قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 1348 — صحيح مسلم 5:185
وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ إِلاَّ أَنَّهُ أَدْرَجَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَوْلَ أَبِي صَالِحٍ ثُمَّ رَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ ‏.‏ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ يَقُولُ سُهَيْلٌ إِحْدَى عَشْرَةَ إِحْدَى عَشْرَةَ فَجَمِيعُ ذَلِكَ كُلِّهُ ثَلاَثَةٌ وَثَلاَثُونَ ‏.‏
امیہ بسطام عیشی نے مجھے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں یزید بن زریع نےحدیث سنائی ، کہا ہمیں روح نے سہیل سے حدیث سنائی انھون نے اپنے والد ( ابو صالح سے ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھون نے رسو اللہ ﷺ سے روایت کی کہ لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! بلند مراتب اور دائمی نعمتیں تو زیادہ مال والے لوگ لے گئے ۔ ۔ ۔ جس طرح لیث سےقتیبہ کی بیان کی ہوئی حدیث ہے ، مگر انھوں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی حدیث میں ابو صالح کا یہ قول داخل کر دیا ہے کہ پھر فقراء مہاجرین لوٹ کر آئے ، حدیث کے آخر تک ۔ اور حدیث میں اس بات کا اضافہ کیا : سہیل کہتے تھے : ( ہر کلمہ ) گیارہ گیارہ دفعہ اور یہ سب ملا کر تینتیس بار ۔ ( یہ سہیل کا اپنا فہم تھا ۔)
حدیث 1349 — صحيح مسلم 5:186
وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ عُتَيْبَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مُعَقِّبَاتٌ لاَ يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ - أَوْ فَاعِلُهُنَّ - دُبُرَ كُلِّ صَلاَةٍ مَكْتُوبَةٍ ثَلاَثٌ وَثَلاَثُونَ تَسْبِيحَةً وَثَلاَثٌ وَثَلاَثُونَ تَحْمِيدَةً وَأَرْبَعٌ وَثَلاَثُونَ تَكْبِيرَةً ‏"‏ ‏.‏
مالک بن مغول نے ہمیں خبر دی ، کہا : میں نے حکم بن عتیبہ سے سنا ، وہ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے حضرت کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے رسو ل اللہ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ ( نماز کے یا ) ایک دوسرے کے پیچھے کہے جانے والے ایسے کلمات ہیں کہ ہرفرض نماز کے بعد انھیں کہنے والا ۔ ۔ یا ان کو ادا کرنے والا ۔ کبھی نامراد و ناکام نہیں رہتا ، تینتیس بار سبحان اللہ ، تینتیس بار الحمد اللہ اورچونتیس با ر اللہ اکبر ۔ ‘ ‘
حدیث 1350 — صحيح مسلم #1350
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مُعَقِّبَاتٌ لاَ يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ - أَوْ فَاعِلُهُنَّ - ثَلاَثٌ وَثَلاَثُونَ تَسْبِيحَةً وَثَلاَثٌ وَثَلاَثُونَ تَحْمِيدَةً وَأَرْبَعٌ وَثَلاَثُونَ تَكْبِيرَةً فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلاَئِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
حمزہ زیات نے ہمیں حکم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے ، انھوں نے حضرت کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے رسو ل اللہ ﷺسے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ ایک دوسرے کےبعد کہے جانے والے ( کچھ ) کلمات ہیں ، ان کو کہنے والا ۔ یا ادا کرنے والا ۔ نا کام یا نامراد نہیں رہتا ۔ ہر ( فرض ) نماز کے بعد تینتیس دفعہ سبحان اللہ ، تینتیس مرتبہ الحمد اللہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہنا ۔ ‘ ‘
حدیث 1351 — صحيح مسلم #1351
عمرو بن قیس ملائی نے حکم سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی ۔
حدیث 1352 — صحيح مسلم 5:188
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيِّ، - قَالَ مُسْلِمٌ أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَكَبَّرَ اللَّهَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ فَتِلْكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ ‏"‏ ‏.‏
خالد بن عبداللہ نے ہمیں سہیل سے خبر دی ، انھوں نے ابو عبید مذحجی سے روایت کی ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ نے کہا : ابو عبید سلیمان بن عبدالملک کے مولیٰ تھے ۔ انھوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے روایت کی : ’’جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ تینتیس دفعہ الحمد اللہ اور تینتیس بار اللہ اکبر کہا ، یہ ننانوے ہو گے اور سو پورا کرنے کے لیے لا الہ الا اللہ وحد ہ لا شریک لہ ، لہ الملک ولاہ الحمد ، وہو علی کل شیء قدیر ‘ ‘ کیا اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ، چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔ ‘ ‘
حدیث 1353 — صحيح مسلم 5:189
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
اسماعیل بن زکریا نے سہیل سے ، انھوں نے ابو عبید سے ، انھوں نے عطاء سے اور انھوں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا ، آگے ( مذکورہ بالا روایت ) کے مانند روایت کی ۔
حدیث 1354 — صحيح مسلم #1354
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلاَةِ سَكَتَ هُنَيَّةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ مَا تَقُولُ قَالَ ‏ "‏ أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَاىَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَاىَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - كِلاَهُمَا عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ ‏.‏
جریر نےعمارہ بن قعقاع سے ، انھوں نے ابوزرعہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسو ل اللہ ﷺ جب ( آغاز ) نماز کے لیے تکبیر کہتے تو قراءات کرنے سے پہلے کچھ دیر سکوت فرماتے ، میں نےعرض کی : اے اللہ کے رسو ل ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! دیکھیے یہ جو تکبیر اور قراءت کے درمیان آپ کی خاموشی ہے ( اس کے دوران میں ) آپ کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ’’میں کہتا ہوں : اللہم باعدبینی وبین خطایای کما باعدت بین المشرق والمغرب اللہم نقنی من خطایای کما ینقی الثوب الابیض من الدنس ، اللم اغسلنی من خطایای بالثلج والماء والبرد’’ اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے جس طرح تونے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے ۔ اے اللہ ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے ۔ اے اللہ ! مجھے میرے گناہوں سے پاک کر دے برف کے ساتھ ، پانی کےساتھ اور اولوں کے ساتھ ۔ ‘ ‘
حدیث 1355 — صحيح مسلم #1355
ابن فضیل اور عبدالواحد بن یاد دونوں نے ، عمارہ بن قعقاع سے ، اسی سند کے ساتھ ، جریر کی حدیث کی طرح روایت کی
حدیث 1356 — صحيح مسلم 5:191
قَالَ مُسْلِمٌ وَحُدِّثْتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ، وَيُونُسَ الْمُؤَدِّبِ، و غَيْرِهِمَا قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ اسْتَفْتَحَ الْقِرَاءَةَ بِـ ‏{‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏}‏ وَلَمْ يَسْكُتْ ‏.‏
حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو ( الحمد اللہ رب العٰلمین ) سے قراءت کا آغاز کر دیتے ( کچھ دیر ) خاموشی اختیار نہ فرماتے ۔
حدیث 1357 — صحيح مسلم 5:192
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، وَثَابِتٌ، وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ فَدَخَلَ الصَّفَّ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ ‏.‏ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَتَهُ قَالَ ‏"‏ أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ ‏"‏ أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَىْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا ‏"‏ ‏.‏
حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ ایک آدمی آیا اور صف میں شریک ہوا جبکہ اس کی سانس چڑھی ہوئی تھی ، اس نے کہا : الحمد اللہ حمد کثیر طیبا مبارکا فیہ ’’ تمام حمد اللہ ہی کے لیے ہے ، حمد بہت زیادہ ‘ پاک اور برکت والی حمد ۔ ‘ ‘ جب رسو ل اللہ ﷺ نےنماز پوری کرلی تو آپ نے پوچھا ’’تم میں سے یہ کلمات کہنے والا کون تھا ؟ ‘ ‘ سب لوگوں نے ہونٹ بند رکھے ۔ آپ نے دوبارہ پوچھا ’’تم میں یہ کلمات کہنے والا کون تھا؟ اس نے کوئی ممنوع بات نہیں کہی ۔ ‘ ‘ تب ایک شخص نے کہا : میں اس حالت میں آیا کہ میری سانس پھولی ہوئی تھی تو میں نے اس عالم میں یہ کلمات کہے ۔ آپ نے فرمایا : میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا جو ( اس میں ) ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ کون اسے اوپر لے جاتا ہے ۔ ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔