قرآني·Qurani
اردو

فضائل الصحابة

331 احادیث · #6169–6499

حدیث 6449 — صحيح مسلم 44:278
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ لِي إِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَوُجُوهَ أَصْحَابِهِ صَدَقَةُ طَيِّئٍ جِئْتَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عدی بن حاتم سے روایت ہے ، کہا : میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا تو انھوں نے مجھ سے کہا : سب سے پہلا صدقہ ( باقاعدہ وصول شدہ زکاۃ ) جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحا بہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے چہروں کو روشن کر دیا تھا بنو طے کا صدقہ تھا ، جس کو آپ ( عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آئے تھے ۔
حدیث 6450 — صحيح مسلم 44:279
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَدِمَ الطُّفَيْلُ وَأَصْحَابُهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ دَوْسًا قَدْ كَفَرَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا ‏.‏ فَقِيلَ هَلَكَتْ دَوْسٌ فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : حضرت طفیل ( بن عمرو دوسی ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھی آئے اور آکر عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ( ہمارے قبیلے ) دوس نے کفر کیا اور ( اسلام لا نے سے ) انکا ر کیا ، آپ ان کے خلا ف دعا کیجیے! ( بعض لوگوں کی طرف سے ) کہا گیا ۔ کہ اب دوس ہلا ک ہو گئے ۔ ( لیکن ) آپ نے ( دعا کرتے ہو ئے ) فر ما یا : " اے اللہ !دوس کو ہدایت دےاور ان کو ( یہاں ) لےآ ۔
حدیث 6451 — صحيح مسلم 44:280
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لاَ أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مِنْ ثَلاَثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَتْ سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ‏"‏ ‏.‏
حارث نے ابو زرعہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں بنو تمیم کے ساتھ تین باتوں کی وجہ سے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں محبت کرتا آرہا ہوں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہو ئے سنا ، یہ میری امت میں سے دجال کے خلا ف زیادہ سخت ہوں گے ۔ کہا : اور ان لوگوں کے صدقات ( زکاۃ کے اموال ) آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " یہ ہماری اپنی قوم کے صدقات ہیں ۔ کہا : ان میں سے جنگ میں پکڑی ہو ئی ایک باندی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تھی ۔ آپ نے ان سے فرما یا : " اسے آزاد کردو ۔ یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولا د میں سے ہے ۔
حدیث 6452 — صحيح مسلم 44:281
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لاَ أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلاَثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهَا فِيهِمْ ‏.‏ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ‏.‏
عمارہ نے ابو زرعہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : تین باتوں کے بعد جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں ، میں بنو تمیم سے مسلسل محبت کرتا آرہا ہوں ، پھر اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔
حدیث 6453 — صحيح مسلم 44:282
وَحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَازِنِيُّ، إِمَامُ مَسْجِدِ دَاوُدَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ثَلاَثُ خِصَالٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَنِي تَمِيمٍ لاَ أَزَالُ أُحِبُّهُمْ بَعْدُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَى غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ هُمْ أَشَدُّ النَّاسِ قِتَالاً فِي الْمَلاَحِمِ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ الدَّجَّالَ ‏.‏
۔ شعبی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : تین صفات ہیں جو میں نے بنوتمیم کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں اس کے بعد سے میں ان سے محبت کرتا ہوں اور ( آگے ) اسی معنی میں حدیث بیان کی ، البتہ ( شعبی نے ) یہ کہا : " وہ ( مستقبل میں ہو نے والی ) بڑی جنگوں کے دوران میں لڑنے میں سب لوگوں سے زیادہ سخت ہوں گے ۔ " اور انھوں نے دجال کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث 6454 — صحيح مسلم 44:283
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلاَمِ إِذَا فَقُهُوا وَتَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الأَمْرِ أَكْرَهُهُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ وَتَجِدُونَ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ ‏"‏ ‏.‏
ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں کو کانوں کی طرح پاؤ گے ۔ پس جو جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جب دین میں سمجھدار ہو جائیں اور تم بہتر اس کو پاؤ گے جو مسلمان ہونے سے پہلے اسلام سے بہت نفرت رکھتا ہو ( یعنی جو کفر میں مضبوط تھا وہ اسلام لانے کے بعد اسلام میں بھی ایسا ہی مضبوط ہو گا جیسے سیدنا عمر اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما وغیرہ یا یہ مراد ہے کہ جو خلافت سے نفرت رکھے اسی کی خلافت عمدہ ہو گی ) ۔ اور تم سب سے برا اس کو پاؤ گے جو دو روّیہ ہو کہ ان کے پاس ایک منہ لے کر آئے اور ان کے پاس دوسرا منہ لے کر جائے ۔
حدیث 6455 — صحيح مسلم 44:284
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ ‏"‏ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ وَالأَعْرَجِ ‏"‏ تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الشَّأْنِ أَشَدَّهُمْ لَهُ كَرَاهِيَةً حَتَّى يَقَعَ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏
ابو زرعہ اور اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگوں کو معدنیات کی کانوں کی طرح پاؤگے ۔ ۔ ۔ " ( آگے اسی طرح ہے ) جس طرح زہری کی حدیث ہے ، البتہ ابو زرعہ اور اعرج کی روایت میں ہے : " تم اس ( دین کے ) معاملے میں سب لوگوں سے بہتر انھیں پاؤگے جو اس ( دین ) میں داخل ہونے سے پہلے سب لوگوں سے بڑھ کر اس کو ناپسند کرتے تھے ۔
حدیث 6456 — صحيح مسلم 44:285
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِبِلَ - قَالَ أَحَدُهُمَا صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ ‏.‏ وَقَالَ الآخَرُ نِسَاءُ قُرَيْشٍ - أَحْنَاهُ عَلَى يَتِيمٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابو زناد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اور ابن طاوس نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان عورتوں میں سے بہترین جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں ۔ ان دونوں ( اعرج اورطاؤس ) میں سے ایک نے کہا : قریش کی نیک عورتیں ہیں اور دوسرے نے کہا : قریش کی عورتیں ہیں ۔ جو یتیم بچے کی کم عمری میں اس پر سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں اور اپنے شوہر کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں ۔
حدیث 6457 — صحيح مسلم 44:286
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ أَرْعَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ يَتِيمٍ ‏.‏
عمرو ناقد نےکہا : ہمیں سفیان نے ابو زناد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اعرض سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی جو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے ( آپ سے روایت کرتے تھے ۔ ) اس ( سابقہ روایت ) کے مانند ، اور ابن طاوس نے اپنے والد سے روایت کی جو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے ، مگر انھوں نے اس طرح کہا : " وہ ا پنے بچے کی اس کی کم سنی میں سب سے زیادہ نگہداشت کرنے والی ہوتی ہیں ۔ " انھوں نے " یتیم ( پر ) " نہیں کہا ۔
حدیث 6458 — صحيح مسلم 44:287
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ نِسَاءُ قُرَيْشٍ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِبِلَ أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ ‏.‏
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ سے سنا ، آپ نے فرمایا : "" قریش کی عورتیں اونٹوں پر سواری کرنے والی تمام عورتوں میں سب سے اچھی ہیں ، بچے پر سب سے بڑھ کر مہربان ہیں اور اپنے خاوند کے لئے اس کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہیں ۔ "" ( سعیدبن مسیب نے ) کہا : ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے بعد کہا کر تے تھے : مریم بنت عمران علیہ السلام اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئیں ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔