محمد بن مثٰنی ‘ عبد الرحمٰن ‘ سفیان ‘ ابو اسحاق ‘ ابو الاحوص نے عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : آدمی کے جھوٹ میں یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے ۔
حدیث 12 — صحيح مسلم #12
۔ محمد بن مثنیٰ نے کہا : میں نے عبد الرحمن بن مہدی سے سنا ، کہہ رہے تھے : آدمی اس وقت تک امام نہیں بن سکتا کہ لوگ اس کی اقتداء کریں یہاں تک کہ وہ سنی سنائی بعض باتوں ( کو بیان کرنے ) سے باز آ جائے ۔
حدیث 13 — صحيح مسلم #13
سفیان بن حسین سے روایت ہے کہ ایاس بن معاویہ مجھ سے مطالبہ کیا اور کہا میں تمہیں دیکھتا ہوں تم قرآن کےعلم سے شدید رغبت رکھتے ہوں تم میرے سامنے ایک سورۃ پڑھو اور اس کی تفسیر کرو تاکہ جو تمہیں علم ہے میں بھی اسے دیکھوں ۔ کہا .میں نے ایسا کیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا جوبات میں تم سے کہنے لگا ہوں اسے میری طرف سے ہمیشہ یاد رکھنا ۔
حدیث 14 — صحيح مسلم #14
ابو طاہر ‘ حرملہ بن یحییٰ ‘ ابن وہب ‘ یونس ‘ ابن شہاب ‘ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ ‘ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کسی قوم کے سامنے ایسی حدیث بیان نہیں کرتے جس ( کے صحیح مفہوم ) تک ان کی عقلیں نہیں پہنچ سکتیں مگر وہ ان میں سے بعض کے لیے فتنے ( کا موجب ) بن جاتی ہیں ۔
محمد بن عبد اللہ بن نمیر ‘ زہیر بن حرب ‘ عبداللہ بن یزید ‘ سعد بن ابی ایوب ‘ ابوہانی نے ابو عثمان مسلم بن یسار سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’میری امت کے آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو تمہارے سامنے ایسی حدیثیں بیان کریں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے آباء نے ، تم اس قماش کے لوگوں سے دور رہنا ۔ ‘ ‘
حدیث 16 — صحيح مسلم #16
۔ حرملہ بن یحییٰ ‘ عبد اللہ بن حرملہ بن عمران تجیبی ‘ ابن وہب ‘ شراحیل بن یزید کہتے ہیں : مجھے مسلم بن یسار نے بتایا کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’آخری زمانے میں ( ایسے ) دجال ( فریب کار ) کذاب ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے آباء نے ۔ تم ان سے دور رہنا ( کہیں ) وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں ۔ ‘ ‘
حدیث 17 — صحيح مسلم #17
ابو سعید اشج ‘ وکیع ‘ اعمش ‘ مسیب بن رافع ‘ عامر بن عبدہ سے روایت ہے ، کہا : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بلاشبہ شیطان کسی آدمی کی شکل اختیار کرتا ہے ، پھر لوگوں کے پاس آتا ہے اور انہیں جھوٹ ( پر مبنی ) کوئی حدیث سناتا ہے ، پھر وہ بکھر جاتے ہیں ، ان میں سے کوئی آدمی کہتا ہے : میں نے ایک آدمی سے ( حدیث ) سنی ہے ، میں اس کا چہرہ تو پہنچانتا ہوں پر اس کا نام نہیں جانتا ، وہ حدیث سنا رہا تھا ۔
حدیث 18 — صحيح مسلم #18
محمد بن رافع ‘ عبد الرزاق ‘ معمر ‘ ابن طاؤس ‘ طاؤس نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : سمندر ( کی تہ ) میں بہت سے شیطان قید ہیں جنہیں حضرت سلیمان رضی اللہ عنہ نے باندھا تھا ، وقت آ رہا ہے کہ وہ نکلیں گے اور لوگوں کے سامنے قرآن پڑھیں گے ۔
حدیث 19 — صحيح مسلم #19
محمد بن عباد ‘ سعید بن عمر ‘ اشعثیٰ ‘ ابن عیینہ ‘ سعید ‘ سفیان ‘ ہشام بن جحیر نے طاوس سے روایت کی ، کہا : یہ ( ان کی مراد بشیر بن کعب سے تھی ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں حدیثیں سنانے لگا ، ابن عباس رضی اللہ عنہ اس سے کہا : فلاں فلاں حدیث دہراؤ ۔ اس نے دہرا دیں ، پھر ان کے سامنے احادیث بیان کیں ۔ انہوں نے اس سے کہا : فلاں حدیث دوبارہ سناؤ ۔ اس نے ان کے سامنے دہرائیں ، پھر آپ سے عرض کی : میں نہیں جانتا کہ آپ نے میری ( بیان کی ہوئی ) ساری احادیث پہچان لی ہیں اور اس حدیث کو منکر جانا ہے یا سب کو منکر جانا ہے اور اسے پہچان لیا ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : جب آپﷺ پر جھوٹ نہیں بولا جاتا تھا ہم رسول اللہﷺ سے احادیث بیان کرتے تھے ، پھر جب لوگ ( ہر ) مشکل اور آسان سواری پر سوار ہونے لگے ( بلا تمیز صحیح وضعیف روایات بیان کرنے لگے ) تو ہم نے ( براہ راست ) آپﷺ سے حدیث بیان کرنا ترک کر دیا ۔
حدیث 20 — صحيح مسلم #20
محمد بن رافع ‘ عبد الرزاق ‘ ابن طاؤس ‘ طاؤس کے بیٹے نے اپنےوالد ( طاوس ) سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہﷺ کی احادیث حفظ کرتے تھے اور رسول اللہﷺ سے ( مروی ) حدیث کی حفاظت کی جاتی تھیں مگر جب سے تم لوگوں نے ( بغیر تمیز کے ) ہر مشکل اور آسان پر سواری شروع کر دی تو یہ ( معاملہ ) دو رہو گیا ( یہ بعید ہو گیا کہ ہماری طرح کے محتاط لوگ اس طرح بیان کردہ احادیث کو قبول کریں ، پھر یاد رکھیں ۔)