قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 2998 — صحيح مسلم 15:206
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ وَبَرَةَ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُكَ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ فُلاَنٍ يَكْرَهُهُ وَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْهُ رَأَيْنَاهُ قَدْ فَتَنَتْهُ الدُّنْيَا ‏.‏ فَقَالَ وَأَيُّنَا - أَوْ أَيُّكُمْ - لَمْ تَفْتِنْهُ الدُّنْيَا ثُمَّ قَالَ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَسُنَّةُ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعَ مِنْ سُنَّةِ فُلاَنٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ‏.‏
بیان نے وبرہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا : میں نےحج کا احرام باندھا ہے ، تو کیا میں بیت اللہ کاطواف کرلوں؟انھوں نے فرمایا : ( ہاں ) تمھیں کیا مانع ہے؟اس نے کہا : میں نے ابن فلاں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو دیکھا ہے کہ وہ اسے ناپسندکرتے ہیں اور آپ ہمیں ان سے زیادہ محبوب ہیں ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا نے انھیں فتنے میں ڈال دیا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم میں سے کون یاتم میں سے کون ۔ جسے دنیا نے فتنے میں نہیں ڈالا؟ ( تم ان پر دنیا داری کا اعتراض نہ کرو ، ) پھر فرمایا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ نے حج کااحرام باندھا ، بیت اللہ کاطواف کیا اور صفا مروہ کی سعی فرمائی ، ( اب سوچو ) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی کا زیادہ حق ہے ۔ یافلاں کے راستے کا کہ اس کی اتباع کی جائے؟اگر تم سچ کہہ رہے ہو ۔
حدیث 2999 — صحيح مسلم 15:207
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ، قَدِمَ بِعُمْرَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ فَقَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ‏.‏
سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، کہا : ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا جو عمرے کی غرض سے آیا ، اس نے بیت اللہ کاطواف کرلیا ( لیکن ابھی ) صفا مروہ کی سعی نہیں کی ، کیا وہ اپنی بیوی سے صحبت کرسکتا ہے؟انھوں نے فرمایا : ( جب ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے تو آپ نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا ، مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا فرمائیں ، اور ( پھر ) صفا مروہ کے درمیان سات بار چکر لگائے ۔ اور ( یاد رکھو ) تمھارے لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( کے طریقے ) میں بہترین نمونہ ہے ۔
حدیث 3000 — صحيح مسلم 15:208
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ، بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، جَمِيعًا عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ‏.‏
حماد بن زید اور ابن جریج دونوں نے عمرو بن دینار کے واسطے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن عینیہ کی ( گزشتہ ) حدیث کے مانند روایت بیان کی ۔
حدیث 3001 — صحيح مسلم 15:209
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ سَلْ لِي عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ فَإِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَيَحِلُّ أَمْ لاَ فَإِنْ قَالَ لَكَ لاَ يَحِلُّ ‏.‏ فَقُلْ لَهُ إِنَّ رَجُلاً يَقُولُ ذَلِكَ - قَالَ - فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لاَ يَحِلُّ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ إِلاَّ بِالْحَجِّ ‏.‏ قُلْتُ فَإِنَّ رَجُلاً كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ بِئْسَ مَا قَالَ فَتَصَدَّانِي الرَّجُلُ فَسَأَلَنِي فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ فَقُلْ لَهُ فَإِنَّ رَجُلاً كَانَ يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ وَمَا شَأْنُ أَسْمَاءَ وَالزُّبَيْرِ فَعَلاَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ فَجِئْتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ لاَ أَدْرِي ‏.‏ قَالَ فَمَا بَالُهُ لاَ يَأْتِينِي بِنَفْسِهِ يَسْأَلُنِي أَظُنُّهُ عِرَاقِيًّا ‏.‏ قُلْتُ لاَ أَدْرِي ‏.‏ قَالَ فَإِنَّهُ قَدْ كَذَبَ قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ - رضى الله عنها - أَنَّ أَوَّلَ شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ عُمَرُ مِثْلُ ذَلِكَ ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ فَرَأَيْتُهُ أَوَّلُ شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ مُعَاوِيَةُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ آخِرُ مَنْ رَأَيْتُ فَعَلَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُضْهَا بِعُمْرَةٍ وَهَذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَهُمْ أَفَلاَ يَسْأَلُونَهُ وَلاَ أَحَدٌ مِمَّنْ مَضَى مَا كَانُوا يَبْدَءُونَ بِشَىْءٍ حِينَ يَضَعُونَ أَقْدَامَهُمْ أَوَّلَ مِنَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لاَ يَحِلُّونَ وَقَدْ رَأَيْتُ أُمِّي وَخَالَتِي حِينَ تَقْدَمَانِ لاَ تَبْدَآنِ بِشَىْءٍ أَوَّلَ مِنَ الْبَيْتِ تَطُوفَانِ بِهِ ثُمَّ لاَ تَحِلاَّنِ وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَقْبَلَتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلاَنٌ وَفُلاَنٌ بِعُمْرَةٍ قَطُّ فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا وَقَدْ كَذَبَ فِيمَا ذَكَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏
محمد بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ ایک عراقی شخص نے ان سے کہا : میری طرف سے عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیجئے جو حج کا تلبیہ پکارتا ہے ، جب وہ بیت اللہ کاطواف کرلےتو کیا احرام سے آزاد ہوجائےگا یانہیں؟اگر وہ تمھیں جواب دیں کہ وہ آزاد نہیں ہوگا تو ان سے کہناکہ ایک شخص ہے جو یہ کہتاہے ( محمد بن عبدالرحمان نے ) کہا : میں نے عروہ سے اس کی بابت سوال کیا توا نھوں نےکہا : جو شخص حج کا احرام باندھے ، وہ حج کیے بغیر احرام سے فارغ نہیں ہوگا ۔ میں ( محمد بن عبدالرحمان ) نے عرض کی کہ ایک شخص ہے جو یہی بات کہتا ہے انھوں نے فرمایا : کتنی بری بات ہے جو اس نے کہی ہے ۔ پھر میرا ٹکراؤ ( اس عراقی ) شخص سے ہوا تو اس نے مجھ سے ( اپنے سوال کے متعلق ) پوچھا ۔ میں نے اسے بتادیا ۔ اس ( عراقی ) نے کہا : ان ( عروہ ) سے کہو ، بلاشبہ ایک شخص خبر دے رہاتھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا حکم کیا تھا ( حکم دیا تھا ) حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کیا معاملہ تھا؟انھوں نے ( بھی تو ) ایسا کیا تھا ۔ ( محمد بن عبدالرحمان نے ) کہا : میں ان عروہ کے پاس آیا اور ان کو یہ بات سنائی ۔ انھوں نے پوچھا : یہ ( سائل ) کون ہے؟میں نے عرض کی : میں نہیں جانتا ۔ انھوں نے کہا : اسے کیا ہے؟وہ خود میرے پاس آکرمجھ سے سوال کیوں نہیں کرتا؟میرا خیال ہے ، وہ کوئی عراقی ہوگا ۔ میں نے کہا : میں نہیں جانتا ۔ ( عروہ نے ) کہا : بلاشبہ اس نے جھوٹ بولاہے ۔ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نےخبر دی کہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا ، مکہ آکر آپ نے جو کام سب سے پہلے کیا ، یہ تھا کہ آپ نے وضوفرمایا اور پھر بیت اللہ کاطواف کیا ۔ پھر ان کے بعدحضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی حج کیا ، انھوں نے بھی ، سب سے پہلے جو کیا ، یہی تھا کہ بیت اللہ کا طواف کیا اور اس کےسوا کوئی کام نہ کیا ( نہ بال کٹوائے نہ احرام کھولا ) ، پھرحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہی ایسا ہی کیا ۔ پھرحضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کیا ۔ میں نےانھیں دیکھا ، انھوں نے بھی سب سے پہلا کام جس سے آغاز کیا ، بیت اللہ کاطواف تھا ، پھر اس کےپھر اس کے علاوہ کوئی کام نہ ہوا ۔ پھرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورعبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( نے بھی ایسا ہی کیا ) پھر میں نے اپنے والد زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ حج کیا ، انھوں نے بھی سب سے پہلے جس سے آغاز کیا بیت اللہ کاطواف تھا اور اس کے علاوہ کوئی نہ تھا ، پھر میں نے مہاجرین وانصار ( کی جماعت ) کو بھی ایسا ہی کرتے دیکھا ۔ اس کے بعد ( بال کٹوانا احرام کھولنا ) کوئی کام نہ ہوا ۔ پھر سب سے آخر میں جسے میں نے یہ کرتے دیکھا وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔ انہوں نے بھی عمرے کے ذریعے سے اپنے حج کو فسخ نہیں کیا ، اور یہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کے پاس موجود ہیں ۔ یہ انھی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے؟اور نہ گزرے ہوئے لوگوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) میں سے کسی نے ( یہ کام ) کیا ۔ وہ ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) جب بھی بیت اللہ میں قدم رکھتے تو طواف سے پہلے اور کسی چیز سے ابتداء نہ کرتے تھے ( طوا ف کرنے کے بعد ) احرام نہیں کھولتے تھے ۔ میں نے اپنی والدہ اور خالہ کو بھی دیکھا ، وہ جب بھی مکہ آتیں طواف سے پہلے کسی اور کام سے آغاز نہ کرتیں ، اس کا طواف کرتیں ، پھر احرام نہ کھولتیں ( حتیٰ کہ حج پورا کرلیتیں ) میری والدہ نے مجھے بتایا کہ وہ ، ان کی ہمشیرہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) ، حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فلاں فلاں لوگ کسی وقت عمرہ کے لئے آئے تھے ، جب انھوں نے حجر اسود کا استلام کرلیا ( اور عمرہ مکمل ہوگیا ) تو ( اس کے بعد ) انھوں نے احرام کھولا ۔ اس شخص نے اس کے بارے میں جس بات کا ذکر کیا ہے ، اس میں جھوٹ بولا ہے ۔
حدیث 3002 — صحيح مسلم 15:210
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ، بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، - رضى الله عنهما - قَالَتْ خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيَحْلِلْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْىٌ فَحَلَلْتُ وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْىٌ فَلَمْ يَحْلِلْ ‏.‏ قَالَتْ فَلَبِسْتُ ثِيَابِي ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَلَسْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ فَقَالَ قُومِي عَنِّي ‏.‏ فَقُلْتُ أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ
ابن جریج نے کہا : مجھے منصور بن عبدالرحمان نے اپنی والدہ صفیہ بنت شیبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ۔ انھوں نے کہا : ہم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ) احرام باندھے ہوئے روانہ ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جس کے ساتھ قربانی ہے وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے ساتھ قربانی نہیں ہے ( وہ عمرے کےبعد ) احرام کھول دے ۔ "" میرے ساتھ قربانی نہیں تھی میں نے احرام کھول دیا اور ( میرے شوہر ) زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ قربانی تھی ، انھوں نے نہیں کھولا ۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ( عمرے کے بعد ) میں نے ( دوسرے ) کپڑے پہن لئے اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آبیٹھی ، وہ کہنے لگے : میرے پاس سے اٹھ جاؤ ، میں نے کہا : آپ کو خدشہ ہے کہ میں آپ پر جھپٹ پڑوں گی ۔
حدیث 3003 — صحيح مسلم 15:211
وَحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، - رضى الله عنهما - قَالَتْ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ اسْتَرْخِي عَنِّي اسْتَرْخِي عَنِّي ‏.‏ فَقُلْتُ أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ
وہیب نے کہا : ہمیں منصور بن عبدالرحمان نے اپنی والدہ ( صفیہ بنت شیبہ ) سے ، انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : ہم حج کا تلبیہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ پہنچے ، پھر آگے ابن جریج کی طرح ہی حدیث بیان کی ، البتہ ( اپنی حدیث میں یہ اضافہ ) ذکر کیا : ( زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : مجھ سے دور رہو ، مجھ سے دور رہو ، میں نے کہا : آپ کو خدشہ ہے کہ میں آپ پر جھپٹ پڑوں گی ۔
حدیث 3004 — صحيح مسلم 15:212
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ - رضى الله عنهما - حَدَّثَهُ أَنَّهُ، كَانَ يَسْمَعُ أَسْمَاءَ كُلَّمَا مَرَّتْ بِالْحَجُونِ تَقُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ نَزَلْنَا مَعَهُ هَا هُنَا وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ خِفَافُ الْحَقَائِبِ قَلِيلٌ ظَهْرُنَا قَلِيلَةٌ أَزْوَادُنَا فَاعْتَمَرْتُ أَنَا وَأُخْتِي عَائِشَةُ وَالزُّبَيْرُ وَفُلاَنٌ وَفُلاَنٌ فَلَمَّا مَسَحْنَا الْبَيْتَ أَحْلَلْنَا ثُمَّ أَهْلَلْنَا مِنَ الْعَشِيِّ بِالْحَجِّ ‏.‏ قَالَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ أَنَّ مَوْلَى أَسْمَاءَ ‏.‏ وَلَمْ يُسَمِّ عَبْدَ اللَّهِ ‏.‏
ہمیں ہارون بن سعید ایلی اور احمد بن عیسیٰ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن وہب نے حدیث بیا ن کی ، ( کہا : ) مجھے عمرو نے ابن اسود سےخبر دی کہ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مولیٰ عبداللہ ( بن کیسان ) نے انھیں حدیث بیان کی کہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب بھی مقام حجون سے گزرتیں تو وہ انھیں یہ کہتے ہوئے سنتے : "" اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں فرمائے! "" ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس مقام پر پڑاؤ کیا تھا ۔ ان دنوں ہمارے سفر کےتھیلے ہلکے ، سواریاں کم اور زاد راہ بھی تھوڑا ہوتا تھا ۔ میں ، میری بہن عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور فلاں فلاں شخص نے عمرہ کیاتھا ، پھر جب ہم ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوا باقی سب ) نے بیت اللہ ( اور صفا مروہ ) کا طواف کرلیا تو ہم ( میں سے جنھوں نے عمرہ کرنا تھاانھوں نے ) احرام کھول دیے ، پھر ( ترویہ کے دن ) زوال کے بعد ہم نے ( احرام باندھ کر ) حج کا تلبیہ پکارا ۔ ہارون نے اپنی روایت میں کہا : حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام نے ( کہا ) ، انھوں نے ان کا نام ، عبداللہ نہیں لیا ۔
حدیث 3005 — صحيح مسلم 15:213
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ، فَرَخَّصَ فِيهَا وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا فَقَالَ هَذِهِ أُمُّ ابْنِ الزُّبَيْرِ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِيهَا فَادْخُلُوا عَلَيْهَا فَاسْأَلُوهَا قَالَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ ضَخْمَةٌ عَمْيَاءُ فَقَالَتْ قَدْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا ‏.‏
شعبہ نے مسلم قری سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حج تمتع کے بارے میں سوا ل کیا ۔ انھوں نے اس کی اجازت دی ، جبکہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے منع فرمایا کرتے تھے ۔ انھوں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : یہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ہیں ۔ وہ حدیث بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ، ان کے پاس جاؤ ۔ اور ان سے پوچھو ( قری نے ) کہا : ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ ( اس وقت ) بھاری جسم کی نابینا خاتون تھی ، ( ہمارے استفسار کے جواب میں ) انھوں نےفرمایا : یقیناً اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( حج تمتع ) کی اجازت عطا فرمائی تھی ۔
حدیث 3006 — صحيح مسلم 15:214
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ فَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَفِي حَدِيثِهِ الْمُتْعَةُ وَلَمْ يَقُلْ مُتْعَةُ الْحَجِّ ‏.‏ وَأَمَّا ابْنُ جَعْفَرٍ فَقَالَ قَالَ شُعْبَةُ قَالَ مُسْلِمٌ لاَ أَدْرِي مُتْعَةُ الْحَجِّ أَوْ مُتْعَةُ النِّسَاءِ ‏.‏
عبدالرحمان اور محمد بن جعفر دونوں نے اسی سند کے ساتھ شعبہ سے روایت کی ، ان میں سے عبدالرحمان کی حدیث میں صرف لفظ تمتع ہے ، انھوں نے حج تمتع کے الفاظ روایت نہیں کیے ۔ جبکہ ابن جعفر نے کہا : شعبہ کا قول ہے کہ مسلم ( قری ) نے کہا : میں نہیں جانتا کہ ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے حج تمتع کا ذکر کیا یا کہ عورتوں سے ( نکاح ) متعہ کی بات کی ۔
حدیث 3007 — صحيح مسلم 15:215
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ الْقُرِّيُّ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ أَهَلَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعُمْرَةٍ وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِحَجٍّ فَلَمْ يَحِلَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ مَنْ سَاقَ الْهَدْىَ مِنْ أَصْحَابِهِ وَحَلَّ بَقِيَّتُهُمْ فَكَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فِيمَنْ سَاقَ الْهَدْىَ فَلَمْ يَحِلَّ ‏.‏
معاذ ( بن معاذ ) نے ہمیں شعبہ سے حدیث سنائی ، ( کہا : ) مسلم قریؒ نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے : ( حجۃ الوداع کے موقع پر اولاً ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حج کے ساتھ ملاکر ) عمرہ کرنے کا تلبیہ پکاراتھا ، اور آپ کے ( بعض ) صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے حج کا تلبیہ پکارا تھا ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین جو قربانیاں ساتھ لائے تھے ، انھوں نے ( جب تک حج مکمل نہ کرلیا ) احرام نہ کھولا ، باقی صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ( جن کےہمراہ قربانیاں نہ تھیں ) احرام کھول دیا ۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی انھی لوگوں میں سے تھے جو قربانیاں ساتھ لائے تھے ، لہذا انھوں نے احرام نہ کھولا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔