قرآني·Qurani
اردو

صفات القيامة والجنة والنار

85 احادیث · #7045–7129

حدیث 7045 — صحيح مسلم 52:1
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لاَ يَزِنُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ اقْرَءُوا ‏{‏ فَلاَ نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا‏}‏ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( قیامت کے دن ایک بہت بڑا ( اور ) موٹا آدمی آئے گا ، ( لیکن ) اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ( وزن میں ) مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا ( یہ آیت ) پڑھ لو : " پس ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے ۔
حدیث 7046 — صحيح مسلم 52:2
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ، - يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ جَاءَ حَبْرٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَوْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُمْسِكُ السَّمَوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى إِصْبَعٍ وَالأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ وَالْجِبَالَ وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى إِصْبَعٍ ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ فَيَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ ‏.‏ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَعَجُّبًا مِمَّا قَالَ الْحَبْرُ تَصْدِيقًا لَهُ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ‏}‏
افضیل بن عیاض نے منصور سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے عبیدہ سلمانی سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک یہودی عالم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یا کہا : ابو القاسم! بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا ، اور زمینوں کو ایک انگلی پر ، اور پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر اورپانی اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا ، پھر ان کو بلائے گا اور فرمائے گا : " بادشاہ میں ہوں ، بادشاہ میں ہوں ۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی عالم کی بات پر تعجب اور اس کے تصدیق کرتے ہوئےہنسے ، پھر آپ نے ( یہ آیت ) پڑھی : " انھوں نے اس طرح اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے ۔ ساری زمین اور سب کے سب آسمان قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے ۔ وہ ( ہراس چیز کی شراکت سے ) پاک اور بلند ہے جنھیں وہ ( اس کے ساتھ ) شریک کر تے ہیں ۔
حدیث 7047 — صحيح مسلم 52:3
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كِلاَهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلٍ وَلَمْ يَذْكُرْ ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ ‏.‏ وَقَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا لِمَا قَالَ تَصْدِيقًا لَهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ‏{‏ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ وَتَلاَ الآيَةَ ‏.‏
جریر نے منصور سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، کہا : یہود میں سے ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، فضیل کی حدیث کے مانند ، اور اس میں یہ بیان نہیں کیا : "" وہ ( اللہ ) ان ( انگلیوں ) کو ہلائے گا ۔ "" اور ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو د یکھا ، آپ اس بات پر تعجب سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے ( اس طرح ) ہنسے کہ آپ سے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہوگئے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" انھوں نے ( اس طرح ) اللہ کی قدر نہیں کی ( جس طرح ) اس کی قدر کرنے کا حق ہے ۔ "" ( اور ( پوری ) آیت تلاوت فرمائی ۔
حدیث 7048 — صحيح مسلم 52:4
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ، يَقُولُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ وَالأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ وَالشَّجَرَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ وَالْخَلاَئِقَ عَلَى إِصْبَعٍ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ ‏.‏ قَالَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ‏}‏
حفص بن غیاث نے کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ابراہیم کو کہتے ہوئے سنا : میں نے علقمہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اہل کتاب میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا : ابو القاسم! بے شک اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر ، زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا ، پھر فرمائے گا : " بادشاہ میں ہوں بادشاہ میں ہوں ۔ " ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ ( اس بات پر ) ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہوئے ، پھرآپ نے ( اس آیت کی ) تلاوت کی : " انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ( اس طرح قدر نہیں پہچانی جس طرح قدر پہچاننے کا حق ہے ۔)
حدیث 7049 — صحيح مسلم 52:5
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي، شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَالْخَلاَئِقَ عَلَى إِصْبَعٍ ‏.‏ وَلَكِنْ فِي حَدِيثِهِ وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ ‏.‏ وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ تَصْدِيقًا لَهُ تَعَجُّبًا لِمَا قَالَ ‏.‏
ابو معاویہ ، عیسی بن یونس اور جریر سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، مگران سب کی روایتوں میں ہے : " اور درختوں کو ایک انگلی پر اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر تھام لےگااور جریر کی حدیث میں یہ نہیں ہے " اور مخلوق کو ایک انگلی پر تھامے گا " لیکن اس کی حدیث میں یہ ہے : " اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر تھام لے گا " اور انھوں نے جریر کی حدیث میں مذید یہ کہا : " اس کی بات کی تصدیق اور اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے ( آپ ہنسے ۔)
حدیث 7050 — صحيح مسلم 52:6
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَقْبِضُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏
ابن مسیب نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا ، پھر فرمائے گا : " بادشاہ میں ہوں ، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟
حدیث 7051 — صحيح مسلم 52:7
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ سَالِمِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَطْوِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ثُمَّ يَطْوِي الأَرَضِينَ بِشِمَالِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ‏"‏ ‏.‏
سالم بن عبداللہ نے کہا : مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل قیامت کےدن آسمانوں کو لپیٹے گا ، پھران کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لے گا اور فرمائے گا : بادشاہ میں ہوں ۔ ( آج دوسروں پر ) جبر کرنے والے کہاں ہیں؟تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟پھر بائیں ہاتھ سے زمین کو لپیٹ لے گا ، پھر فرمائے گا : " بادشاہ میں ہوں ، ( آج ) جبر کرنےوالے کہاں ہیں؟تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ ‘ ‘
حدیث 7052 — صحيح مسلم 52:8
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، أَنَّهُ نَظَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ كَيْفَ يَحْكِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَأْخُذُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ فَيَقُولُ أَنَا اللَّهُ - وَيَقْبِضُ أَصَابِعَهُ وَيَبْسُطُهَا - أَنَا الْمَلِكُ ‏"‏ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَىْءٍ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لأَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
یعقوب بن عبدالرحمان نے کہا : مجھے ابو حازم نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضر ت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف دیکھا کہ وہ ( حدیث بیان کرتے ہوئے عملاً ) کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح کرکے دکھاتے ہیں ۔ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : " اللہ عزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لے گا پھر فرمائے گا " میں اللہ ، میں بادشاہ ہوں ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ا پنی انگلیوں کو بند کرتے تھے اور کھولتے تھے ۔ حتیٰ کہ میں نے منبر کو دیکھا ، وہ اپنے نچلے حصے سے ( لے کر او پرکے حصے تک ) ہل رہاتھا ۔ یہاں تک کہ میں نے کہا : کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گرجائے گا؟
حدیث 7053 — صحيح مسلم 52:9
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ يَأْخُذُ الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ ‏.‏
عبدالعزیز بن ابی حازم نے کہا : مجھے میرے والد نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : " ( اللہ ) جبارعزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لے گا ۔ " پھر یعقوب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حدیث 7054 — صحيح مسلم 52:10
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِي فَقَالَ ‏ "‏ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الأَحَدِ وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلاَثَاءِ وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ وَفِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْبِسْطَامِيُّ، - وَهُوَ الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى - وَسَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ وَإِبْرَاهِيمُ ابْنُ بِنْتِ حَفْصٍ وَغَيْرُهُمْ عَنْ حَجَّاجٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏
سریج بن یونس اور ہارون بن عبداللہ نے مجھے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں حجاج بن محمد نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے اسماعیل بن امیہ نے ایوب بن خالد سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ، پھر فرمایا : "" اللہ عزوجل نے مٹی ( زمین ) کو ہفتے کےدن پیداکیا اور اس میں پہاڑوں کو اتوار کے دن پیدا کیا اور درختوں کو پیر کے دن پیدا کیا اور ناپسندیدہ چیزوں کو منگل کےدن پیدا کیا اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور اس میں چوپایوں کو جمعرات کے دن پھیلادیا اور سب مخلوقات کے آخر میں آخر میں آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد سے لے کر رات تک کے درمیان جمعہ ( کے دن کی آخری ساعتوں میں سے کسی ساعت میں پیدا فرمایا ۔ "" جلودی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے شاگرد ابراہیم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حسین بن علی بسطامی ، سہل بن عمار ، حفص کے نواسے ابراہیم اور دوسروں نے حجاج سے یہی حدیث بیان کی ۔)
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔