ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مسیب بن رافع سے ، انہوں نے تمیم بن طرفہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’ کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں نماز میں اس طرح ہاتھ اٹھاتے دیکھ رہا ہوں ، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہوں؟ ( ہاتھ اٹھا کر دائیں بائیں گھوڑے کی دم کی طرح کیوں ہلاتے ہو ۔ دیکھیے ، حدیث : 970 ۔ 971 ) نماز میں پرسکون رہو ۔ ‘ ‘ انہوں نے کہا : پھر آپ ( ایک اور موقع پر ) تشریف لائے اور ہمیں مختلف حلقوں میں بیٹھے دیکھا تو فرمایا : ’’ کیا وجہ ہے کہ تمہیں ٹولیوں میں ( بٹا ہوا ) دیکھ رہا ہوں؟ ‘ ‘ پھر ( ایک اور موقع پر ) تشریف لائے تو فرمایا : ’’ تم اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح بارگاہ الٰہی میں فرشتے صف بستہ ہوتے ہیں؟ ‘ ‘ ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! فرشتے صف بستہ ہوتے ہیں؟ ‘ ‘ ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! فرشتے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : ’’ وہ پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘
۔ مسعر نے کہا : مجھ سے عبید اللہ ابن قبطیہ نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ، انہوں نے کہا کہ جب ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم کہتے : السلام عليكم ورحمة الله ، السلام عليكم ورحمة الله اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے دونوں جانب اشارہ کیا ، چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اپنے ہاتھوں کے ساتھ اشارہ کیوں کرتے ہو ، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہوں؟ تم میں سے ( ہر ) ایک کے لیے بس یہی کافی ہے کہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھے ، پھر اپنے بھائی کو سلام کرے جو دائیں جانب ہے اور ( جو ) بائیں جانب ( ہے ۔ ) ‘ ‘
حدیث 971 — صحيح مسلم 4:133
وَحَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ فُرَاتٍ، - يَعْنِي الْقَزَّازَ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكُنَّا إِذَا سَلَّمْنَا قُلْنَا بِأَيْدِينَا السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا شَأْنُكُمْ تُشِيرُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْتَفِتْ إِلَى صَاحِبِهِ وَلاَ يُومِئْ بِيَدِهِ " .
۔ فرات قزاز نے عبید اللہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہم لوگ جب سلام پھیرتے تو ہاتھوں کے اشارے سے السلام عليكم ، السلام عليكم کہتے تھے ، رسول اللہﷺ نے ہماری طرف دیکھا اور فرمایا : ’’کیا وجہ ہے کہ تم ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہو ، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دمیں ہوں؟ تم میں سے کوئی جب سلام پھیرے تو اپنے ساتھی کی طرف رخ کرے اور ہاتھ سے اشارہ نہ کرے ۔ ‘ ‘
عبد اللہ بن ادریس ، ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے روایت کی ، انہوں نے عمارہ بن عمیر تیمی سے ، انہوں نے ابو معمر سے اور انہوں نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نماز میں ( ہمیں برابر کھڑا کرنے کے لیے ) ہمارے کندھوں کو ہاتھ لگا کر فرماتے : ’’برابر ہو جاؤ اور جدا جدا کھڑے نہ ہو کہ اس سے تمہارے دل باہم مختلف ہو جائیں ، میرے ساتھ تم میں سے پختہ عقل والے دانش مند ( کھڑے ) ہوں ، ان کے بعد وہ جو ( دانش مندی میں ) ان کے قریب ہوں ، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ۔ ‘ ‘ ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آج تم ایک دوسرے سے شدید ترین اختلاف رکھتے ہو ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ میرے ساتھ تم میں سے پختہ عقل والے اور دانش مند کھڑے ہوں ، پھر وہ جو ( اس میں ) ان کے قریب ہوں ( پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ) تین بار فرمایا : اور تم بازاروں کے گڈ مڈ گروہ ( بننے ) سے بچو ۔ ‘ ‘
قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’اپنی صفوں کو برابر کیا کرو کیونکہ صفوں کا برابر کرنا نماز کی تکمیل کا حصہ ہے <ہیڈنگ 2> </ہیڈنگ 2>
حدیث 976 — صحيح مسلم 4:138
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ - عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتِمُّوا الصُّفُوفَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ خَلْفَ ظَهْرِي " .
عبد العزیز نے ، جو صہیب کے بیٹے ہیں ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’صفیں پوری کرو ، میں اپنی پیٹھ پیچھے تمہیں دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ ہے جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ سے بیان کیا ، پھر انہوں نے ان میں سے متعدد احادیث بیان کیں اور کہا : ’’نماز میں صف سیدھی رکھو کیونکہ صف کو سیدھا رکھنا نماز کے حسن ( ادائیگی ) کا حصہ ہے ۔ ‘ ‘