معتمر بن سلیمان نے کہا : میں نے اپنے والد سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ۔ ( کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک راز میں مجھے شریک کیا ۔ میں نے اب تک وہ راز کسی کو نہیں بتا یا میری والد ہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس کے متعلق پو چھا ، میں نے وہ راز ان کو بھی نہیں بتا یا ۔
عامر بن سعد نے کہا : میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، میں نے حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ کسی زندہ چلتے پھرتے شخص کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا ، بلا شبہ وہ جنت میں جا ئے گا ۔
معاذ بن معاذ نے کہا : ہمیں عبداللہ بن عون نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی ، انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں مدینہ منورہ میں کچھ لوگوں کےساتھ تھا جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی تھے ، پھر ایک شخص آیا جس کے چہرے پر خشوع کا اثر ( نظر آتا ) تھا ، لوگوں میں سے ایک نے کہا : یہ اہل جنت میں سے ایک آدمی ہے ۔ اس آدمی نے دو رکعت نماز پڑھی جن میں اختصار کیا پھر چلاگیا ۔ میں بھی اس کے پیچھے گیا ، پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگیا ، میں بھی ( اجازت ) لے کر اندر گیا ، پھر ہم نے آپس میں باتیں کیں ۔ جب وہ کچھ میرے ساتھ مانوس ہوگئے تو میں نے ان سے کہا : جب آپ ( کچھ دیر ) پہلے مسجد میں آئے تھے تو آپ کے متعلق ایک شخص نے اس طرح کہاتھا ۔ انھوں نے کہا : سبحان اللہ!کسی شخص کے لئے مناسب نہیں کہ وہ کوئی بات کہے جس کا اسے پوری طرح علم نہیں اورمیں تمھیں بتاتا ہوں کہ یہ کیونکر ہوا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک خواب دیکھا اور وہ خواب آپ کے سامنے بیان کیا ۔ میں نے اپنے آپ کو ایک باغ میں دیکھا ۔ انھوں نے اس باغ کی وسعت ، اس کے پودوں اور اس کی شادابی کے بارے میں بتایا ۔ باغ کے وسط میں لوہے کا ایک ستون تھا ، اس کا نیچے کا حصہ زمین کے اندر تھا اور اسکے اوپر کا حصہ آسمان میں تھا ، اس کے اوپر کی جانب ایک حلقہ تھا ، مجھ سے کہا گیا : اس پرچڑھو ۔ میں نے کہا؛میں اس پر نہیں چڑھ سکتا ، پھر ایک منصف آیا ۔ ابن عون نے کہا : منصف ( سے مراد ) خادم ہےاس نے میرے پیچھے سے میرے کپڑے تھام لیے اور انھوں ( عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے واضح کیا کہ اس نے اپنے ہاتھ سے انھیں پیچھے سےاوپر اٹھایا تو میں اوپر چڑھ گیا یہاں تک کہ میں ستون کی چوٹی پر پہنچ گیا اور حلقے کو پکڑ لیا تو مجھ سےکہا گیا : اس کو مضبوطی سے پکڑ رکھو اور وہ میرے ہاتھ ہی میں تھا کہ میں جاگ گیا ۔ میں نے یہ ( خواب ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ باغ اسلام ہے ۔ اور وہ ستون اسلام کا ستون ہے اور وہ حلقہ ( ایمان کا ) مضبوط حلقہ ہے اور تم موت تک اسلام پر رہو گے ۔ "" ( قیس بن عباد نے ) کہا : اور وہ شخص عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔
قرہ بن خالد نے ہمیں محمد بن سیرین سے حدیث سنائی انھوں نے کہا : قیس بن عباد نے کہا : میں ایک مجلس میں بیٹھا تھا جس میں حضرت سعد بن مالک اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی موجودتھے اتنے میں حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے گزرے تو لو گوں نے کہا : یہ اہل جنت میں سے ایک شخص ہے میں اٹھا اور ان سے کہا : آپ کے متعلق لو گ اس اس طرح کہہ رہے تھے ، انھوں نے کہا : سبحان اللہ !انھیں زیبا نہیں کہ وہ ایسی بات کہیں جس کا انھیں ( پوری طرح ) علم نہ ہو ۔ میں نے ( خواب میں ) دیکھا کہ ایک ستون جو ایک سر سبز باغ کے اندر لا کر اس میں نصب کیا گیا تھا ۔ اس کی چوٹی پر ایک حلقہ تھا اور اس کے نیچے ایک منصف تھا ۔ اور منصف خدمت گا ر ہو تا ہے ۔ مجھ سے کہا : گیا : اس پر چڑھ جاؤ میں اس پر چڑھ گیا یہاں تک کہ حلقے کو پکڑ لیا ، پھر میں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : عبد اللہ کی مو ت آئے گی تو اس نے عروہ ثقیٰ ( ایمان کا مضبوط حلقہ ) تھا م رکھا ہو گا ۔
خرشہ بن حر سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں مدینہ منورہ کی مسجد کے اندر ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا ، کہا : اس میں خوبصورت ہیت والے ایک حسین وجمیل بزرگ بھی موجود تھے ۔ وہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ، کہا : انھوں نے ان لوگوں کو خوبصورت احادیث سنانی شروع کردیں ، کہا : جب وہ کھڑے ہوئے تو لوگوں نے کہا کہ جس کو ایک جنتی کا دیکھنا اچھا معلوم ہو ، وہ اس کو دیکھے ۔ میں نے ( اپنے دل میں ) کہا کہ اللہ کی قسم میں ان کے ساتھ جاؤں گا اور ان کا گھر دیکھوں گا ۔ پھر میں ان کے پیچھے ہوا ، وہ چلے ، یہاں تک کہ قریب ہوا کہ وہ شہر سے باہر نکل جائیں ، پھر وہ اپنے مکان میں گئے تو میں نے بھی اندر آنے کی اجازت چاہی ۔ انہوں نے اجازت دی ، پھر پوچھا کہ اے میرے بھتیجے! تجھے کیا کام ہے؟ میں نے کہا کہ جب آپ کھڑے ہوئے تو میں نے لوگوں کو سنا کہ جس کو ایک جنتی کا دیکھنا اچھا لگے ، وہ ان کو دیکھے تو مجھے آپ کے ساتھ رہنا اچھا معلوم ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ جنت والوں کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور میں تجھ سے لوگوں کے یہ کہنے کی وجہ بیان کرتا ہوں ۔ میں ایک دفعہ سو رہا تھا کہ خواب میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ کھڑا ہو ۔ پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا ، میں اس کے ساتھ چلا ، مجھے بائیں طرف کچھ راہیں ملیں تو میں نے ان میں جانا چاہا تو وہ بولا کہ ان میں مت جا ، یہ بائیں طرف والوں ( یعنی کافروں ) کی راہیں ہیں ۔ پھر دائیں طرف کی راہیں ملیں تو وہ شخص بولا کہ ان راہوں میں جا ۔ پس وہ مجھے ایک پہاڑ کے پاس لے آیا اور بولا کہ اس پر چڑھ ۔ میں نے اوپر چڑھنا چاہا تو پیٹھ کے بل گرا ۔ کئی بار میں نے چڑھنے کا قصد کیا لیکن ہر بار گرا ۔ پھر وہ مجھے لے چلا ، یہاں تک کہ ایک ستون ملا جس کی چوٹی آسمان میں تھی اور تہہ زمین میں ، اس کے اوپر ایک حلقہ تھا ۔ مجھ سے اس شخص نے کہا کہ اس ستون کے اوپر چڑھ جا ۔ میں نے کہا کہ میں اس پر کیسے چڑھوں کہ اس کا سرا تو آسمان میں ہے ۔ آخر اس شخص نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اچھال دیا اور میں نے دیکھا کہ میں اس حلقہ کو پکڑے ہوئے لٹک رہا ہوں ۔ پھر اس شخص نے ستون کو مارا تو وہ گر پڑا اور میں صبح تک اسی حلقہ میں لٹکتا رہا ( اس وجہ سے کہ اترنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا ) ۔ کہتے ہیں پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنا خواب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو راہیں تو نے بائیں طرف دیکھیں ، وہ بائیں طرف والوں کی راہیں ہیں اور جو راہیں دائیں طرف دیکھیں ، وہ دائیں طرف والوں کی راہیں ہیں ۔ اور وہ پہاڑ شہیدوں کا مقام ہے ، تو وہاں تک نہ پہنچ سکے گا اور ستون ، اسلام کا ستون ہے اور حلقہ ، اسلام کا حلقہ ہے اور تو مرتے دم تک اسلام پر قائم رہے گا ۔ ( اور جب اسلام پر خاتمہ ہو تو جنت کا یقین ہے ، اس وجہ سے لوگ مجھے جنتی کہتے ہیں)
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے سعید ( بن مسیب ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے ( معلوم ہوا کہ اشعار جو اسلام کی تعریف اور کافروں کی برائی یا جہاد کی ترغیب میں ہو مسجد میں پڑھنا درست ہے ) ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف ( غصہ سے ) دیکھا ۔ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو مسجد میں ( اس وقت بھی ) شعر پڑھتا تھا جب تم سے بہتر شخص ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود تھے ۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اے حسان! میری طرف سے جواب دے ، اے اللہ اس کی روح القدس ( جبرائیل علیہ السلام ) سے مدد کر ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں میں نے سنا ہے یا اللہ تو جانتا ہے ۔
معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابن مسیب سے روایت کی کہ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک حلقے میں کہا جس میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھے : ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا؟اس کے بعد اس کے مانند یوں بیان کیا ۔
حدیث 6386 — صحيح مسلم 44:216
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيَّ، يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَا حَسَّانُ أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ .
زہری نے کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے بتایا کہ انھوں نے حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گواہی طلب کررہے تھے ، ( کہہ رہے تھے : ) میں تمھارے سامنے اللہ کا نام لیتا ہوں! کیاتم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناتھا ۔ " حسان!اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دو ۔ اےاللہ!روح القدس کے ذریعے سے اس کی تائید فرما! " ؟ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہاں ۔
معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت براء بن عاذب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا : " ان ( کافروں ) کی ہجو کرو ، یا ( فرمایا : ) ہجو میں ان کا مقابلہ کرو جبرائیل تمھارے ساتھ ہیں ۔