حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن لوگوں کو غبار کی رنگت ملی ، سفید زمین پر اکٹھا کیا جا ئے گا ، جیسے چھنے ہوئے آٹے کی روٹی ہو تی ہے اور اس کسی شخص کے لیے کو ئی علامت موجود نہیں ہو گی ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انھوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزوجل کے اس قول کے متعلق سوال کیا : " جس دن زمین دوسری زمین سے بدل دی جا ئے گی اور آسمان ( بھی بدل دیا جائےگا ) تو اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( پل صراط پر ۔)
عطاءبن یسار نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن یہ زمین ایک ہی روئی بن جائے گی ۔ جبار ( اللہ تعالیٰ ) اہل جنت کی مہمانی کے لیے اسے اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کرروئی کی طرح بنا دے گا جس طرح تم میں سے کو ئی شخص سفر میں روئی کو الٹ پلٹ کرتا ہے ۔ ( حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اتنے میں یہودیوں میں سے ایک شخص آگیا اس نے کہا : ابو القاسم الرحمٰن آپ پر برکت نازل فرمائے !کیا میں آپ کو قیامت کے روز اہل جنت کی ضیافت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟آپ نے ارشاد فرمایا : " کیوں نہیں ! ( بتاؤ ) اس نے کہا : زمین ایک ( بڑی سی ) روئی بن جا ئے گی ۔ جس طرح ( اس کی آمد سے قبل خود ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ ( ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا پھر آپ ہنسے حتی کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نظر آنے لگے ۔ اس نے ( پھر ) کہا : کیامیں آپ کو ان کے سالن کے بارے میں نہ بتاؤں ؟آپ نے فرمایا : " کیوں نہیں ( بتاؤ ) " اس نے کہا " ان کا سالن بالام اور نون ہو گا یہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پوچھا وہ کیا ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیل اور مچھلی یہ اس کے جگر کے چھوٹے سے اضافی حصے کو ( جوا صل جگر کے ساتھ ایک طرف موجود ہو تا ہے ) ستر ہزار لوگ کھائیں ۔
حدیث 7058 — صحيح مسلم 52:14
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ تَابَعَنِي عَشْرَةٌ مِنَ الْيَهُودِ لَمْ يَبْقَ عَلَى ظَهْرِهَا يَهُودِيٌّ إِلاَّ أَسْلَمَ " .
محمد بن سیرین نے ہمیں حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر دس ( بڑے ) یہودی ( عالم ) میری پیروی کر لیتے تو روئے زمین پر کوئی یہودی باقی نہ رہتا مگر مسلمان ہو جا تا ۔
حفص بن غیاث نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابراہیم نے علقمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک کھیت میں چلا جارہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ایک شاخ کا سہارا لے ( کر چل ) رہے تھے کہ آپ کا یہود کے چند لوگوں کے قریب سے گزر ہوا ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : ان سے روح کے بارے میں سوال کرو پھر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے : ان کے بارے میں تمھیں شک کس بات کا ہے؟ایسا نہ ہو کہ وہ آگے سے ایسی بات کہہ دیں جو تمھیں بری لگے پھر ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوکر آپ کے پاس آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے بارے میں سوال کیا ۔ ( حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( تھوڑی دیر کے لیے ) خاموش ہو گئے اور ان کو کو ئی جواب نہ دیا ۔ مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ پروحی نازل ہو رہی ہے ۔ کہا میں بھی اپنی جگہ پر ( رک کر ) کھڑا ہو گیا ۔ جب وحی نازل ہو چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ پڑھتے ہوئے ) فرمایا : " یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔ کہہ دیجیے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تم ( انسانوں ) کو بہت کم علم دیا گیا ہے ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو اشج نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں اسحٰق بن ابراہیم حنظلی اور علی بن خشرم نے بھی حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ۔ ان دونوں ( وکیع اور عیسیٰ ) نےاعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک ( اجزائے ہوئے ) کھیت میں جارہاتھا ۔ حفص کی حدیث کے مانند مکروکیع کی حدیث میں ہے : "" وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا "" "" اور تم لوگوں کو علم کا تھوڑا حصہ ہی دیا گیا ہے ۔ "" ( جس طرح قرآن کی مشہور متواتر قرآءت ہے ۔ اور عیسیٰ بن یو نس کی اس روایت میں جوان سے ( علی ) بن خشرم نے بیان کی ہے وما اوتوا "" انھیں نہیں دیا گیا "" کے الفاظ ہیں ۔
ابو سعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے عبد اللہ بن ادریس سے سنا وہ کہہ رہے تھے ، میں نے اعمش سے سنا وہ اس روایت کو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مرہ سے اور وہ مسروق سے اور وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر رہے تھے ، انھوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے درختوں میں ( کھجور کی ) ایک شاخ کا سہارا لیے ہوئے ( چلے جارہے ) تھے پھر اعمش سے ان سب کی حدیث کے مطابق بیان کیا اور انھوں نے ( بھی ) اپنی روایت میں مشہور اور متواتر قرآءت کے مطابق "" وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا "" بیان کیا ۔ ان روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حرث ( کھیت ) اور نخل ( کھجورکے درختوں ) کے درمیان جارہے تھے ۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں حرث ہے ۔ ( حدیث 4721 ۔ ) جبکہ دوسری روایت میں "" خرب "" ( اجازجگہ ) ہے ۔ ( حدیث : 125 ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کھیت جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جارہے تھے ۔ مدینہ کے عام کھیتوں کی طرح کھجور کے باغ میں تھا اور اب اس میں کچھ کاشت نہیں ہو رہاتھا اجڑاہوا اور ناہموار ہونے کی وجہ سے آپ اس کے اندرکھجور کی شاخ کا سہارا لے کر چل رہے تھے ۔ جامع ترمذی میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ روح کے متعلق یہودیوں سے پوچھ کر قریش مکہ نے بھی سوال کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی یہی جواب دیا تھا ( جمع المومنین حدیث 3140 ) مدینہ میں جب یہود نے خود سوال کیا تو چونکہ وہ اہل کتاب تھے اس لیے یہ امکان تھا کہ ان کی کتاب میں یہی بات کسی اور رنگ میں کہی گئی ہو اور وہ انداز کے اس اختلاف کو اپنے لیےدلیل بنانے کی کو شش کریں اس لیے جواب دینے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توقف کیا اور اللہ تعالیٰ نے دوبارہ وہی جواب وحی فرمادیا جو تورات کےعین مطابق تھا اور یہود کو اپنے لیے آپ کی رسالت سے انکار کا کو ئی عذر نہ مل سکا ۔
وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو ضحیٰ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت خباب ( بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا ۔ میں اس سے قرض کا تقاضا کرنے کے لیے اس کے پاس گیا تو اس نے مجھ سے کہا : میں اس وقت تک تمھیں ادائیگی نہیں کروں گا ۔ یہاں تک کہ تم نعوذ باللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کفر کرو ۔ کہا : میں نے اس سے کہا : تم مر کردوبارہ زندہ ہو جاؤ گے ۔ پھر بھی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر نہیں کروں گا ۔ اس نے کہا : اور میں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا؟تو ( اس وقت ) جب میں دوبارہ مال اور اولاد کے پاس پہنچ جاؤں گاتو تمھیں ادائیگی کردوں گا ۔ وکیع نے کہا : اعمش نے اسی طرح کہا : انھوں نے کہا : اس پریہ آیت نازل ہوئی : "" کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات سے کفر کیا اور کہا : مجھے ( اپنا ) مال اور ( اپنی ) اولاد ضروری دی جائے گی "" سے لے کر اس ( اللہ ) کے فرمان "" اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا "" تک ۔
ابو معاویہ عبد اللہ بن نمیر جریر اور سفیان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ وکیع کی حدیث کی طرح بیان کیا اور جریر کی حدیث میں ہے ۔ ( حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں زمانہ جاہلیت میں لوہار تھا تو میں نے عاص بن وائل کے لیے کام کیا پھر میں اس سے ( اجرت کا ) تقاضا کرنے کے لیے آیا ۔
شعبہ نے عبد الحمید زیادی سے روایت کی انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا : وہ کہہ رہے تھے کہ ابو جہل نے کہا : اے اللہ !اگر ( یہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں ) یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ ۔ تو اس پر ( آیت ) نازل ہوئی : " اللہ تعالیٰ اس وقت ان پر ( اس طرح کا ) عذاب بھیجنے والا نہ تھا جبکہ آپ بھی ان میں موجود تھے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والا نہ تھا جب وہ ( علیحدگی میں ) استغفار کیے جارہے تھے ۔ اور انھیں کیا ہے کہ اللہ انھیں عذاب نہ دےجبکہ وہ ( ایمان لانے والوں کو ) مسجد حرام سے روکتے ہیں ۔ " آیت کے آخرتک ۔