۔ ابن عجلان نے عامر بن عبد اللہ بن زبیرسے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ‘ انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺجب ( نماز میں ) بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پراور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اور اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے اوراپنا انگوٹھا اپنی د رمیانی انگلی پررکھتےاور بائیں گٹھنے کو اپنی بائیں ہتھیلی کے اندر لےلیتے ( پکڑلیتے ۔)
عبید اللہ بن عمر نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبیﷺجب نماز میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گٹھنوں پر رکھ لیتے اور انگوٹھے سے ملنے والی دائیں ہاتھ کی انگلی ( شہادت کی انگلی ) اٹھا کر اس سے دعا کرتے اور اس حالت میں آپکا بایاں ہاتھ آپکے بائیں گٹھنے پرہوتا ‘ اسے ( آپ ) اس ( گٹھنے ) پر پھیلا ئے ہوتے ۔
ایوب نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺجب تشہد میں بیٹھتےتو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گٹھنے پررکھتےاوراپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں گٹھنے پر رکھتے اور انگلیوں سے تریپن ( 53 ) کی گرا بناتے اور انگشت شہادت سے اشارہ کرتے ۔
امام مالک نے مسلم بن ابی مریم سے اور انھوں نے علی بن عبد الرحمان معادی سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : مجھے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ میں نماز کے دوران ( بے خیالی کے عالم میں نیچے پڑی ہوئی ) کنکریوں سے کھیل رہاتھا ۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو مجھےے منع کیا اورکہا : ویسے کرو جس طرح رسول اللہﷺکیا کرتے تھے ۔ میں نے پوچھا : رسول اللہ ﷺکیا کرتے تھے ؟انھوں نے بتایا : جب آپﷺنماز میں بیٹھنے تو ا پنی دائیں ہتھیلی اپنی دائیں ران پر رکھتے اور سب انگلیوں کو بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران پررکھتے ۔
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے مسلم بن ابی مریم سے حدیث سنائی ‘ انھوں نے علی بن عبد الرحمان معادی سے روایت کی ئ انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھی ...پھر سفیان نے مالک کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور ( سفیان کے شاگرد ابن ابی عمر نے ) یہ اضافہ کیا کہ سفیان نے کہا : یحییٰ بن سعید نے ہمیں یہ حدیث مسلم ( بن ابی مریم ) سے بیان کی تھی ‘ پھر مسلم ( بن ابی مریم ) نے خود مجھے یہ حدیث سنائی ۔
زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے حدیث بیان کی ‘ انھوں نے حکم اور منصور سے ‘ انھوں نے مجاہد سے اور انھوں نے ابو معمر سے روایت کی کہ ایک حاکم جو مکہ میں تھا دو طرف سلام پھیرتا تھا ۔ حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے کہا : وہ کہا سے اس سنت سے وابستہ ہوا ہے ؟ حکم نے اپنی حدیث میں کہا : ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے کہا رسول اللہﷺایسے ہی کیا کرتے تھے ۔
احمد بن حنبل نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے حدیث سنائی ‘ انھوں نے مجاہد سے ‘ انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ شعبہ نے کہا ۔ حکم نے ایک بار یہ روایت مرفوع بیان کی ۔ کہ ایک حاکم یا ایک آدمی نے دو طرف سلام پھیراتو عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے کہا : اس نے یہ ( سنت ) کہا سے اپنا لی ہے ؟ گویا اس دور کے حاکموں نے ایسی سنتیں بھی ترک کی ہوئی تھیں ۔ جس نے اہتمام کیا صحابہ نے اسے سراہا ۔ محدثین کی کاوشوں سے یہ سب سنتیں زندہ ہوئیں ۔
عامر بن سعد نے اپنے وال ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ‘ انھوں نے کہا : میں رسول اللہﷺ کو اپنی دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے دیکھا کرتا تھاٰحتی کہ میں آپ کے رخسار وں کی سفیدی دیکھتا تھا ۔
حدیث 1316 — صحيح مسلم 5:154
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ أَخْبَرَنِي بِذَا أَبُو مَعْبَدٍ، - ثُمَّ أَنْكَرَهُ بَعْدُ - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنَّا نَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالتَّكْبِيرِ .
زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو ( بن دینار ) سے حدیث سنائی ‘ انھوں نے کہا : مجھے ابو معبد نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے اس بات کی خبر دی ‘ بعد میں ( بھول جانے کی وجہ سے ) اس سے انکار کر دیا ‘ انھوں ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ ہمیں رسول اللہ کی نماز ختم ہونے کا پتہ تکبیر سے چلتا ہے ۔
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمروبن دینار سے حدیث سنائی ‘ انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے مولی ٰ ابو معبد کو ابن عباس کے حوالے سے بتاتے ہوئے سنا ‘ انھوں ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) نے کہا : ہمیں رسول اللہ ﷺ کی نماز ختم ہو جانے کا پتہ اللہ اکبر ہی سے لگتا تھا ۔ عمرو نےت کہا : میں نے اس روایت کا ( بعد میں ) ابو معبد کے سامنے ذکر کیا تو انھوں نے اس سے انکار کیا اور کہا : میں نے تمہیں یہ حدیث نہیں سنائی ۔ عمرو نے کہا : حالانکہ انھوں نے اس سے پہلے مجھے یہ بات بتائی تھی ۔