قرآني·Qurani
اردو

فضائل الصحابة

331 احادیث · #6169–6499

حدیث 6249 — صحيح مسلم 44:79
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَعَبْدَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ أَبَوَاكَ وَاللَّهِ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ‏.‏
(ابن نمیر اور عبدہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد عروہ ) سے حدیث بیان کی کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے فر ما یا : اللہ کی قسم! تمھا رے دو والد ( والد زبیراور نانا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے ( اُحد میں ) زخم کھا لینے کے بعد ( بھی ) اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلا وے پر لبیک کہا تھا ۔
حدیث 6250 — صحيح مسلم 44:80
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ تَعْنِي أَبَا بَكْرٍ وَالزُّبَيْرَ ‏.‏
ابو اسامہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا کہ وہ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مراد لے رہی تھیں ۔
حدیث 6251 — صحيح مسلم 44:81
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ كَانَ أَبَوَاكَ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ‏.‏
بہی نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے فرمایا : " تمھا رے دونوں والد ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے زخم کھا نے کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلا وے پر لبیک کہا ۔
حدیث 6252 — صحيح مسلم 44:82
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيَّتُهَا الأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہر امت کا ایک امین ہو تا ہے اور اے امت! ہمارے امین ابو عبیدہ ابن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔
حدیث 6253 — صحيح مسلم 44:83
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ، قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلاً يُعَلِّمْنَا السُّنَّةَ وَالإِسْلاَمَ ‏.‏ قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَقَالَ ‏ "‏ هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ ‏"‏ ‏.‏
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ یمن کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انھوں نے کہا : ہمارے ساتھ ایک شخص بھیجیے جو ہمیں سنت اور اسلام کی تعلیم دے ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فر ما یا : یہ اس امت کے امین ہیں ۔
حدیث 6254 — صحيح مسلم 44:84
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ إِلَيْنَا رَجُلاً أَمِينًا ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ لأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلاً أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ حَقَّ أَمِينٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ - قَالَ - فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ‏.‏
شعبہ نے کہا : میں نے ابو اسحٰق کو صلہ بن زفر سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ، انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اہل نجران آئے اور کہنے لگے ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس ایک امین شخص بھیجیے ۔ آپ نے فر ما یا : میں تمھا رے پاس ایسا شخص بھیجوں گا جو ایسا امین ہے جس طرح امین ہو نے کا حق ہے ۔ لو گوں نے اس بات پراپنی نگا ہیں اٹھا ئیں ( کہ اس کا مصداق کو ن ہے ) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روانہ فرما یا ۔
حدیث 6255 — صحيح مسلم 44:85
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
سفیان نے ابو اسحٰق سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حدیث 6256 — صحيح مسلم 44:86
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ لِحَسَنٍ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحْبِبْ مَنْ يُحِبُّهُ ‏"‏ ‏.‏
احمد بن حنبل نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عبیداللہ بن ابی یزید نے نافع بن جبیر سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روایت کی کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق فرمایا : " اے اللہ! میں اس سے محبت کرتاہوں ، تو ( بھی ) اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے ، اس سے ( بھی ) محبت فرما ۔
حدیث 6257 — صحيح مسلم 44:87
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ، بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنَ النَّهَارِ لاَ يُكَلِّمُنِي وَلاَ أُكَلِّمُهُ حَتَّى جَاءَ سُوقَ بَنِي قَيْنُقَاعَ ثُمَّ انْصَرَفَ حَتَّى أَتَى خِبَاءَ فَاطِمَةَ فَقَالَ ‏"‏ أَثَمَّ لُكَعُ أَثَمَّ لُكَعُ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي حَسَنًا فَظَنَنَّا أَنَّهُ إِنَّمَا تَحْبِسُهُ أُمُّهُ لأَنْ تُغَسِّلَهُ وَتُلْبِسَهُ سِخَابًا فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ يَسْعَى حَتَّى اعْتَنَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحْبِبْ مَنْ يُحِبُّهُ ‏"‏ ‏.‏
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے عبیداللہ بن ابی یزید سے ، انھوں نے نافع بن جبیر بن معطم سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دن کو ایک وقت میں نکلا ، کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بات کرتے تھے اور نہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتا تھا ( یعنی خاموش چلے جاتے تھے ) یہاں تک کہ بنی قینقاع کے بازار میں پہنچے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کے گھر پر آئے اور پوچھا کہ بچہ ہے؟ بچہ ہے؟ یعنی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا پوچھ رہے تھے ۔ ہم سمجھے کہ ان کی ماں نے ان کو روک رکھا ہے نہلانے دھلانے اور خوشبو کا ہار پہنانے کے لئے ، لیکن تھوڑی ہی دیر میں وہ دوڑتے ہوئے آئے اور دونوں ایک دوسرے سے گلے ملے ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور اس شخص سے محبت کر جو اس سے محبت کرے ۔
حدیث 6258 — صحيح مسلم 44:88
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، قَالَ رَأَيْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ ‏"‏ ‏.‏
عبیداللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر دیکھا ، اور آپ فرمارہے تھے : " اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔