حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ فَقَرَأَ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ .
(شعبہ کے بجائے ) یحییٰ بن سعید نے عدی بن ثابت سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو آپ نے ﴿والتين والزيتون﴾ کی قراءت کی ۔
حدیث 1039 — صحيح مسلم 4:201
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ . فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا مِنْهُ .
(شعبہ اور یحییٰ کے بجائے ) مسعر نے عدی بن ثابت سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو عشاء کی نماز میں ﴿والتين والزيتون﴾ کی قراءت کرتے ہوئے سنا ، میں نے کسی کو نہیں سنا جس کی آواز آپ سے زیادہ اچھی ہو ۔
حدیث 1040 — صحيح مسلم 4:202
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَأْتِي فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ فَصَلَّى لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ ثُمَّ أَتَى قَوْمَهُ فَأَمَّهُمْ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَانْحَرَفَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى وَحْدَهُ وَانْصَرَفَ فَقَالُوا لَهُ أَنَافَقْتَ يَا فُلاَنُ قَالَ لاَ وَاللَّهِ وَلآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلأُخْبِرَنَّهُ . فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِالنَّهَارِ وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّى مَعَكَ الْعِشَاءَ ثُمَّ أَتَى فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ . فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ " يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ اقْرَأْ بِكَذَا وَاقْرَأْ بِكَذَا " . قَالَ سُفْيَانُ فَقُلْتُ لِعَمْرٍو إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ " اقْرَأْ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا . وَالضُّحَى . وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى . وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى " . فَقَالَ عَمْرٌو نَحْوَ هَذَا .
سفیان نے عمرو سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر آ کر اپنے قبیلے کی ( مسجد میں ) امامت کراتے ، ایک رات انہوں نے عشاء کی نماز رسول اللہﷺ کے ساتھ پڑھی ، پھر اپنی قوم کے پاس آئے ، ان کی امامت اور ( سورۃ فاتحہ کے بعد ) سورۃ بقرہ پڑھنی شروع کر دی ۔ ایک شخص الگ ہو گیا ، ( نماز سے ، سلام پھیرا ، پھر اکیلے نماز پڑھی اور چلا گیا تو لوگوں نے اس سے کہا : اے فلاں! کیا تو منافق ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم! نہیں ، میں ضرور رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس معاملے سے آگاہ کروں گا ، چنانچہ وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم ان اونٹوں والے ہیں جو پانی ڈھوتے ہیں ، دن بھر کام کرتے ہیں اور معاذ رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز آپ کے ساتھ پڑھی ، پھر آ کر سورۃ بقرہ کے ساتھ نماز شروع کر دی ۔ رسول اللہﷺ نے ( یہ سن کر ) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا : ’’اے معاذ! کیا لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنے والے ہو؟ فلاں سورت پڑھا کرو اور فلاں سورت پڑھا کرو ۔ ‘ ‘ سفیان نے کہا : میں نے عمرو سے کہا : ابو زبیر نے ہمیں جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا : ﴿والشمس وضحاها﴾ ﴿والضحى﴾ ، ﴿واليل إذا يغشى﴾ اور ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ پڑھا کرو ۔ اور عمرو نے کہا : اس جیسی ( سورتیں پڑھا کرو)
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ معاذ بن جبل انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور اس میں طویل قراءت کی ۔ ہم میں سے ایک آدمی نکلا اور الگ نماز پڑھ لی ۔ معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا : وہ منافق ہے ۔ جب اس آدمی تک یہ بات پہنچی تو وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آ پ کو بتایا کہ معاذ نے کیا کہا ، اس پر رسول اللہﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’اے معاذ! کیا تم فتنہ ڈالنے والے بننا چاہتے ہو؟ جب لوگوں کی امامت کراؤ تو ﴿والشمس وضحها﴾ ، ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ ، ﴿اقرأ باسم ربك الذي خلق﴾ اور ﴿واليل إذا يغشى﴾ پڑھا کرو ۔ ‘ ‘
منصور نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر اپنی قوم میں آ کر یہی نماز ان کو پڑھاتے تھے ۔
(منصور کے بجائے ) ایوب نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر اپنی قوم کی مسجد میں آ کر ان کو نماز پڑھاتے تھے ۔
حدیث 1044 — صحيح مسلم 4:206
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي لأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ مِنْ أَجْلِ فُلاَنٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا . فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم غَضِبَ فِي مَوْعِظَةٍ قَطُّ أَشَدَّ مِمَّا غَضِبَ يَوْمَئِذٍ فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُوجِزْ فَإِنَّ مِنْ وَرَائِهِ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ " .
ہشیم نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انہوں نے قیس سے اور انۂں نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور عرض کی : بے شک میں فلاں آدمی کی وجہ سے صبح کی نماز سے پیچھے رہتا ہوں کیونکہ وہ ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے ۔ ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو کبھی نہیں دیکھا کہ پند ونصیحت کرتے وقت ، آپ کبھی اس دن سے زیادہ غضب ناک ہوئے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’لوگو! تم میں سے بعض ( دوسروں کو نماز سے ) متنفر کرنے والے ہیں ۔ تم میں سے جو بھی لوگوں کی امامت کرائے وہ اختصار سے کام لے کیونکہ اس کے پیچھے بوڑھے ، کمزور اور حاجت مند لوگ ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی فرد لوگوں کی امامت کرائے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ ان ( نمازیوں ) میں بچے ، بوڑھے ، کمزور اور بیمار بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے ۔ ‘ ‘
حدیث 1047 — صحيح مسلم 4:209
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا مَا قَامَ أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفِ الصَّلاَةَ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَفِيهِمُ الضَّعِيفَ وَإِذَا قَامَ وَحْدَهُ فَلْيُطِلْ صَلاَتَهُ مَا شَاءَ " .
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہمیں یہ احادیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے محمد رسو اللہﷺ سے بیان کیں ، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں اور کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی لوگوں کا امام بنے تو وہ نماز میں تخفیف کرے کیونکہ لوگوں میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا پڑھے تو اپنی نماز جتنی چاہے طویل کر لے ۔ ‘ ‘ <ہیڈنگ 1> </ہیڈنگ 1>