محمد ، یعنی ابن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی ، البتہ انھوں نے کہا : جن کے پاس قربانیاں نہ تھیں ان میں طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک دوسرے صاحب تھے ، لہذا ان دونوں نے ( عمرے کے بعد ) احرام کھول دیا ۔
عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد طاوس بن کیسان سے ، انھوں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : ( جاہلیت میں ) لوگوں کا خیال تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا ، زمین میں سب سے براکام ہے ۔ اور وہ لوگ محرم کے مہینے کو صفر بنا لیا کرتے تھے ، اور کہا کرتے تھے : جب ( اونٹوں کا ) پیٹھ کا زخم مندمل ہوجائے ، ( مسافروں کا ) نشان ( قدم ) مٹ جائے اورصفر ( اصل میں محر م ) گزر جائے تو عمرہ والے کے لئے عمرہ کرناجائز ہے ۔ ( حالانکہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ا اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ چار ذوالحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ پہنچے ، اور ان ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ اپنے حج ( کی نیت ) کو عمرے میں بدل دیں ، یہ بات ان ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) پر بڑی گراں تھی ، سب نے بیک زبان کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ کیسی حلت ( احرام کا خاتمہ ) ہوگی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مکمل حلت ۔
نصر بن علی جحضمی نے ہمیں حدیث سنائی ، ( کہا : ) میرے والد نے ہمیں حدیث سنائی ، ( کہا : ) شعبہ نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے ایوب سے ، انھوں نے ابو عالیہ براء سے روایت کی ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کاتلبیہ پکارا اور چار ذوالحجہ کو تشریف لائے اور فجر کی نماز ادا کی ، جب نماز فجر ادا کرچکے تو فرمایا : " جو ( اپنے حج کو ) عمرہ بنانا چاہے ، وہ اسے عمرہ بنا لے ۔
حدیث 3011 — صحيح مسلم 15:219
وَحَدَّثَنَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ أَمَّا رَوْحٌ وَيَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ فَقَالاَ كَمَا قَالَ نَصْرٌ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ . وَأَمَّا أَبُو شِهَابٍ فَفِي رِوَايَتِهِ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نُهِلُّ بِالْحَجِّ . وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا فَصَلَّى الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ . خَلاَ الْجَهْضَمِيَّ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْهُ .
یہی حدیث روح ، ابو شہاب اور یحییٰ بن کثیر ان تمام نے شعبہ سے اسی سند سے روایت کی ، روح اور یحییٰ بن کثیر دونوں نے ویسے ہی کہا جیسا کہ نصر ( بن علی جہضمی نے کہا کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکا را البتہ ابو شہاب کی روایت میں ہے : ہم تمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکا رتے ہو ئے نکلے ۔ ( آگے ) ان سب کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحا ء میں فجر کی نماز ادا کی ، سوائے جہضمی کے کہ انھوں نے یہ بات نہیں کی
حدیث 3012 — صحيح مسلم 15:220
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ لأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنَ الْعَشْرِ وَهُمْ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً .
ہمیں وہیب نے حدیث سنا ئی ، ( کہا ) ہمیں ایو ب نے حدیث سنا ئی انھوں نے ابو عالیہ برا ء سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحا بہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سمیت عشرہ ذوالحجہ کی چار راتیں گزارنے کے بعد ( مکہ ) تشریف لا ئے ۔ وہ ( صحابہ کرا م رضوان اللہ عنھم اجمعین ) حج کا تلبیہ پکاررہے تھے ( وہاں پہنچ کر ) آپ نے انھیں حکم دیا کہ اس ( نسک جس کے لیے وہ تلبیہ پکار رہے تھے ) کو عمر ے میں بدل دیں ۔
معمر نے ہمیں ہمیں خبردی انھوں نے ایوب سے انھوں نے ابو عالیہ سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ذی طوی میں ادا فر ما ئی اور ذوالحجہ کی چا ر راتیں گزری تھیں کہ تشریف لا ئے اور اپنے صحا بہ کرام حکم فرمایا کہ جس کے پاس قربانی ہے ان کے علاوہ باقی سب لو گ اپنے ( حج کے ) احرام کوعمرے میں بدل دیں ۔
محمد بن جعفر نے اور عبید اللہ بن معاذ نے اپنے والد کے واسطے سے حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ لفظ عبید اللہ کے ہیں ۔ ۔ ۔ کہا شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حکم سے ، انھوں نے مجا ہد سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " یہ عمرہ ( اداہوا ) ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھا لیا ہے ( اب ) جس کے پاس قربانی کا جا نور نہ ہو وہ مکمل طور پر حلال ہو جا ئے ۔ ( احرا م کھول دے ) یقیناً ( اب ) قیامت کے دن تک کے لیے عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے ( دونوں ایک ساتھ ادا کیے جا سکتے ہیں)
ابو حمزہ ضبعی نے کہا : میں نے حج تمتع ( کا ارادہ ) کیا تو ( متعدد ) لوگوں نے مجھے اس سے روکا ، میں ( اسی شش و پنج میں ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور اس معاملے میں استفسارکیا تو انھوں نے مجھے اس ( حج تمتع ) کا حکم دیا ۔ کہا پھر میں اپنے گھر لوٹا اور آکر سو گیا ، نیند میں دورا ن خواب میرے پاس ایک شخص آیا ۔ اور کہا ( تمھا را ) عمرہ قبول اور ( تمھا را ) حج مبرو ( ہر عیب سےپاک ) ہے ۔ انھوں نے کہا میں ( دوباراہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حا ضر ہوا اور جو دیکھا تھا ۔ کہہ سنا یا ۔ وہ ( خوشی سے ) کہہ اٹھے ( عربی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ) یہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ( تمھا را خواب اسی کی بشارت ہے)
شعبہ نے قتادہ سے انھوں نے ابو حسان سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فر ما یا : آپ نے ذوالحلیفہ میں ظہر کی نماز ادا فرمائی ۔ پھر اپنی اونٹنی منگوائی اور اس کی کو ہا ن کی دا ئیں جا نب ( ہلکے سے ) زخم کا نشان لگا یا اور خون پونچھ دیا اور دو جوتے اس کے گلے میں لتکا ئے ۔ پھر اپنی سواری پر سوار ہو ئے ۔ ( اور چل دیے ) جب وہ آپ کو لے کر بیداء کے اوپر پہنچی تو آپ نے حج کا تلبیہ پکا را ۔
حدیث 3017 — صحيح مسلم 15:225
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ . بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ . وَلَمْ يَقُلْ صَلَّى بِهَا الظُّهْرَ .
معاذ بن ہشام نے کہا : مجھے میرے والد ( ہشام بن ابی عبد اللہ صاحب الدستوائی ) نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ شعبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ، البتہ انھوں نے یہ الفا ظ کہے : " اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ آئے " یہ نہیں کہا : " انھوں نے وہاں ( ذوالحلیفہ میں ) ظہر کی نماز ادا فرمائی ۔