قرآني·Qurani
اردو

صلاة المسافرين

381 احادیث · #1570–1950

حدیث 1790 — صحيح مسلم 6:218
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَى شَجْبٍ مِنْ مَاءٍ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ وَلَمْ يُهْرِقْ مِنَ الْمَاءِ إِلاَّ قَلِيلاً ثُمَّ حَرَّكَنِي فَقُمْتُ ‏.‏ وَسَائِرُ الْحَدِيثِ نَحْوُ حَدِيثِ مَالِكٍ ‏.‏
عیاض بن عبداللہ فہری نے مخرمہ بن سلیمان سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی اور یہ اضافہ کیا : پھر آپ نے پانی کے ایک پرانے مشکیزے کا رخ کیا ، پھر مسواک کی اور وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا ، لیکن پانی بہت ہی کم بہایا ، پھر مجھے ہلایا اور میں کھڑا ہوگیا ۔ ۔ ۔ باقی ساری حدیث مالک کی حدیث کی طرح ہے ۔
حدیث 1791 — صحيح مسلم 6:219
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ نِمْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى نَفَخَ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏ قَالَ عَمْرٌو فَحَدَّثْتُ بِهِ بُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِّ فَقَالَ حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ بِذَلِكَ ‏.‏
عمرو نے عبدربہ بن سعید سے ، انھوں نے مخرمہ بن سلیمان سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مولیٰ کریب سے اور انھوں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں سویا اور اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں کے پاس تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے ، میں آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کرلیا ۔ اس رات آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ آپ ( کے سانسوں ) کی آواز آنے لگی ، جب آپ سوتے تو سانس لینے کی آوازآتی تھی ۔ پھر آپ کے پاس موذن آیا تو آپ باہر تشریف لے گئے اور نماز ادا کی ، آپ نے ( ازسرنو ) وضو نہیں کیا ۔ عمرو نے کہا میں نے یہ حدیث بکیر بن اشج کو سنائی تو انھوں نے کہا : کریب نے مجھے یہی حدیث سنائی تھی ۔
حدیث 1792 — صحيح مسلم 6:220
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَقُلْتُ لَهَا إِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَيْقِظِينِي ‏.‏ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ الأَيْسَرِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي مِنْ شِقِّهِ الأَيْمَنِ فَجَعَلْتُ إِذَا أَغْفَيْتُ يَأْخُذُ بِشَحْمَةِ أُذُنِي - قَالَ - فَصَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ احْتَبَى حَتَّى إِنِّي لأَسْمَعُ نَفَسَهُ رَاقِدًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ‏.‏
ضحاک نے مخرمہ بن سلیمان سے ، انھوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے ایک رات اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں بسر کی ، میں نے ان سے عرض کی ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھیں تو آ پ مجھے بھی بیدار کردیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا ۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف میں کردیا ، جب مجھے جھپکی آنے لگتی تو آپ میرے کان کی لو پکڑ لیتے ، آپ نے گیارہ رکعتیں پڑھیں ، پھر آپ نے کمر اور پنڈلیوں کے گرد کپڑا لپیٹ کر اسے سہارا بنا لیا ( اور سوگئے ) یہاں تک کہ میں آپ کے سونے کی حالت میں آپ کے سانس لینے کی آوازسن رہاتھا ۔ تو جب آپ کے سامنے صبح ظاہر ہوئی تو آپ نے ہلکی دو رکعتیں پڑھیں ۔
حدیث 1793 — صحيح مسلم 6:221
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا - قَالَ وَصَفَ وُضُوءَهُ وَجَعَلَ يُخَفِّفُهُ وَيُقَلِّلُهُ - قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ بِلاَلٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ فَخَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَهَذَا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً لأَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ ‏.‏
سفیان بن عمرو بن دینار سے ، انھوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں رات بسر کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم را ت کے وقت اٹھے ، پھر آپ نے لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا وضوکیا ( کریب نے ) کہا : انھوں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے آپ کے وضو کی کیفیت بیان کی اور وضو کو ہلکا اور کم کرتے رہے ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں اٹھا اور وہی کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ۔ پھر آکر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا ، آپ نے مجھے اپنے پیچھے کیا ( اور گھما کر ) اپنی دائیں جانب کرلیا ۔ پھر آپ نے نماز پڑھی ۔ پھر لیٹ کر سوگئے حتیٰ کہ آوا ز سے سانس لینے لگے ۔ پھر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی ، آپ باہر تشریف لے گئے اور صبح کی نماز ادا فرمائی اور ( نیا ) وضو نہ کیا ۔ سفیان نے کہا : یہ ( نیند کے باوجود وضو کی ضرورت نہ ہونا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا کیونکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کی آنکھیں سوتی تھیں دل نہیں سوتاتھا ۔
حدیث 1794 — صحيح مسلم 6:222
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَبَقَيْتُ كَيْفَ يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَقَامَ فَبَالَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ أَوِ الْقَصْعَةِ فَأَكَبَّهُ بِيَدِهِ عَلَيْهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ - قَالَ - فَأَخَذَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَتَكَامَلَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ وَكُنَّا نَعْرِفُهُ إِذَا نَامَ بِنَفْخِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ فَصَلَّى فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلاَتِهِ أَوْ فِي سُجُودِهِ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا أَوْ قَالَ وَاجْعَلْنِي نُورًا ‏"‏ ‏.‏
محمد بن جعفر ( غندر ) نے کہا : ہم سے شعبہ نے سلمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کریب سے اور ا نھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے اپنی خالہ میمونہ کے ہاں رات گزاری ، میں نے ( وہاں رہ کر ) مشاہدہ کیا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے ہیں ۔ کہا : آپ اٹھے ، پیشاب کیا ، پھر اپنا چہرہ اور ہتھیلیاں دھوئیں ۔ پھر سوگئے ۔ آپ ( کچھ دیر بعد ) پھر اٹھے ، مشکیزے کے پاس گئے اور اس کابندھن کھولا ، پھر لگن یا پیالے میں پانی انڈیلا اور اس کو اپنے ہاتھ سے جھکایا ، پھر دو وضووں کے درمیا کاخوبصورت وضو کیا ( وضو نہ بہت ہلکا کیا اور نہ اس میں مبالغہ کیا لیکن اچھی طرح کیا ) ، پھر اٹھ کر نماز پڑھنے لگے ، میں آپ کے پہلو میں کھٹرا ہوگیا ، آپ کی بائیں جانب کھٹرا ہوا ۔ کہا : تو آپ نے مجھے پکڑ کراپنی دائیں جانب کردیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ رکعت نماز مکمل ہوئی ، پھر آپ سوگئے حتیٰ کہ سانسوں کی آواز آنے لگی اور جب آپ سوجاتے تو ہم آپ کے سونے کوآپ کے سانس کی آواز سے پہچانتے ، پھر آپ نماز کے لئے باہر تشریف لائے اور نماز ادا کی ۔ اور آپ اپنی نماز یا اپنے سجدے میں یہ دعا مانگنے لگے : " اے اللہ!میرے دل میں نور پیدا کر اور میرے کانوں میں نور پیدا کر اور میری آنکھوں میں نور پیدا کر اور میرے دائیں نور بنا اور میرے بائیں نور پیدا فرما اور میرے آگے اور میرے پیچھے نو ر کر اور میرے اوپر نور کر اور میرے لئے نور بنا ۔ ۔ ۔ یا فرمایا : " مجھے نور بنا ۔ ۔ ۔
حدیث 1795 — صحيح مسلم 6:223
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏.‏ قَالَ سَلَمَةُ فَلَقِيتُ كُرَيْبًا فَقَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُنْتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ ‏.‏ وَقَالَ ‏ "‏ وَاجْعَلْنِي نُورًا ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَشُكَّ ‏.‏
نضر بن شمیل نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، کہا : ہمیں سلمہ بن کبیل نے بکیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے کریب سے اور انھوں نے حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ سلمہ نے کہا : میں کریب کو ملا تو انھوں نے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں اپنی خالہ میمونہ کے ہاں تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔ ۔ ۔ پھر انھوں نے غندر ( محمد بن جعفر ) کی حدیث ( 1794 ) کی طرح بیان کیا اور کہا : "" اور مجھے سراپا نور کردے "" اور انھوں نے ( کسی بات میں ) شک کا اظہار نہ کیا ۔
حدیث 1796 — صحيح مسلم 6:224
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي رِشْدِينٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ‏.‏ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرْ غَسْلَ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ أَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَنَامَ ثُمَّ قَامَ قَوْمَةً أُخْرَى فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا هُوَ الْوُضُوءُ وَقَالَ ‏"‏ أَعْظِمْ لِي نُورًا ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ ‏"‏ وَاجْعَلْنِي نُورًا ‏"‏ ‏.‏
۔ سعید بن مسروق نے سلمہ بن کہیل سے ، انھوں نے ابو رشدین ( کریب ) مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور ا نھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں رات گزاری ، پھر حدیث بیان کی لیکن اس میں چہرے اور ہتھیلیاں دھونے کاذکر نہیں ہے ، ہاں ، یہ کہا : پھر آپ مشک کے پاس آئے ، اس کا بندھن کھولا ، اور دو وضووں کے درمیان کا وضوکیا پھر بستر پر آئے اور سو گئے پھر آپ دوبارہ اٹھے اورمشک کے پاس آئے ، اس کابندھن کھولا ، پھر دوبارہ وضو کیاجو ( صحیح معنی میں ) وضوتھا اور کہا : " میرا نور عظیم کردے " اور یہ ہدایت نہیں کیا کہ مجھے سراپا نور کردے ۔
حدیث 1797 — صحيح مسلم 6:225
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلْمَانَ الْحَجْرِيِّ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ كُرَيْبًا حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْقِرْبَةِ فَسَكَبَ مِنْهَا فَتَوَضَّأَ وَلَمْ يُكْثِرْ مِنَ الْمَاءِ وَلَمْ يُقَصِّرْ فِي الْوُضُوءِ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَتَئِذٍ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً ‏.‏ قَالَ سَلَمَةُ حَدَّثَنِيهَا كُرَيْبٌ فَحَفِظْتُ مِنْهَا ثِنْتَىْ عَشْرَةَ وَنَسِيتُ مَا بَقِيَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَمِنْ بَيْنِ يَدَىَّ نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا ‏"‏ ‏.‏
عقیل بن خالد سے روایت ہے کہ سلمہ بن کہیل نے ان ( عقیل ) سے حدیث بیان کی کہ کریب نے ان ( سلمہ ) سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک رات رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزاری ، انھوں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر مشکیزے کے پاس گئے اور اس میں سے پانی انڈیلا اور وضو کیا اور آپ نے نہ پانی زیادہ استعمال کیا نہ وضو میں کوئی کمی کی ۔ ۔ ۔ اور پوری حدیث بیا ن کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے اس رات انیس کلمات پر مشتمل دعا کی ۔ ( تمام الفاظ جمع کریں تو انیس بنتے ہیں ) سلمہ نے کہا : کریب نے وہ کلمات مجھے بتائے تھے اور میں ان میں سے بارہ کلمات کو یاد رکھ سکا اور باقی بھول گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اے اللہ ! میرے دل میں نور پیدا فرمااور میری زبان میں نور پیدا فرما اور میرے کان میں نور پیدا فرما اور میری آنکھ میں نور پیدا فرما اور میرے اوپر نور کردے اور میرے نیچے نور کردے اور میرے دائیں نور کردے اور میرے بائیں نور کردے او ر میرے آگے نور کردے اور میرے پیچھے نور کردے اور میرے اندر نور کردے اور میرے نور کو عظیم کردے ۔
حدیث 1798 — صحيح مسلم 6:226
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ رَقَدْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لَيْلَةَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهَا لأَنْظُرَ كَيْفَ صَلاَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ - قَالَ - فَتَحَدَّثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً ثُمَّ رَقَدَ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ ‏.‏
شریک بن ابی نمر نے کریب سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں ایک رات حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر سویا ، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تھے تاکہ میں دیکھوں کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت کیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ وقت ا پنے گھر والوں کے ساتھ گفتگو فرمائی ، پھر آپ سوگئے ۔ ۔ ۔ آگے پوری حدیث بیان کی اور میں یہ بھی تھا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، وضو کیا اور مسواک کیا ۔
حدیث 1799 — صحيح مسلم 6:227
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ ‏{‏ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ‏}‏ فَقَرَأَ هَؤُلاَءِ الآيَاتِ حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ سِتَّ رَكَعَاتٍ كُلَّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلاَءِ الآيَاتِ ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلاَثٍ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ وَهُوَ يَقُولُ ‏"‏ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا ‏.‏ اللَّهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا ‏"‏
حبیب بن ابی ثابت نے محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ وہ ( ایک رات ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سوئے تو ( رات کو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے ، مسواک کی اور وضو فرمایا اور آپ ( اس وقت ) یہ آیا مبارکہ پڑھ رہے تھے : " یقیناً آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور دن رات کی آمد ورفت میں خالص عقل رکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔ " یہ آیات تلاوت فرمائیں حتیٰ کہ سورت ختم کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو ر کعتیں پڑھیں ، ان میں بہت طویل قیام ، رکوع اور سجدے کیے ، پھر واپس پلٹے اور سوگئے یہاں تک کہ آپ کے سانس آواز سنائی دینے لگی ، پھر آپ نے سا طرح تین دفعہ کیا ، چھ رکعتیں پڑھیں ، ہر دفعہ آپ مسواک کرتے ، وضوفرماتےاور ان آیات کو تلاوت فرماتے ، پھر آپ نے تین وتر پڑھے ، پھر موذن نے اذان دی تو آپ نماز کے لئے باہر تشریف لے گئے اور آپ یہ دعا کررہے تھے : " اے اللہ ! میرے دل میں نور کردے اور میری زبان میں نور کردے اور میری سماعت میں نور کردے اور میری آنکھ میں نور کردے اور میرے پیچھے نور کردے اور میرے آگے نور کردے اور میرے اوپر نور کردے اور میرے نیچے نورکردے ، اے اللہ! مجھے نور عنائیت فرما ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔