ہشام نے یحییٰ سے اور انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے : اللہ کے نبی ﷺ نے دعا کی : ’’اے اللہ ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور آگ کے عذاب سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے شر سے ۔ ‘ ‘
حدیث 1329 — صحيح مسلم 5:167
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ .
عمرو ( بن دینار ) نے طاؤس سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو ، قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگوں ، مسیح دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ طلب کرو اور زندگی اور موت کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ ‘ ‘
حدیث 1330 — صحيح مسلم 5:168
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ .
طاوس کے بیٹے ( عبداللہ ) نے اپنے والد طاوس سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے اسی کی ماند روایت یک
حدیث 1331 — صحيح مسلم 5:169
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ جَهَنَّمَ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ .
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے اسی کی مانند روایت کی
حدیث 1332 — صحيح مسلم #1332
عبداللہ بن شقیق نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ قبر کے عذاب سے ، جہنم کے عذاب سے اور دجال کے فتنے سے پناہ مانگا کرتے تھے ۔
طاوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ان ( سب صحابہ ) کو اس دعا کی تعلیم اسی طرح دیتے تھے جس طرح انھیں قرآن مجید کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے ۔ آپ فرماتے تھے : ’’سب کہو : اے اللہ ! ہم جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتے ہیں اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ ‘ ‘ امام مسلم نے کہا مجھے یہ بات پہنچی کہ طاوس نے اپنے بیٹے سے پوچھا : کیا تم نے اپنی نماز میں یہ دعا مانگی ہے ؟ اس نے جواب دیا : نہیں ۔ اس پرطاوس نے کہا : دوبارہ نماز پرھو کیونکہ انھوں نے ( حدیث میں مذکور ) یہ دعا تین یا چار صحابہ سے روایت کی یا جیسے انھوں نے کہا ۔ ( یعنی جتنے صحابہ سے انھوں نے کہا ۔)
ولید نے اوزاعی سے ، انہوں نے ابو عمار ۔ ان کا نام شداد بن عبداللہ ہے ۔ سے ، انھوں نے ابو اسماء سے اور انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ استغفار کرتےاور اس کے بعد کہتے : اللہم انت السلام و منك السلام ، تباركت ذاالجلال والاكرام ’’ اے اللہ ! تو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے ، تو صاحب رفعت و برکت ہے ، اے جلال والے اور عزت بخشنے والے ! ‘ ‘ ولید نے کہا : میں نے اوزاعی سے پوچھا : استغفار کیسے کیا جائے ؟ انھوں نے کہا : استغفر اللہ ، استغفر اللہ کہے ۔
ابو بکر بن ابی شبیہ اور ابن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا ہمیں ابو معاویہ نے عاصم سے حدیث سنائی ، انھوں نے عبداللہ بن حارث سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی ، کہا رسول اللہ ﷺ سلام پھیرنے کے بعد صرف یہ ذکر پڑھنے تک ہی ( قبلہ رخ ) بیٹھتے : اللہم ! انت السلام ومنک السلام تبارکت ذاالجلال والاکرام ’’اے اللہ ! تو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے ، تو صاحب رفعت وبرکت ہے ، اے جلال والے اور عزت بخشنے والے ! ‘ ‘ ابن نمیر کی روایت میں : یا ذالجلال والاکرام ( یا کے اضافے کے ساتھ ) ہے
شعبہ نے عاصم اور خالد سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن حارث سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے اسی کے مانند روایت کی ، مگر وہ ( شعبہ یا کے اضافے کے ساتھ ) یا ذاالجلال والاکرام کہا کرتے تھے ۔