محمد بن مثنیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن مہدی نے حدیث سنائی ، نیز ہمیں محمد بن عبداللہ بن نمیر نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، دونوں ( ابن مہدی اور عبداللہ بن نمیر ) نے کہا : ہمیں سفیان اور ابوزبیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ اس مین آئے ، پھر اگر اور چاہے تو کھا لے ، چاہے تو نہ کھائے ۔ " ابن مثنیٰ نے " کھانے کی دعوت " کے الفاظ ذکر نہیں کیے
ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے ۔ اگر وہ روزہ دار ہے تو دعا کرے اور اگر روزے کے بغیر ہے تو کھانا کھائے
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ کہا کرتے تھے : اُس ولیمے کا کھانا بُرا کھانا ہے جس میں امیروں کو بلایا جائے اور مسکینوں کو چھوڑ دیا جائے اور جس نے ( بلانے کے باوجود ) دعوت میں شرکت نہ کی ، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی
سفیان ( بن عیینہ ) نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے امام زہری سے پوچھا : جنابِ ابوبکر! یہ حدیث کس طرح ہے : "" بدترین کھانا امیروں کا کھانا ہے "" ؟ وہ ہنسے ، اور جواب دیا : یہ ( حدیث ) اس طرح نہیں ہے کہ بدترین کھانا امیروں کا کھانا ہے ۔ سفیان نے کہا : میرے والد غنی تھے ، جب میں نے یہ حدیث سنی تھی تو اس نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا ، اس لیے میں نے اس کے بارے میں امام زہری سے دریافت کیا ، انہوں نے کہا : مجھے عبدالرحمٰن اعرج نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : بدترین کھانا اُس ولیمے کا کھانا ہے ۔ آگے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث کی طرح بیان کیا
معمر نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور اعرج سے ، اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بدترین کھانا اُس ولیمے کا کھانا ہے ، ( آگے ) امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث کی طرح ہے
ابوزناد نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند حدیث روایت کی
حدیث 3525 — صحيح مسلم #3525
زیاد بن سعد نے کہا : میں نے ثابت ( بن عیاض ) اعرج سے سنا ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بدترین کھانا ( ایسے ) ولیمے کا کھانا ہے کہ جو اس میں آتا ہے اسے اس سے روکا جاتا ہے اور جو اس ( میں شمولیت ) سے انکار کرتا ہے اسے بلایا جاتا ہے ۔ اور جس شخص نے دعوت قبول نہ کی ، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی
حدیث 3526 — صحيح مسلم 16:128
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلاَقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ " . قَالَتْ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَهُ وَخَالِدٌ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَنَادَى يَا أَبَا بَكْرٍ أَلاَ تَسْمَعُ هَذِهِ مَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
سفیان نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رفاعہ ( بن سموءل قرظی ) کی بیوی ( تمیمہ بنت وہب قرظیہ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : میں رفاعہ کے ہاں ( نکاح میں ) تھی ، اس نے مجھے طلاق دی اور قطعی ( تیسری ) طلاق دے دی تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر ( بن باطا قرظی ) سے شادی کر لی ، مگر جو اس کے پاس ہے وہ کپڑے کی جھالر کی طرح ہے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا : "" کیا تم دوبارہ رفاعہ کے پاس لوٹنا چاہتی ہو؟ نہیں ( جا سکتی ) ، حتی کہ تم اس ( دوسرے خاوند ) کی لذت چکھ لو اور وہ تمہاری لذت چکھ لے ۔ "" ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس موجود تھے اور خالد رضی اللہ عنہ ( بن سعید بن عاص ) دروازے پر اجازت ملنے کے منتظر تھے ، تو انہوں نے پکار کر کہا : ابوبکر! کیا آپ اس عورت کو نہیں سن رہے جو بات وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونچی آواز سے کہہ رہی ہے
حدیث 3527 — صحيح مسلم 16:129
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا وَقَالَ، حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَبَتَّ طَلاَقَهَا فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِيقَاتٍ فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ إِلاَّ مِثْلُ الْهُدْبَةِ وَأَخَذَتْ بِهُدْبَةٍ مِنْ جِلْبَابِهَا . قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَاحِكًا فَقَالَ " لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ " . وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَةِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ قَالَ فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِي أَبَا بَكْرٍ أَلاَ تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور قطعی ( آخری ) طلاق دے دی ، تو اس عورت نے اس کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر ( قرظی ) سے شادی کر لی ، بعد ازاں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول! وہ رفاعہ کے نکاح میں تھی ، اس نے اسے تین طلاق بھی دے دی ، تو میں اس کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی اور وہ ، اللہ کی قسم! اس کے پاس تو کپڑے کے کنارے کی جھالر کی مانند ہی ہے ، اور اس نے اپنی چادر کے کنارے کی جھالر پکڑ لی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا : " شاید تم رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ نہیں! یہاں تک کہ وہ تمہاری لذت چکھ لے اور تم اس کی لذت چکھ لو ۔ " حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے اور خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ حجرے کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے ، انہیں ( ابھی اندر آنے کی ) اجازت نہیں ملی تھی ۔ کہا : تو خالد نے ( وہیں سے ) ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پکارنا شروع کر دیا : آپ اس عورت کو سختی سے اس بات سے روکتے کیوں نہیں جو وہ بلند آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہہ رہی ہے