حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ - عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ - قَالَ - فَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فَجَعَلَتْهُ فِي تَوْرٍ فَقَالَتْ يَا أَنَسُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْ بَعَثَتْ بِهَذَا إِلَيْكَ أُمِّي وَهْىَ تُقْرِئُكَ السَّلاَمَ وَتَقُولُ إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ - قَالَ - فَذَهَبْتُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُكَ السَّلاَمَ وَتَقُولُ إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " ضَعْهُ - ثُمَّ قَالَ - اذْهَبْ فَادْعُ لِي فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا وَمَنْ لَقِيتَ " . وَسَمَّى رِجَالاً - قَالَ - فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى وَمَنْ لَقِيتُ . قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ عَدَدَ كَمْ كَانُوا قَالَ زُهَاءَ ثَلاَثِمِائَةٍ . وَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَنَسُ هَاتِ التَّوْرَ " . قَالَ فَدَخَلُوا حَتَّى امْتَلأَتِ الصُّفَّةُ وَالْحُجْرَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ وَلْيَأْكُلْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ " . قَالَ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا - قَالَ - فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ حَتَّى أَكَلُوا كُلُّهُمْ . فَقَالَ لِي " يَا أَنَسُ ارْفَعْ " . قَالَ فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ وَضَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ رَفَعْتُ - قَالَ - وَجَلَسَ طَوَائِفُ مِنْهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ وَزَوْجَتُهُ مُوَلِّيَةٌ وَجْهَهَا إِلَى الْحَائِطِ فَثَقُلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ رَجَعَ ظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ ثَقُلُوا عَلَيْهِ - قَالَ - فَابْتَدَرُوا الْبَابَ فَخَرَجُوا كُلُّهُمْ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم َتَّى أَرْخَى السِّتْرَ وَدَخَلَ وَأَنَا جَالِسٌ فِي الْحُجْرَةِ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلاَّ يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ عَلَىَّ . وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلاَ مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ . قَالَ الْجَعْدُ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَا أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِهَذِهِ الآيَاتِ وَحُجِبْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
معمر نے ہمیں ابوعثمان ( جعد ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک بڑے برتن میں حیس بھی آپ کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیا ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جاؤ اور مسلمانوں میں سے جو بھی تمہیں ملے اسے میرے پاس بلا لاؤ " تو میں جس سے ملا اسے آپ کی طرف دعوت دی ، لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ، کھانا کھاتے اور نکل جاتے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے پر اپنا ہاتھ رکھا اور اس میں ( برکت کی ) دعا کی ، اس کے بارے میں جو اللہ نے چاہا کہ آپ کہیں ، آپ نے کہا ۔ اور میں جس کو بھی ملا ، ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا مگر اسے دعوت دی ، لوگوں نے کھایا ، حتی کہ سیر ہو گئے اور نکل گئے ، ان میں سے ایک گروہ ( وہیں ) رہ گیا ، انہوں نے آپ کی موجودگی میں طویل گفتگو کی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حیا محسوس کرنے لگے کہ ان سے کچھ کہیں ، چنانچہ آپ نکلے اور انہیں گھر میں ہی چھوڑ دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیات ) نازل فرمائیں : " اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو ، الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے ( اندر آنے کی ) اجازت دی جائے ، کھانا پکنے کا انتظار کرتے ہوئے نہیں ۔ " ۔ ۔ قتادہ نے کہا : کھانے کے وقت کا انتظار کرتے ہوئے نہیں ۔ ۔ " لیکن جب تمہیں بلایا جائے تب تم اندر جاؤ ۔ " حتی کہ آپ نے یہاں تک تلاوت کی : " یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے اور یادہ پاکیزگی ( کا طریقہ ) ہے
حدیث 3509 — صحيح مسلم 16:112
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا " .
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ اس میں ضرور آئے
خالد بن حارث نے ہمیں عبیداللہ ( بن عمر بن حفص مدنی ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے ۔ "" خالد نے کہا : عبیداللہ اسے شادی ( کی دعوتِ ولیمہ ) پر محمول کرتے تھے
حدیث 3511 — صحيح مسلم 16:114
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةِ عُرْسٍ فَلْيُجِبْ " .
محمد بن عبداللہ بن نمیر کے والد نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کو شادی کے ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے
حدیث 3512 — صحيح مسلم 16:115
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ " .
حماد نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تمہیں بلایا جائے تو دعوت میں آؤ
حدیث 3513 — صحيح مسلم 16:116
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ " .
معمر نے ہمیں ایوب سے خبر دی ، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( حدیث بیان کرتے ہوئے ) کہا کرتے تھے : " جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو دعوت دے تو وہ قبول کرے شادی ہو یا اس جیسی ( کوئی اور ) تقریب
حدیث 3514 — صحيح مسلم 16:117
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ دُعِيَ إِلَى عُرْسٍ أَوْ نَحْوِهِ فَلْيُجِبْ " .
زُبیدی نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص کو شادی یا اس جیسی کسی تقریب میں بلایا جائے تو وہ قبول کرے
حدیث 3515 — صحيح مسلم 16:118
حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ، أُمَيَّةَ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ " .
اسماعیل بن اُمیہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تمہیں بلایا جائے تو دعوت میں آؤ
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ( مسلمان بھائیوں کی طرف سے دی جانے والی ) اس دعوت کو ، جب تمہیں اس کے لیے بلایا جائے ، قبول کرو ۔ "" کہا : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ دعوت میں شریک ہوتے خواہ وہ شادی کی ہو یا شادی کے بغیر ، اور وہ روزے کی حالت میں بھی اس میں آتے تھے
حدیث 3517 — صحيح مسلم 16:120
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دُعِيتُمْ إِلَى كُرَاعٍ فَأَجِيبُوا " .
عمر بن محمد نے مجھے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تمہیں ( بکری کے ) پائے کی بھی دعوت دی جائے تو قبول کرو