حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا " . قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " عَجِبْتُ لَهَا فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ " . قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ذَلِكَ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھون نے کہا : ایک دفعہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اللہ اکبر کبیرا ، والحمد للہ کثیرا ، وسبحان اللہ بکرۃ واصیلا ’’اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا ، اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے بہت زیادہ اور تسبیح اللہ ہی کے لیے ہے ، صبح و شام ۔ ‘ ‘ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : ’’فلاں فلاں کلمہ کہنے والا کون ہے ؟ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اللہ کےرسول ! میں ہوں آپ نے فرمایا ’’مجھے ان پر بہت حیرت ہوئی ، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے ۔ ‘ ‘ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے جب سے آپ سے یہ بات سنی ، اس کےبعد سے ان کلمات کو کبھی ترک نہیں کیا ۔
حدیث 1359 — صحيح مسلم 5:194
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح قَالَ وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا " .
مختلف سندوں سے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ’’جب نمازکھڑی ہو جائے تو اس کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ ، ( بلکہ اس طرح ) چلتے ہوئے آؤ کہ تم پر سکون طاری ہو ۔ ( نماز کا ) جو حصہ پالو اسے پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے پورا کر لو ۔ ‘ ‘
(سعید بن مسیب اور ابو سلمہ کے بجائے ) عبدالرحمان بن یعقوب نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب نماز کی تکبیر کہہ دی جائے تو تم اس کےلیے بھاگتے ہوئے مت آؤ ، اس طرح آؤ کہ تم پر سکون ہو ، ( نماز کا ) جتنا حصہ پالو ، پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے پورا کر لو کیونکہ جب کوئی شخص نماز کا ارادہ کرکے آتا ہےتو وہ نماز ( ہی ) میں ہوتا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 1361 — صحيح مسلم 5:196
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا نُودِيَ بِالصَّلاَةِ فَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا " .
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسو ل اللہ ﷺ سے ( سن کر ) ہمیں سنائیں ، انھوں نے متعدد احادیث ذکر کیں ، ان مین سے یہ بھی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب نماز کے لیے بلاوا دیا جائے تو اس کے لیے چلتے ہوئے آؤ ، اور تم پر سکون ( طاری ) ہو ، جو ( نماز کا حصہ ) مل جائے ، وہ پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے مکمل کر لو ۔ ‘ ‘
محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو تم میں سے کوئی شخص اس کی طرف بھاگ کر نہ آئے بلکہ اس طرح چل کر آئے کہ اس پر سکون وقار طار ی ہو ، جتنی ( نماز ) پا لو ، پڑھ لو اور جو تمھارے ( پہنچنے ) سے پہلے گزر چکی اسے پورکر لو ۔ ‘ ‘
معاویہ بن سلام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی کہا : عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ ان کے والد نے انھیں بتایا ، کہا : ہم ( ایک بار ) جب رسو ل اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے ( جلدی چلنے ، دوڑ کر پہنچنے کی ) ملی جلی آواز یں سنیں ، آپ نے ( نماز کے بعد ) پوچھا : ’’تمھیں کیا ہوا ( تھا ؟ ) ‘ ‘ لوگوں نے جواب دیا ہم نے نماز کے لے جلید کی ۔ آپ نے فرمایا : ’’ایسے نہ کیا کرو ، جب تم نماز کے لیے آؤ تو سکون و اطمینان محلوظ رکھو ، ( نماز کاحصہ ) جو تمھیں مل جائے ، پڑھ لو ارو جو گز ر جائے اسے پورا کر لو ۔ ‘ ‘
محمد بن حاتم اور عبیداللہ بن سعید نےکہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نےحجاج صواف سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ اور عبداللہ بن ابی قتادہ سے حدیث سنائی ، انھوں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھون نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے نہ دیکھ لو ۔ ‘ ‘ اور ابن حاتم نے کہا : ’’جب اقامت کہی جائے یا ( جماعت کے لیے ) پکارا جائے
حدیث 1366 — صحيح مسلم #1366
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے معمر سے حدیث سنائی ، ابو بکر ( بن ابی شبیہ نے مزید ) کہا : ہمیں ابن علیہ نے حجاج بن ابی عثمان سے حدیث سنائی ، نیز اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں عیسیٰ بن یونس اور عبدالزراق نے معمر سے خبر دی ۔ اسحاق نے ( مزید ) کہا : ہمیں ولید بن مسلم نے شیبان سے خبر دی ، ان سب ( معمر ، حجاج بن ابی عثمان اور شبیان ) نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی ، انھوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ۔ اسحاق نے معمر اور شیبان سے جو حدیث روایت کی اس مین یہ اضافہ کیا ہے ۔ ’’ یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو کہ میں باہر نکل آیا ہوں ۔ ‘ ‘
یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے ابو سلمہ عبدالرحمن بن عوف نے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے ، ( رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ) اقامت کہی گئی ، ہم اپنی طرف رسول اللہ کے آنے سے پہلے ہی کھڑے ہو گئے اور اپنے مصلے پر کھڑے ہو گئے آپ نے اللہ اکبر نہیں کہا تھا کہ آپ کو ( کچھ ) یاد آگیا ، اس پر آپ واپس پلٹ گئے اور ہمیں فرمایا : ’’اپنی جگہ پر رہو ۔ ‘ ‘ ہم آپ کے انتظار میں کھڑے رہے یہاں تک کہ آب تشریف لے آئے ، آب غسل کیے ہوئے تھے اور آب کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا اور ہمیں نماز پڑھائی ۔