۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے کیونکہ لوگوں میں کمزور ، بیمار اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘
(ابو سلمہ کے بجائے ) ابو بکر بن عبد الرحمن نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : .... اسی کے مانند ، البتہ اس میں سقیم ( بیمار ) کی جگہ کبیر ( بوڑھا ) کہا ہے ۔
موسیٰ بن طلحہ نے کہا : مجھے حضرت عثمان بن ابو عاص ثقفی رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ نبیﷺ نے ان سے فرمایا : ’’ اپنی قوم کی امامت کراؤ ۔ ‘ ‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں اپنے دل میں کچھ محسوس کرتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’میرے قریب ہو جاؤ ۔ ‘ ‘ آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا ، پھر اپنی ہتھیلی میر ی دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھی ، اس کے بعد فرمایا : ’’رخ پھیرو ۔ ‘ ‘ اس کے بعد آپ نے ہتھیلی میری پشت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھی ، پھر فرمایا : ’’ اپنی قوم کی امامت کراؤ اور جو لوگوں کا امام بنے ، وہ تخفیف کرے کیونکہ ان میں بوڑھے ہوتے ہیں ، ان میں بیمار ہوتے ہیں ، ان میں کمزور ہوتے ہیں اور ان میں ضرورت مند ہوتے ہیں ، جب تم میں سے کوئی اکیلا نماز پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے ۔ ‘ ‘
سعید بن مسیب نے کہا : حضرت عثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے آخری بات جو میرے ذمے لگائی یہ تھی : ’’ جب تم لوگوں کی امامت کراؤ تو انہیں نماز ہلکی پڑھاؤ
حدیث 1052 — صحيح مسلم 4:214
وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُوجِزُ فِي الصَّلاَةِ وَيُتِمُّ .
عبد العزیز بن صہیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نماز میں تخفیف کرتے اور مکمل ادا کرتے تھے ۔
حدیث 1053 — صحيح مسلم 4:215
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ، قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلاَةً فِي تَمَامٍ .
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ ( سب سے زیادہ ) مکمل صورت میں سب سے زیادہ تخفیف کے ساتھ نماز پڑھانے والے تھے ۔
شریک بن عبد اللہ ابی نمر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے کبھی کسی ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہﷺ کی نماز سے زیادہ ہلکی اور زیادہ مکمل نماز پڑھانے والا ہو ۔
حدیث 1055 — صحيح مسلم 4:217
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَنَسٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ مَعَ أُمِّهِ وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ فَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ الْخَفِيفَةِ أَوْ بِالسُّورَةِ الْقَصِيرَةِ .
۔ ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ماں کے ساتھ ( آئے ہوئے ) بچے کا رونا سنتے اور آپ نماز میں ہوتے تو ہلکی سورت یا ( کہا ) چھوٹی سورت پڑھ لیتے ۔
قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ میں نماز شروع کرتا ہوں ، میرا ارادہ لمبی نماز ( پڑھنے ) کا ہوتا ہے ، پھر بچے کا رونا سنتا ہوں تو بچے پر ماں کے غم کی شدت کی وجہ سے ( نماز میں ) تخفیف کر دیتا ہوں ۔ ‘ ‘
ہلال بن ابی حمید نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے محمدﷺ کی معیت میں ( پڑھی جانے والی ) نماز کو غور سے دیکھا تو میں نے آپ کے قیام ، رکوع ، رکوع کے بعد اعتدال اور آپ کے سجدے ، دونوں سجدوں کے درمیان جلسے ( بیٹھنا ) اور آپ کے دوسرے سجدے اور اس کے بعد سلام اور رخ پھیرنے کے درمیان وقفے کو تقریبا برابر پایا ۔