قرآني·Qurani
اردو

مقدمة

92 احادیث · #1–92

حدیث 1 — صحيح مسلم #1
جان تو! اللہ تجھ کو توفیق دے جو شخص صحیح اور ضعیف حدیث میں تمیز کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور ثقہ (‏‏‏‏معتبر) اور متہم (‏‏‏‏جن پر تہمت لگی ہو کذب وغیرہ کی) راویوں کو پہچانتا ہو اس پر واجب ہے کہ نہ روایت کرے مگر اس حدیث کو جس کے اصل کی صحت ہو اور اس کے نقل کرنے والے وہ لوگ ہوں جن کا عیب فاش نہ ہوا ہو، اور بچے ان لوگوں کی روایت سے جن پر تہمت لگائی ہے یا جو عناد رکھتے ہیں اہل بدعت میں سے۔ اور دلیل اس پر جو ہم نے کہا: یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا: ”اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ جا پڑو کسی قوم پر نادانی سے پھر کل کو پچھتاؤ اپنے کیے ہوئے پر“۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور گواہ کرو دو مردوں کو یا ایک مرد اور دو عورتوں کو جن کو تم پسند کرتے ہو“ (گواہی کیلئے یعنی جو سچے اور نیک معلوم ہوں) اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے گواہ کرو دو شخصوں کو جو عادل ہوں“ تو ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ فاسق کی بات بے اعتبار ہے اور اسی طرح حدیث شریف سے یہ بھی بات معلوم ہوتی ہے کہ منکر روایت کا بیان کرنا (جس کے غلط ہونے کا احتمال ہو) درست نہیں جیسے قرآن سے معلوم ہوتا ہے اور وہ حدیث وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ شہرت منقول ہے کہ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔“ امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی اسناد سے روایت کیا سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یعنی وہی حدیث جو اوپر گزری کہ جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ سمجھتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے)۔
حدیث 2 — صحيح مسلم #2
ابو بکر بن ابی شیبہ ، نیز محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا : ہم سے محمد بن جعفر ( غندر ) نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے منصور سے ، انہوں نے ربعی بن حراش سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، جب وہ خطبہ دے رہے تھے : کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’مجھ پر جھوٹ نہ بولو ، بلاشبہ جس نے مجھ پر جھوٹ بولا وہ جہنم میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘
حدیث 3 — صحيح مسلم #3
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّهُ لَيَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ حَدِيثًا كَثِيرًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ تَعَمَّدَ عَلَىَّ كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، کہا : مجھے تمہارے سامنے زیادہ احادیث بیان کرنے سے یہ بات روکتی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا : ’’جس نے عمداً مجھ پر جھوٹ بولا وہ آگ میں اپنا ٹھکانا بنا لے
حدیث 4 — صحيح مسلم #4
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جس نے عمداً مجھ پر جھوٹ بولا وہ آگ میں اپنا ٹھکانا بنا لے ۔
حدیث 5 — صحيح مسلم #5
۔ سعید بن عبید نے کہا : ہمیں علی بن ربیعہ والبی نے حدیث بیان ، کہا : میں مسجد میں آیا اور ( اس وقت ) حضرت مغیرہ ( بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کوفہ کے امیر ( گورنر ) تھے : مغیرہ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’مجھ پر جھوٹ بولنا اس طرح نہیں جیسے ( میرے علاوہ ) کسی ایک ( عام آدمی ) پر جھوٹ بولنا ہے ، جس نے جان بوجھ کر مجھ پرجھوٹ بولا وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے ۔ ‘ ‘
حدیث 6 — صحيح مسلم #6
۔ محمد بن قیس اسدی نے علی بن ربیعہ اسدی سے ، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، انہوں نے نبیﷺ سے اسی طرح روایت کی لیکن ’’بلاشبہ مجھ پر جھوٹ بولنا اس طرح نہیں جیسے کسی ایک ( عام ) آدمی پر جھوٹ بولنا ہے ۔ ‘ ‘ ( اس جملہ ) بیان نہیں کیا ۔
حدیث 7 — صحيح مسلم #7
عبیداللہ بن معاذ بن عنبری اور عبد الرحمن بن مہدی دونوں نے کہا : ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے خبیب بن عبد الرحمن سے ، انہوں نے حفص بن عاصم سے روایت کی ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے ۔ ‘ ‘
حدیث 8 — صحيح مسلم #8
۔ ابو بکر بن ابی شیبہ ‘ علی بن حفص نے شعبہ سے ، انہوں نے خبیب بن عبد الرحمٰن سے ، انہوں نے حفص بن عاصم سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، انہوں نے نبیﷺ سے اس کے مانند روایت کی ۔
حدیث 9 — صحيح مسلم #9
یحییٰ بن یحییٰ ‘ ہشیم ‘ سلیمان تیمی ‘ ابو عثمان نہدی سے روایت ہے ، کہا : عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : آدمی کے لیے جھوٹ سے اتنا کافی ہے ( جس کی بنا پر وہ جھوٹا قرار دیا جا سکتا ہے ) کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے
حدیث 10 — صحيح مسلم #10
ابن وہب نے خبر دی کہا : مالک ( بن انس ، نے مجھ سے کہا : مجھے معلوم ہے کہ ایسا آدمی ( صحیح ) سالم نہیں ہوتا جو ہر سنی ہوئی بات ( آگے ) بیان کر دے ، وہ کبھی امام نہیں بن سکتا ( جبکہ ) وہ ہر سنی ہوئی بات ( آگے ) بیان کر دیتا ہے ۔
مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔