سالم بن ابی جعد غطفانی نے کہا : میں ن ے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’تم ہر صورت اپنی صفوں کو برابر رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ لازماً تمہارے رخ ایک دوسرے کی مخالف سمتوں میں کر دے گا ۔ ‘ ‘
ابو خیثمہ نے سماک بن حرب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہتے تھے : رسول اللہﷺ ہماری صفوں کو ( اس قدر ) سیدھا اور برابر کراتے تھے ، گویا آپ ان کے ذریعے سے تیروں کو سیدھا کر رہے ہیں ، حتیٰ کہ جب آپ کو یقین ہو گیا کہ ہم نے آپ سے ( اس بات کو ) اچھی طرح سمجھ لیا ہے تو اس کے بعد ایک دن آپ گھر سے نکل کر تشریف لائے اور ( نماز پڑھانے کی جگہ ) کھڑے ہو گئے اور قریب تھا کہ آپ تکبیر کہیں ( اور نماز شروع فرما دیں کہ ) آپ نے ایک آدمی کو دیکھا ، اس کا سینہ صف سے کچھ آگے نکلا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کے بندو! تم لازمی طور پر اپنی صفوں کو سیدھا کرو ورنہ اللہ تمہارے رخ ایک دوسرے کے خلاف مور دے گا ۔ ‘ ‘
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اگر لوگ جان لیں کہ اذان ( کہنے ) اور پہلی صف ( کا حصہ بننے ) میں کیا ( خیر وبرکت ) ہے ، پھر وہ اس کی خاطر قرعہ اندازی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ پائیں تو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی ( بھی ) کریں اور اگر وہ جان لیں کہ ظہر ( کی نماز ) جلدی ادا کرنے میں کتنا اجر وثواب ملتا ہے تو اس کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے اور اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ عشاء اور صبح کی نمازوں میں کتنا ثواب ہے تو ان دونوں نمازوں میں ( ہر صورت ) پہنچیں چاہے گھسٹ گھسٹ کر آنا پڑے ۔ ‘ ‘
ابو اشہب نے ابو نضرہ عبدی سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھیوں کو ( صف بندی میں ) پیچھے رہتے دیکھا تو ان سے کہا : ’’ آگے بڑھو اور ( براہ راست ) میری اقتدا کرو اور جو لوگ تمہارے بعد ہوں وہ تمہاری اقتدا کریں ، کچھ لوگ مسلسل پیچھے رہتے جائیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ان کو پیچھے کر دے گا ۔ ‘ ‘
۔ جریری نے ابو نضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو مسجد کے پچھلے حصے میں دیکھا ... آگے اسی طرح روایت بیان کی ۔
ابراہیم بن دینار اور محمد بن حرب واسطی نے کہا : ہمیں ابو قطن عمرو بن ہیثم نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے خلاس سے ، انہوں نے ابو رافع سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اگر تم جان لو ، یا لوگ جان لیں کہ اگلی صف میں کیا ( فضیلت ) ہے تو اس پر قرعہ اندازی ہو ۔ ‘ ‘ ابن حرب نے ( في الصف المقدم لكانت قرعة کے بجائے ) في الصف الأول ما كانت إلا قرعة ’’پہلی صف میں کیا ہے تو قرعہ کے سوا کچھ نہ ہو ‘ ‘ کہا ۔
حدیث 985 — صحيح مسلم 4:147
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا " .
جریر نے سہیل سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’مردو کی بہترین صف پہلی اور بدترین صف آخری ہے جبکہ عورتوں کی بہترین صف آخری اور بدترین صف پہلی ہے ۔
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے مردوں کو دیکھا کہ چادریں تنگ ہونے کی وجہ سے وہ بچوں کی طرح اپنی چادریں گردنوں میں باندھے ہوئے نبیﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ، اس پر کسی کہنے والے نے کہا : اے عورتوں کی جماعت! تم اس وقت تک اپنے سروں کو ( سجدے سے ) نہ اٹھانا جب تک مرد ( سر نہ ) اٹھا لیں ۔ ( خدانخواستہ کسی مرد کے ستر کا کوئی حصہ کھلا ہوا نہ ہو ۔ یہ بات آپﷺ کی موجودگی میں کہی گئی اور آپ نے کہنے والے کو نہ ٹوکا ۔)