قرآني·Qurani
اردو

فضائل الصحابة

331 احادیث · #6169–6499

حدیث 6459 — صحيح مسلم 44:288
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِ��ٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَلِيَ عِيَالٌ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ ‏"‏ ‏.‏
معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نکاح کا پیغام بھجوایا ، انھوں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اب میں بوڑھی ہوگئی ہوں اور میرےبہت سے بچے ہیں ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اونٹوں پر ) سوار ہونے والی عورتوں میں سے بہترین " پھر یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا مگر یوں کیا : " اس کی کم سنی میں بچے پر سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں ۔
حدیث 6460 — صحيح مسلم 44:289
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِبِلَ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ ‏"‏ ‏.‏
معمر نے ابن طاوس سے اورانھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، نیز معمر نے ہمام بن منبہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اونٹوں پر سفر کرنے والی عورتوں میں سے بہترین ، قریش کی نیک عورتیں ہیں جو بچے پر اس کی کم سنی میں زیادہ شفقت کرنے و الی ہوتی ہیں اور اپنے خاوند کے مال کی زیادہ حفاظت کرتی ہیں ۔
حدیث 6461 — صحيح مسلم 44:290
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ - حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ هَذَا سَوَاءً ‏.‏
سہیل ( بن ابی صالح ) نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معمر کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
حدیث 6462 — صحيح مسلم 44:291
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آخَى بَيْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَبَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ ‏.‏
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا ۔
حدیث 6463 — صحيح مسلم 44:292
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، قَالَ قِيلَ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ حِلْفَ فِي الإِسْلاَمِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَنَسٌ قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالأَنْصَارِ فِي دَارِهِ ‏.‏
حفص بن غیاث نے کہا : ہمیں عاصم احول نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا : کیا آپ تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اسلام میں حلیف بننا بنانا ( جائز ) نہیں " ؟حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مکان میں قریش اور انصار کو ایک دوسرے کا حلیف بنایا تھا ۔
حدیث 6464 — صحيح مسلم 44:293
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ، سُلَيْمَانَ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالأَنْصَارِ فِي دَارِهِ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ ‏.‏
عبدہ بن سلیمان نے عاصم سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں میرے گھر میں قریش اور انصار کو ایک دوسرے کا حلیف بنایا ۔
حدیث 6465 — صحيح مسلم 44:294
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ حِلْفَ فِي الإِسْلاَمِ وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الإِسْلاَمُ إِلاَّ شِدَّةً ‏"‏ ‏.‏
سعد بن ابراہیم نے ا پنے والد سے ، انھوں نے حضرت جبیربن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " اسلام میں ایک دوسرے کو حلیف بنانے کی ضرورت نہیں ، جو شخص کا جاہلیت میں جو حلف تھا ، اسلام نے اس کی مضبوطی میں اور اضافہ کیا ۔
حدیث 6466 — صحيح مسلم 44:295
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ حُسَيْنٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، - عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قُلْنَا لَوْ جَلَسْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ - قَالَ - فَجَلَسْنَا فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ ‏"‏ مَا زِلْتُمْ هَا هُنَا ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْنَا مَعَكَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ قُلْنَا نَجْلِسُ حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَكَ الْعِشَاءَ قَالَ ‏"‏ أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَكَانَ كَثِيرًا مِمَّا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ ‏"‏ النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ وَأَنَا أَمَنَةٌ لأَصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ ‏"‏ ‏.‏
سعید بن ابی بردہ نے ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے ا پنے والد ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا ۔ پھر ہم بیٹھے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم یہیں بیٹھے رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھی ، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا یا ٹھیک کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے ، پھر فرمایا کہ ستارے آسمان کے بچاؤ ہیں ، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات کا وعدہ ہے وہ آ جائے گی ( یعنی قیامت آ جائے گی اور آسمان بھی پھٹ کر خراب ہو جائے گا ) ۔ اور میں اپنے اصحاب کا بچاؤ ہوں ۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے ( یعنی فتنہ اور فساد اور لڑائیاں ) ۔ اور میرے اصحاب میری امت کے بچاؤ ہیں ۔ جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے ( یعنی اختلاف و انتشار وغیرہ ) ۔
حدیث 6467 — صحيح مسلم 44:296
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو، جَابِرًا يُخْبِرُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ لَهُمْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ ‏.‏ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ لَهُمْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ نَعَمْ ‏.‏ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ لَهُمْ هَلْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ نَعَمْ ‏.‏ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
عمرو ( بن دینار ) نے حضرت جابر ( بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا ، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دیتے تھے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " ایک زمانہ آئے گا کہ آدمیوں کے جھنڈ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ کوئی تم میں سے وہ شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو؟ تو وہ لوگ کہیں گے کہ ہاں! تو ان کی فتح ہو جائے گی ۔ پھر لوگوں کے گروہ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ تم میں سے کوئی وہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کو دیکھا ہو ( یعنی تابعین میں سے کوئی ہے؟ ) لوگ کہیں کے کہ ہاں! پھر ان کی فتح ہو جائے گی ۔ پھر آدمیوں کے لشکر جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ تم میں سے کوئی وہ ہے جس نے صحابی کے دیکھنے والے کو دیکھا ہو ( یعنی تبع تابعین میں سے ) ؟ تو لوگ کہیں گے کہ ہاں ۔ پھر لوگوں کے گروہ جہاد کریں گے تو پوچھیں گے کہ کیا تم میں کوئی ایسا آدمی ہے جس نے اتباع تابعین کو دیکھا ہو؟
حدیث 6468 — صحيح مسلم 44:297
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي، الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ زَعَمَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُبْعَثُ مِنْهُمُ الْبَعْثُ فَيَقُولُونَ انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيكُمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّانِي فَيَقُولُونَ هَلْ فِيهِمْ مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّالِثُ فَيُقَالُ انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ مَنْ رَأَى مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَكُونُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ فَيُقَالُ انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ أَحَدًا رَأَى مَنْ رَأَى أَحَدًا رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یقین تھا ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں سے کوئی لشکر بھیجاجائے گا تو لوگ کہیں گے : دیکھو ، کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کوئی فرد ہے؟تو ایک شخص مل جائے گا ، چنانچہ اس کی وجہ سے انھیں فتح مل جائے گی ، پھر ایک اور لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ ( آپس میں ) کہیں گے : کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو؟تو انھیں اس ( شخص ) کی بنا پر فتح حاصل ہوجائےگی ، پھر تیسرا لشکر بھیجاجائے گا تو کہا جائے گا : دیکھو ، کیا ان میں کوئی ایسا دیکھتے ہو جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں کو دیکھا ہو؟پھر چوتھا لشکر بھیجاجائے گاتو کہا جائے گا : دیکھو ، کیا ان میں کوئی ایسا شخص دیکھتے ہو جس نے کسی ایسے آدمی کو دیکھا ہو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں میں سے کسی کو دیکھا ہو؟تو وہ آدمی مل جائے گا اور اس کی وجہ سے انھیں فتح مل جائے گی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔