید نے ہشام بن عروہ سے روایت کی ، کہا : مجھے فاطمہ ( بنت منذر ) نے حدیث سنائی ، انہوں نے ( اپنی اور ہشام دونوں کی دادی ) حضرت اسماء ؓ سے روایت کی کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور پوچھا : ہم میں سے کسی کو کپڑے کو حیض کا خون لگ جاتا ہے تو وہ اس کے بارے میں کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا : ’’اسے کھرچ ڈالے ، پھر پانی ڈال کر اسے رگڑے ، پھر اس پر پانی بہا دے ( دھولے ) ، پھر اس میں نماز پڑھ لے ۔ ‘ ‘
یحییٰ بن عبد اللہ بن سالم ، مالک بن انس اور عمرو بن حارث تینوں نے ہشام بن عروہ کی مذکورہ بالا سند کے ساتھ یہی روایت اسی طرح بیان کی جس طرح یحییٰ بن سعید نے بیان کی ۔
وکیع نے بیان کیا ، ( کہا : ) ہمیں اعمش نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے مجاہد کو طاؤس سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسو ل اللہ ﷺ کا گزر دو قبروں پر ہوا تو آپ نے فرمایا : ’’ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑی غلطی کی بناپر عذاب نہیں ہو رہا ( جس سے بچنا دشوار ہوتا ۔ ) ان میں ایک تو چغل خوری کرتا تھا اور دوسرا اپنے پیشاب سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا ۔ ‘ ‘ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر آپ نے ایک تازہ کھجور کی چھڑی منگوائی اور اس کو دوحصوں میں چیر دیا ، پھر ایک حصہ اس قبر پر گاڑ دیا اور دوسرا اس ( دوسری قبر ) پر ، پھر آپ نے فرمایا : ’’امید ہے جب تک یہ دو ٹہنیاں سوکھیں گی نہیں ، ان کا عذاب ہلکا رہے گا ۔ ‘ ‘