ابن جریج نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ ےغلام ابو معبد نے انھیں بتایا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے انھیں خبر دی کہ جب لوگ فرض نماز سے سلام پھیرتے تو اس کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا نبی اکرمﷺ کے دور میں ( رائج ) تھا اور ابو معبد ) نے کہا : ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب لوگ سلام پھیرتے تو مجھے اس بات کا علم اسی ( بلندآواز کے ساتھ کیے گئے ذکر ) سے ہوتا تھا ۔
حدیث 1319 — صحيح مسلم 5:157
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ وَهْىَ تَقُولُ هَلْ شَعَرْتِ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَالَتْ فَارْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " إِنَّمَا تُفْتَنُ يَهُودُ " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ شَعَرْتِ أَنَّهُ أُوحِيَ إِلَىَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدُ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
عروہ بن زبیر نے حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے کہا : رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میرے پاس ایک یہودی عورت موجود تھی اور وہ کہہ رہی تھی : کیا تمہیں پتہ ہے کہ قبر و ں میں تمہارا امتحان ہوگا ؟عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس پر رسول اللہ ﷺ خوفزدہ ہو گئے اور فرمایا : ’’یہودی کی آزمائش ہو گی ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا : کچھ دن گزرنے کے بعد رسو اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کیا تمہیں پتہ چلا مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم قبرو ں میں آزمائے جاؤ گے؟ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے اس کے بعد رسو ل اللہﷺ کو سنا ‘ آپ عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے ۔
ابو وائل ( شقیق بن سلمہ ) نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مدینہ کے یہودیوں کی بوڑھی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں میرے گھر آئیں اور انھوں نے کہا : قبروں والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے ۔ میں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور ان کی تصدیق کےلیے ہاں تک کہنا گوارانہ کیا ، وہ چلی گئیں اور رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ سے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے پاس مدینہ کی بوڑھی یہودی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں آئی تھیں ، ان کا خیا ل تھا کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے ۔ آپ نے ( کچھ دن گزر نے کے بعد ) فرمایا : ’’ان دونوں نے سچ کہا تھا ۔ ( قبروں میں ) ان ( کافروں ، گنا گاروں ) کو ایسا عذاب ہوتا ہے کہ اسے مویشی بھی سنتے ہیں ۔ ‘ ‘ اس کے بعد میں نے آپ کو دیکھا آپ ہر نماز میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے ۔
(ابو وائل کے بجائے ) اشعث کے والد ( ابو شعثاء سلیم محاربی ) نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عائشہ ؓ سے مذکورہ بالا حدیث روایت کی ۔ اور اس میں یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : آپ نے اس کے بعد جو نماز بھی پڑھی میں نے آپ سے سناکہ آپ اس میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے ۔
وکیع نے کہا : ہمیں اوزاعی نے حسان بن عطیہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے محمد بن ابی عائشہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، نیز ( اوزاعی نے ) یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے اور انھون نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : روسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھ لے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ طلب کرے ۔ ’’اے اللہ ! میں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت میں آزمائش سے اور مسیح دجال کے فتنے کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں
نبی کریم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ ؓ نے خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ نماز میں ( یہ ) دعا مانگتے تھے : اے اللہ ! میں قبر کے عذاب سے تیری پنا ہ چاہتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ کا طالب ہوں ، میں زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! میں گناہ اور قرض ( میں پھنس جانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ ‘ ‘ ) حضرت عائشہ ؓ نے کہا : کسی کہنے والے نے کہا : اللہ رسول ﷺ آپ قرض سے کس قدر پناہ مانگتے ہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا : ”جب آدمی مقروض ہو جائے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے ‘ ‘
ولید بن مسلم نےکہا : مجھے اوزاعی نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں حسان بن عطیہ نےحدیث سنائی ، کہا : مجھے محمد بن ابی عائشہ نے حدیث سنائی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی آخر ی تشہد سے فارغ ہو جائے تو چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے : جہنم کے عذاب سے ، قبر کے عذاب سے زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے شر سے ۔ ‘ ‘
ہقل بن زیاد اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے اوزاعی کی مذکورہ سند سے یہی حدیث روایت کی ، ا س میں ہے ، آپ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی تشہد سے فارغ ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘ ‘ انھوں نے الآخر ( آخری تشہد ) کے الفاظ نہیں کہے ۔