شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو حسان اعرج سے سنا ، انھوں نے کہا بنو حجیم کے ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا یہ کیا فتوی ہے ۔ جس نے لوگوں کو الجھا رکھا ہے یا پریشان کر رکھا ہے؟ کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کرے ( عمرہ کر لے ) وہ احرا م سے باہر آجا تا ہے ۔ انھوں نے فر ما یا : یہی تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چا ہے تمھا ری مرضی نہ ہو ۔
ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے ، انھوں ے ابو حسان سے حدیث بیان کی ، کہا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا کہ اس معاملے ( فتوے ) نے لوگوں کو تفرقے میں ڈال دیا ہے کہ جو بیت اللہ کا طوف ( عمرہ ) کر کے وہ احرا م سے باہر آجا تا ہے اور یہ کہ طواف مستقل عمرہ ہے فر ما یا : ( ہاں ) یہی تمھا رے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چا ہے تمھیں نہ چا ہتے ہو ئے قبول کرنی پڑے ۔
ابن جریج نے کہا : مجھے عطا ء نے خبر دی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر مایا کرتے تھے : ( احرا م کی حا لت میں ) جو شخص بھی بیت اللہ کا طواف کرے وہ حاجی ہو یا غیر حاجی ( صرف عمرہ کرنے والا ) وہ طواف کے بعد احرا م سے آزاد ہو جا ئے گا ابن جریج نے کہا : میں نے عطا ء سے دریافت کیا ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ بات کہاں سے لیتے ہیں؟ ( ان کے پاس کیا دلیل ہے؟ فرمایا اللہ تعا لیٰ کے اس فر مان سے ( دلیل لیتے ہوئے ) " پھر ان کے حلال ( ذبح ) ہو نے کی جگہ " البیت العتیق " ( بیت اللہ ) کے پاس ہے ۔ " ابن جریج نے کہا : میں نے ( عطاء سے ) کہا : اس آیت کا تعلق تو وقوف عرفات کے بعد سے ہے انھوں نے جواب دیا : ( مگر ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے : اس آیت کا تعلق وقوف عرفات سے قبل اور بعد دونوں سے ہے ۔ اور انھوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم سے اخذ کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حجۃ الوداع کے موقع پر ( طواف وسعی کے بعد ) احرا م کھول دینے کے بارے میں دیا تھا ۔
ہشام بن حجیر نے طاوس سے روایت کی ، کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذکر کیا کہ مجھے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتا یا کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے مروہ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال قینچی سے کا ٹے تھے؟میں نے کہا : میں یہ تو نہیں جانتا مگر ( یہ جا نتا ہوں کہ ) آپ کی یہ بات آپ ہی کے خلا ف دلیل ہے ۔
حسن بن مسلم نے طاوس سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت معاویہ ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خبر دی کہا : میں نے قینچی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تر اشے جبکہ آپ مروہ پر ( سعی سے فارغ ہو ئے ) تھے ۔ یا کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے بال قینچی سے ترا شے جا رہے تھے ، اور آپ مروہ پرتھے ۔
عبد الاعلی بن عبد الاعلی نے حدیث بیان کی ، ( کہا ) ہمیں داود نے ابو نضر ہ سے انھوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیا ن کی ، کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتہائی بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکا رتے ہو ئے نکلے ۔ جب ہم مکہ پہنچے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ جن کے پاس قربانی ہے ان کے علاوہ ہم تمام اسے ( حج کو ) عمرے میں بدل دیں ۔ جب ( ترویہ ) آٹھ ذوالحجہ کا دن آیا تو ہم نے احرا م باندھا منیٰ کی طرف روانہ ہو ئے اور حج کا تلبیہ پکا را ۔
حدیث 3024 — صحيح مسلم 15:232
وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنهما - قَالاَ قَدِمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا .
وہیب بن خا لد نے داود سے انھوں نے ابو نضرہ سے انھوں نے جابر اور ابو خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، ان دونوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ پہنچے اور ہم بہت بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکا ر رہے تھے ۔
ابو نضر ہ سے روایت ہے کہا : میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا : ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں متعوں ( حج تمتع اور عورتوں سے متعہ ) کے بارے میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے ۔ حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ دونوں متعے کیے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا تو دوبار ہ ہم نے دونوں نہیں کیے ۔
حدیث 3026 — صحيح مسلم 15:234
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ مَرْوَانَ الأَصْفَرِ، عَنْ أَنَسٍ، - رضى الله عنه - أَنَّ عَلِيًّا، قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بِمَ أَهْلَلْتَ " . فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ " لَوْلاَ أَنَّ مَعِيَ الْهَدْىَ لأَحْلَلْتُ " .
(عبد الرحمٰن ) بن مہدی نے ہمیں حدیث سنا ئی ( کہا ) مجھے سلیم بن حیا ن نے مروان اصغر سے حدیث سنا ئی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) یمن سے مکہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : " تم نے کیا تلبیہ پکا را ؟انھوں نے جواب دیا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیے کے مطا بق تلبیہ پکا را ۔ آپ نے فرمایا : " اگر میرے پاس قربانی نہ ہو تی تو میں ضرور احلال ( احرا م سے فراغت ) اختیا ر کر لیتا ۔
عبد الصمد اور بہزدونوں نے کہا : ہمیں سلیم بن حیان نے اسی سند کے ساتھ اسی کی طرح حدیث بیان کی ، البتہ بہز کی روایت میں " حلال ہو جا تا " ( احرا م کھو ل دیتا ) کے الفا ظ ہیں ۔