ابو اسامہ نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق بہت کچھ کہا تھا ( تہمت لگانے والوں کے ساتھ شامل ہوگئے تھے ) ، میں نے ان کو برا بھلا کہا توحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : بھتیجے!ان کو کچھ نہ کہو ، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کو جواب دیتے تھے ۔
محمد بن جعفر نے شعبہ سے ، انھوں نے سلیمان سے ، انھوں نے ابو ضحیٰ سے ، انھوں نے مسروق سے روایت کی کہا : کہ میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو ان کے پاس سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بیٹھے اپنی غزل میں سے ایک شعر سنا رہے تھے جو چند بیتوں کی انہوں نے کہی تھی ۔ وہ شعر یہ ہے کہ : ”پاک ہیں اور عقل والی ان پہ کچھ تہمت نہیں ۔ صبح کو اٹھتی ہیں بھوکی غافلوں کے گوشت سے“ ( یعنی کسی کی غیبت نہیں کرتیں کیونکہ غیبت کرنا گویا اس کا گوشت کھانا ہے ) ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ لیکن تو ایسا نہیں ہے ( یعنی تو لوگوں کی غیبت کرتا ہے ) ۔ مسروق نے کہا کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ حسان رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس کیوں آنے دیتی ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی شان میں فرمایا ہے کہ ”وہ شخص جس نے ان میں سے بڑی بات ( یعنی ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے ) کا بیڑا اٹھایا اس کے واسطے بڑا عذاب ہے ۔ ( حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں شریک تھے جنہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حد لگائی ) ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس سے زیادہ عذاب کیا ہو گا کہ وہ نابینا ہو گیا ہے اور کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کی جوابدہی کرتا تھا یا ہجو کرتا تھا ۔ ( اس لئے اس کو اپنے پاس آنے کی اجازت دیتی ہوں ) ۔
حدیث 6392 — صحيح مسلم 44:222
حَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ قَالَتْ كَانَ يَذُبُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَلَمْ يَذْكُرْ حَصَانٌ رَزَانٌ .
ابن ابی عدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اورکہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدافعت کرتے تھے ، انھوں نے ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مدح والاحصہ ) " وہ پاکیزہ ہیں ، عقل مند ہیں " بیان نہیں کیا ۔
یحییٰ بن زکریا نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے ابو سفیان ( مغیرہ بن حارث بن عبدالمطلب ) کی ہجو کرنے کی اجازت دیجئے ، آپ نے فرمایا : "" اس کے ساتھ میری جو قرابت ہے اس کا کیا ہوگا؟ "" حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت عطا فرمائی!میں آپ کو ان میں سے اس طرح باہرنکال لوں گا جس طرح خمیر سے بال کو نکال لیا جاتاہے ، پھر حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ قصیدہ کہا : اور آل ہاشم میں سے عظمت ومجد کی چوٹی پر وہ ہیں جو بنت مخزوم ( فاطمہ بنت عمرو بن عابد بن عمران بن مخزوم ) کی اولاد ہیں ( ابو طالب ، عبداللہ اور زبیر ) اورتیرا باپ تو غلام ( کنیز کا بیٹا ) تھا ۔
حدیث 6394 — صحيح مسلم 44:224
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ . وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا سُفْيَانَ وَقَالَ بَدَلَ الْخَمِيرِ الْعَجِينِ .
عبدہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت مانگی ۔ اور ( عبدہ نے ) ابو سفیان کا ذکر نہیں کیا اور ۔ ۔ ۔ خمیر کے بجائے ۔ گندھا ہوا آٹا کہا ۔
ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" قریش کی ہجو کرو کیونکہ ہجو ان کو تیروں کی بوچھاڑ سے زیادہ ناگوار ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ قریش کی ہجو کرو ۔ انہوں نے ہجو کی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہ آئی ۔ پھر سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ۔ پھر سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ۔ جب سیدنا حسان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ تم پر وہ وقت آ گیا کہ تم نے اس شیر کو بلا بھیجا جو اپنی دم سے مارتا ہے ( یعنی اپنی زبان سے لوگوں کو قتل کرتا ہے گویا میدان فصاحت اور شعر گوئی کے شیر ہیں ) ۔ پھر اپنی زبان باہر نکالی اور اس کو ہلانے لگے اور عرض کیا کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا پیغمبر کر کے بھیجا ہے میں کافروں کو اپنی زبان سے اس طرح پھاڑ ڈالوں گا جیسے چمڑے کو پھاڑ ڈالتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے حسان! جلدی مت کر! کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ قریش کے نسب کو بخوبی جانتے ہیں اور میرا بھی نسب قریش ہی ہیں ، تو وہ میرا نسب تجھے علیحدہ کر دیں گے ۔ پھر حسان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، پھر اس کے بعد لوٹے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب مجھ سے بیان کر دیا ہے ، قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا پیغمبر کر کے بھیجا ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش میں سے ایسا نکال لوں گا جیسے بال آٹے میں سے نکال لیا جاتا ہے ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسان سے فرماتے تھے کہ روح القدس ہمیشہ تیری مدد کرتے رہیں گے جب تک تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جواب دیتا رہے گا ۔ اور ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ حسان نے قریش کی ہجو کی تو مومنوں کے دلوں کو شفاء دی اور کافروں کی عزتوں کو تباہ کر دیا ۔ حسان نے کہا کہ تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی کی تو میں نے اس کا جواب دیا اور اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ دے گا ۔ تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی کی جو نیک اور پرہیزگار ہیں ، اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور وفاداری ان کی خصلت ہے ۔ میرے باپ دادا اور میری آبرو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو بچانے کے لئے قربان ہیں ۔ اگر کداء ( مکہ کے دروازہ پر گھاٹی ) کے دونوں جانب سے غبار اڑتا ہو نہ دیکھو تو میں اپنی جان کو کھوؤں ۔ ایسی اونٹنیاں جو باگوں پر زور کریں گی اور اپنی قوت اور طاقت سے اوپر چڑھتی ہوئیں ، ان کے کندھوں پر وہ برچھے ہیں جو باریک ہیں یا خون کی پیاسی ہیں اور ہمارے گھوڑے دوڑتے ہوئے آئیں گے ، ان کے منہ عورتیں اپنے دوپٹوں سے پونچھتی ہیں ۔ اگر تم ہم سے نہ بولو تو ہم عمرہ کر لیں گے اور فتح ہو جائے گی اور پردہ اٹھ جائے گا ۔ نہیں تو اس دن کی مار کے لئے صبر کرو جس دن اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا عزت دے گا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے ایک لشکر تیار کیا ہے جو انصار کا لشکر ہے ، جس کا کھیل کافروں سے مقابلہ کرنا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے ایک بندہ بھیجا جو سچ کہتا ہے اس کی بات میں کچھ شبہہ نہیں ہے ۔ ہم تو ہر روز ایک نہ ایک تیاری میں ہیں ، گالی گلوچ ہے کافروں سے یا لڑائی ہے یا کافروں کی ہجو ہے ۔ تم میں سے جو کوئی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرے اور ان کی تعریف کرے یا مدد کرے وہ سب برابر ہیں ۔ اور ( روح القدس ) جبریل علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے ہم میں بھیجاگیا ہے اور روح القدس کا ( کائنات میں ) کوئی مد مقابل نہیں ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کہ میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف بلاتا تھا اور وہ مشرک تھی ۔ ایک دن میں نے اس کو مسلمان ہونے کو کہا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں وہ بات سنائی جو مجھے ناگوار گزری ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتا ہوا آیا اور عرض کیا کہ میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف بلاتا تھا وہ نہ مانتی تھی ، آج اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں مجھے وہ بات سنائی جو مجھے ناگوار ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دیدے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت کر دے ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے خوش ہو کر نکلا ۔ جب گھر پر آیا اور دروازہ پر پہنچا تو وہ بند تھا ۔ میری ماں نے میرے پاؤں کی آواز سنی ۔ اور بولی کہ ذرا ٹھہرا رہ ۔ میں نے پانی کے گرنے کی آواز سنی غرض میری ماں نے غسل کیا اور اپنا کرتہ پہن کر جلدی سے اوڑھنی اوڑھی ، پھر دروازہ کھولا اور بولی کہ اے ابوہریرہ! ”میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خوشی سے روتا ہوا آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! خوش ہو جائیے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول کی اور ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تعریف اور اس کی صفت کی اور بہتر بات کہی ۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ عزوجل سے دعا کیجئے کہ میری اور میری ماں کی محبت مسلمانوں کے دلوں میں ڈال دے ۔ اور ان کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال دے ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! اپنے بندوں کی یعنی ابوہریرہ اور ان کی ماں کی محبت اپنے مومن بندوں کے دلوں میں ڈال دے اور مومنوں کی محبت ان کے دلوں میں ڈال دے ۔ پھر کوئی مومن ایسا پیدا نہیں ہوا جس نے میرے بارے میں سنایا مجھے دیکھا ہواور میرےساتھ محبت نہ کی ہو ۔
حدیث 6397 — صحيح مسلم 44:227
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ كُنْتُ رَجُلاً مِسْكِينًا أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مِلْءِ بَطْنِي وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ وَكَانَتِ الأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمُ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَبْسُطُ ثَوْبَهُ فَلَنْ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي " . فَبَسَطْتُ ثَوْبِي حَتَّى قَضَى حَدِيثَهُ ثُمَّ ضَمَمْتُهُ إِلَىَّ فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ .
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے اعرج سےروایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : تم یہ سمجھتے ہو کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتاہے ، اللہ ہی کے پاس پیشی ہونی ہے ۔ میں ایک مسکین آدمی تھا ، پیٹ بھرجانے پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لگا رہتاتھا ۔ مہاجروں کو بازار میں گہما گہمی مشغول رکھتی تھی اور انصار کو اپنے مال ( مویشی ) وغیرہ کی نگہداشت مشغول رکھتی تھی ، تو ( جب ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کون اپنا کپڑا پھیلائے گا ، پھر جو چیز بھی اس نے مجھ سے سنی اسے ہرگز نہیں بھولے گا ۔ " تو میں نے اپنا کپڑا پھیلا دیا ، یہاں تک کہ آپ نے اپنی بات مکمل کی تو میں نے وہ ( کپڑا سمیٹ کر ) اپنے ساتھ لگا لیا ، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا اس میں سے کوئی چیز کبھی نہ بھولا ۔
مالک بن انس اور معمر نے زہری سے ، انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ، مگر مالک کی حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات پر ختم ہو گئی ۔ انھوں نے اپنی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ یہ بات : " کون اپنا کپڑا پھیلا ئےگا : " آخر تک بیان نہیں کی ،