قرآني·Qurani
اردو

صلاة المسافرين

381 احادیث · #1570–1950

حدیث 1800 — صحيح مسلم 6:228
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ ذَاتَ لَيْلَةٍ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مُتَطَوِّعًا مِنَ اللَّيْلِ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْقِرْبَةِ فَتَوَضَّأَ فَقَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ لَمَّا رَأَيْتُهُ صَنَعَ ذَلِكَ فَتَوَضَّأْتُ مِنَ الْقِرْبَةِ ثُمَّ قُمْتُ إِلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ فَأَخَذَ بِيَدِي مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ يَعْدِلُنِي كَذَلِكَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ إِلَى الشِّقِّ الأَيْمَنِ ‏.‏ قُلْتُ أَفِي التَّطَوُّعِ كَانَ ذَلِكَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
ابن جریج نے کہا ، مجھے عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے ایک رات اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بسر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نفل نماز پڑھنے کے لئے جاگے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کرمشک کی طرف گئے اور وضو فرمایا ، پھر کھڑے ہوکر نماز پڑھی ، جب میں یہ آپ کو یہ کرتے دیکھا تو میں بھی اٹھا اور میں نے بھی مشک سے وضوکیا ، ( جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے رہے ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جاگنے کے بعد غور سے انھیں دیکھتے رہے تاکہ آپ کی اتباع کرسکیں ) پھر میں آپ کے بائیں پہلو میں کھڑا ہوگیا تو آپ نے اپنی پشت کے پیچھے سے میراہاتھ پکڑا ، ااسی طرح پیچھے سے مجھے دائیں جانب ٹھیک کرکے کھڑا کیا ۔ ( عطا ء نے کہا : ) میں نے پوچھا : کیا یہ نفل نماز میں ہوا تھا؟انھوں نے کہا : ہاں ۔
حدیث 1801 — صحيح مسلم 6:229
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَعَثَنِي الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَبِتُّ مَعَهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَقَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَتَنَاوَلَنِي مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ فَجَعَلَنِي عَلَى يَمِينِهِ ‏.‏
قیس بن سعد ، عطاء سے حدیث بیان کرتے ہیں ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں تھے تو وہ رات میں نے آپ کے ساتھ گزاری ، آپ رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگےاور میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ نے مجھے اپنی پشت کے پیچھے سے پکڑا اور اپنی دائیں جانب کرلیا ( اس حدیث میں مذید یہ تفصیل سامنے آئی کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے والد نے بھیجاتھا)
حدیث 1802 — صحيح مسلم 6:230
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ‏.‏
عبدالملک نے عطاء سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں رات گزاری ۔ ۔ ۔ آگے ابن جریج اور قیس بن سعد کی روایت کی طرح ہے ۔
حدیث 1803 — صحيح مسلم 6:231
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ ابن مثنیٰ ، اور ابن بشار نے غندر ، شعبہ اور ابوجمرہ کی سند سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کوتیرہ رکعتیں پڑھاکرتے تھے ( یہی رات کی رکعتوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد ہے جس میں دو خفیف رکعتیں شامل ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول گیارہ کاتھا جس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ۔)
حدیث 1804 — صحيح مسلم 6:232
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لأَرْمُقَنَّ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللَّيْلَةَ فَصَلَّى ‏.‏ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ أَوْتَرَ فَذَلِكَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ‏.‏
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ کہ انھوں نے ( دل میں ) کہا : میں آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ( گہری نظر سے ) مشاہدہ کروں گا ، تو ( میں نے دیکھا کہ ) آپ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں ، پھر دو انتہائی لمبی رکعتیں بہت ہی زیادہ لمبی رکعتیں اداکیں ، پھر دو رکعتیں پڑھیں ۔ جو ( ان طویل ترین ) رکعتوں سے ہلکی تھیں ، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو اپنے سے پہلے کی دو رکعتوں سے ہلکی تھیں ، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو ا پنے سے پہلے کی دو رکعتوں سے کم تر تھیں ، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو اپنے سے پہلی والی رکعتوں سے کم تھیں ، پھر وتر پڑھا تو یہ تیرہ رکعتیں ہوئیں ۔
حدیث 1805 — صحيح مسلم 6:233
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَشْرَعَةٍ فَقَالَ ‏ "‏ أَلاَ تُشْرِعُ يَا جَابِرُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بَلَى - قَالَ - فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَشْرَعْتُ - قَالَ - ثُمَّ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ وَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا - قَالَ - فَجَاءَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ‏.‏
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، ہم پانی کے ایک گھاٹ پر پہنچے تو آپ نے فرمایا : " جابر!کیا تم سواری کو پلانے کے لئے گھاٹ پر نہیں اتروں گے؟ " میں نے کہا : کیوں نہیں!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بھی ) گھاٹ پر اترے اور میں بھی اترا ، پھر آپ ضرورت کے لئے تشریف لے گئے اور میں نے آپ کے لئے وضو کا پانی رکھ دیا ، آپ واپس آئے اور وضو فرمایا ، پھر آپ کھڑ ے ہوئے اور ایک کپڑے میں نماز پڑھی جس کے دونوں کنارے آپ نے مخالف سمتوں میں ڈال رکھے تھے ( دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر ڈالا ) میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوگیا تو آپ نے میرے کان سے پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف کرلیا ۔
حدیث 1806 — صحيح مسلم 6:234
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، - أَخْبَرَنَا أَبُو حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لِيُصَلِّيَ افْتَتَحَ صَلاَتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ‏.‏
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز پڑھنے کےلئے اٹھتے ، اپنی نماز کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے فرماتے ۔
حدیث 1807 — صحيح مسلم 6:235
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَفْتَتِحْ صَلاَتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی رات کو ( نماز کے لئے ) اٹھے تو وہ اپنی نماز کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرے ۔
حدیث 1808 — صحيح مسلم 6:236
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ ‏ "‏ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ ‏"‏ ‏.‏
امام مالک ؒ نے ابو زہیر سے ، انھوں نے طاؤس سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کی آ خری تہائی میں نماز کے لئے اٹھتے تو فرماتے : " اے اللہ ! تمام تعریف تیرے ہی لئے ہے ، تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور تیرے ہی لئے حمد ہے تو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے اور تیرے ہی لئے حمد ہےتو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان میں ہے تو پالنے والا ہے ۔ اور توبرحق ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تیرا قول اٹل ہے اور تیرے ساتھ ملاقات قطعی ہے اور جنت حق ہے اور جہنم حق ہے اور قیامت حق ہے ۔ اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کردیا اور میں تجھ پر ایمان لایا اور میں نے تجھ پر توکل اور بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع کیا اور تیر ی توفیق سے ( تیرے منکروں سے ) جھگڑا کیا اور تیرے ہی حضور فیصلہ لایا ( تجھے ہی حاکم تسلیم کیا ) تو بخش دے وہ گناہ جو میں نے پہلے کیے اور جو بعد میں کئے اور جو چھپ کرکئے اور جو ظاہرا کیے تو ہی میرا معبود ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔
حدیث 1809 — صحيح مسلم 6:237
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، كِلاَهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ فَاتَّفَقَ لَفْظُهُ مَعَ حَدِيثِ مَالِكٍ لَمْ يَخْتَلِفَا إِلاَّ فِي حَرْفَيْنِ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ مَكَانَ قَيَّامُ قَيِّمُ وَقَالَ وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ فَفِيهِ بَعْضُ زِيَادَةٍ وَيُخَالِفُ مَالِكًا وَابْنَ جُرَيْجٍ فِي أَحْرُفٍ ‏.‏
سفیان اور ابن جریج دونوں نے سلیمان ا حول سے ، انھوں نے طاؤس سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ابن جریج اور امام مالک ؒ کی ( گزشتہ ) حدیث کے الفاظ ایک جیسے ہیں ، دو جملوں کے سوا کوئی اختلاف نہیں ، ابن جریج نے قيام کے بجائے قيم کہا ( معنی ایک ہیں ) اور واسررت کی جگہ وما اسررت کہا ۔ ( سفیان ) ابن عینیہ کی حدیث میں کچھ اضافہ ہے ، وہ متعدد جملوں میں امام مالکؒ اور ابن جریج سے اختلاف کرتے ہیں ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔