۔ ( محمد بن جعفر ) غندر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھا رکھا تھا اور فرمارہے تھے : " اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں ، تو بھی اس سے محبت فرما ۔
حدیث 6260 — صحيح مسلم 44:90
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ الْيَمَامِيُّ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا إِيَاسٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَقَدْ قُدْتُ بِنَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ بَغْلَتَهُ الشَّهْبَاءَ حَتَّى أَدْخَلْتُهُمْ حُجْرَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَذَا قُدَّامَهُ وَهَذَا خَلْفَهُ .
ہمیں ایاس نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، کہا : میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت حسن اور حسین رضوان للہ عنھم اجمعین کو آپ کے سفید خچر پر بٹھا کر اس کی باگ پکڑ کر چلا ، یہاں تک کہ انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں لے گیا ۔ یہ ( ایک بچہ ) آپ کے آگے بیٹھ گیا اور وہ ( دوسرا بچہ ) آپ کے پیچھے بیٹھ گیا ۔
۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے جس پر کجاووں کی صورتیں یا ہانڈیوں کی صورتیں بنی ہوئی تھیں ۔ اتنے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس چادر کے اندر کر لیا ۔ پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی اس میں داخل کر لیا ۔ پھر سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا آئیں تو ان کو بھی انہی کے ساتھ شامل کر لیا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی شامل کر کے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کو دور کرے اور تم کو پاک کرے اے گھر والو ۔ ( الاحزاب : 33 ) ۔
قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے موسیٰ بن عقبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سالم بن عبداللہ ( بن عمر ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ وہ کہا کرتے تھے : ہم زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اورکسی نام سے نہیں پکارتے تھے ، یہاں تک کہ قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی؛ "" ان ( متنبیٰ ) کو ان کے اپنے باپوں کی نسبت سے پکارو ، اللہ کے نزدیک یہی زیادہ انصاف کی بات ہے ۔ "" ( اس کتاب کے ایک راوی ) شیخ ابو احمد محمد بن عیسیٰ ( نیشار پوری ) نے کہا : ہمیں ابو عباس سراج اور محمد بن عبداللہ بن یوسف دویری نے بیان کیا ، کہا : ہمیں بھی ( امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے استاد ) قتیبہ بن سعید نے یہ حدیث بیان کی ( یعنی اس کتاب کے راوی نے یہ حدیث امام مسلم کے علاوہ قتیبہ سے ان کے دو اور شاگردوں کے حوالے سے بھی سنی ۔)
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اُسامہ بن زید کو اس کا امیر مقرر فرمایا ۔ کچھ لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( خطبہ دینے کے لئے ) کھڑے ہوئے اور فرمایا : " تم نےاگر اس ( اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی امارت پر اعتراض کیا ہےتواس سے پہلے اس کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کرتے تھے ۔ اللہ کی قسم! وہ بھی امارت کا اہل تھا اور بلاشبہ میرے محبوب ترین لوگوں میں سے تھا اور ا س کے بعد بلاشبہ یہ ( بھی ) میرے محبوب ترین لوگوں میں سے ہے ۔
سالم نے اپنے والد ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ( اس وقت ) آپ منبر پر تھے : " اگر تم اسکی امارت پر اعتراض کررہے ہو آپ کی مراد حضرت اُسامہ بن زید سے تھی ۔ تو اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر ( بھی ) اعتراض کرچکے ہو ۔ اللہ کی قسم!اس کے بعد یہ بھی مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے ۔ میں تمھیں اس کے ساتھ ہر طرح کی اچھائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمھارے نیک ترین لوگوں میں سے ہے ۔
اسماعیل بن علیہ نے حبیب بن شہید سے ، انھوں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت کی ، کہا : حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : تمھیں یاد ہے جب ہم ، میں ، تم اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے تھے؟انھوں نے کہا : ہاں ، ( کہا : ) تو آپ نے ہمیں سوار کرلیا تھا اور ( جگہ نہ ہونے کی بناء پر ) تمھیں چھوڑ دیاتھا ۔
ابو معاویہ نے عاصم احول سے ، انھوں نے مورق عجلی سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن جعفررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے آتے تو آپ کے گھر کے بچوں کو ( باہر لے جاکر ) آپ سے ملایا جاتا ، ایک بار آپ سفر سے آئے ، مجھے سب سے پہلے آپ کے پاس پہنچا دیاگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے بٹھا دیا ، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ایک صاحبزادے کو لایا گیا تو انھیں آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے بٹھا لیا ۔ کہا : تو ہم تینوں کو ایک سواری پر مدینہ کے اندر لایا گیا ۔